برما میں مسلمانوں پر مظالم کیخلاف احتجاج، ریڈزون میں داخل ہونے کی کوشش

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں نے برما میں مسلمانوں پرپر تشددکاروائیوں اور ان کے قتل عامکے خلاف اسلام آباد آبپارہ چوک سے برما کے سفارتخانے تک احتجاجی مارچ کےا مظاہرےن تمام رکاوٹےں عبور کر کے رےڈ زون مےں داخل ہو ئے جہاں پولےس اور مظاہرےن مےں تصا دم ہو گےا پولےس نے مظاہرےن کو برما کے سفارت خانے کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لئے لاٹھی چارج کےا مظاہرے کی قےادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کر رہے تھے نے مظاہرےن کو آگے بڑھنے سے روک دےا اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور مظلوم کا ساتھ دینا اللہ کا حکم ہے ۔ برما کے مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہاہے ۔ زندہ انسانوں کو جلایا اور معصوم بچوں کو ذبح کیا جارہاہے ، ان حالات میں ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے ۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ برما کے سفیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر فوری طور پراپنے ممالک سے نکالا جائے اور پاکستانی سفیر کو بر ما سے واپس بلایا جائے ۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر برما کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ۔ ہمارے حکمران گونگے بہرے اور اندھے ہیں جو برما کے مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد اپنے ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا نہیں ، ہم احتجاج کے ذریعے عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلا کر روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنایاجائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ برما کے سفارتخانے کی طرف مارچ سے پاکستان کو نقصان ہوگا میں انہیں بتاناچاہتاہوں کہ پاکستان کو برما کے سفارتخانے کی طرف مارچ سے نہیں ، حکمرانوں کی بے حسی اور امریکی غلامی کی وجہ س نقصان ہورہاہے ۔ بزدل حکمران امریکی خوف سے برما کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑاہونے کی بجائے برما کے سفارتخانے کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کو آج بھی یقین نہیں کہ وہ وزیراعظم ہیں اگر انہیں یقین ہوتا تو وہ ضرور برما کے مظلوم مسلمانوں کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کھڑے نظرآتے لیکن ان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ وہ مظلوموں کے حق میں ایک لفظ بھی کہنے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور برما نے ایک معاہد ے پر دستخط کررکھے ہیں کہ جہاں بھی اقلیتوں پر ظلم ہوگا ، وہاں کی حکومت کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ درج کرایا جائے گا ۔اس معاہدے کے تحت پاکستان کو برما کی حکومت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ درج کراناچاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ سلامتی کونسل اور او آئی سی کے اجلاس بلا کر برما میں جاری مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کے فوری اقدامات کیے جائیں ۔ اگر روانڈا میں قتل عام پر بین الاقوامی عدالت کوسووو پر براہ راست بمباری کا حکم دے سکتی ہے اور روانڈا کی فوج کے جرنیلوں کو سزائیں سناسکتی ہے تو برما کے جرنیلوں کے خلاف مقدمات کیوں درج نہیں کیے جاسکتے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ راحیل شریف کی کمانڈمیں 45 اسلامی ممالک کی افواج کے اتحاد کے قیام کا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ تھا ، میں راحیل شریف اور مسلم ممالک کے حکمرانوں سے پوچھتاہوں کہ کیا برما میں دہشتگردی نہیں ہورہی ، آخر یہ اتحاد مظلوم مسلمانوں کے کام کب آئے گا؟سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر ایک سرکاری وفد بنگلہ دیش اور برما بھیجا جائے تاکہ بنگلہ دیش کی حکومت اور فوج کو ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کیا جائے کہ برمی مہاجرین کا قتل عام رکوانے اور انہیں پناہ دینے کی بجائے بندوق کی نوک پر انہیں واپس نہ بھجوایا جائے جہا ں انہیں زندہ جلایا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ برما حکومت کو دوٹوک پیغام دیا جائے کہ مسلمانوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ مظاہرین سے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، مشتاق احمد خان ، شمس الرحمن سواتی ، عبدالرحمن معاویہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ روہنگیا(برما) میں مسلمانوں پرہونے والے بد ترین مظالم کے خلاف پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں میلوڈی تا آبپارہ پر امن احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں مرد ،خواتین ،نوجوانوں نے شرکت کی،ریلی میں برمی مسلمانوں کے حق میں اور برمی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی،ظالموں جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے جاتے رہے،ریلی کی قیادت عوامی تحریک کے صوبائی و ضلعی رہنماﺅں نے کی ۔سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہدایات پر برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کےلئے آج نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد سمیت ملک کے 100بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ابراررضاایڈووکیٹ نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جو مذموم اور سفاک مہم برمی حکمرانوں کی سر پرستی میں چل رہی ہے اسکی پر زور مذمت کرتے ہیں۔بڑے پیمانے پر ہونیوالے قتل عام میں معصوم بچوں کو بھی گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عمررےاض عباسی نے کہا کہ عالمی طاقتوں،یو این او،او آئی سی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کی خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر قانون اور ضابطہ انسانی قتل عام کی شدیدمذمت کرتا ہے۔اس موقع پر ریلی میںمیڈیا کوآرڈینیٹر غلام علی خان،میر اشتیاق ایڈووکیٹ،جمشید خان،سردار پھل نصیب،عرفان طاہر،فاروق بٹ،سفےان صابر،اےاز صابر،عاطف محمود،احسان اللہ سیال،احمد ےار گوندل،شیخ اقبال،ملک تنویر،سردار محمد علی لاشاری،ےوتھ ونگ کے عاتطف محمود،سلیم رشید،ضیاءرسول بٹ،حمزہ بٹ،ویمن لیگ کی خواتین،ےوتھ ونگ کے نوجوان،مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے عہدےداران و کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مرکزی رہنما ویمن ونگ مسرت سلطانہ،دیا چوہد ری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج برما میںمسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے،خواتین کی جس طرح بے حرمتی کی جا رہی ہے،عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے،جس کی دنےا میں مثال نہیں ملتی اور انسانی حقوق کا واویلہ کرنے والے چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ترجمان قاضی شفیق نے کہا کہ روہنگیا میں جنگل کا قانون ہے اور اسے لگام دینے والا کوئی نہیں،امت مسلمہ کے حکمران مصلحتوں اور مفادات سے باہر نکل کر اس ظلم کو روکنے میں موثر کردار ادا کریں۔عوامی تحریک شمالی نجاب کے نائب صدر میر واعظ ترین نے کہا کہ مسلم ممالک کی حکومتیں فوری طور پر برما کے سفیر کو بلا کر اپنا شدید احتجاج نوٹ کروائیں اور سفاکیت کو روکنے کے حوالے سے پر زور مطالبہ کریں۔روہنگیا کے شر پسندوں کو چند روز کی ڈیڈ لائن دی جائے اور نتیجہ نہ نکلنے پر مسلم ممالک برما سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیں۔عوامی تحریک کے میڈےا کوآرڈینیٹرغلام علی خان نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے روح فرسا واقعات پر یو این کی خاموشی دنیا میں امن کےلئے بڑا خطرہ ہے۔دوہرے معیار کو ختم کئے بغیر دنیا کو امن کا گہوارہ نہیں بنایا جا سکتا ۔،منہاج القرآن وتھ ونگ کے جاوید قریشی،مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ اسلام آباد کے صدر حمزہ منہاج نے کہا کہ برما میں جاری بربریت انسانی تاریخ کے بد ترین واقعات میں سے ایک ہے۔خون مسلم کی ارزانی پر دنیا کا ہر انسان دکھی ہے۔اقوام متحدہ برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، بے گناہوں کا قتل عام بند کرائے۔ روہنگیا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ ان خیالات کا اظہار راجہ عمران اشرف، راجہ خرم پرویز، سبط الحسن بخاری، افتخار شہزادہ، ملک سجاد و دیگر نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیشنل پریس کلب کے سامنے مظاہرے میں کارکنوں کی ایک کثیر تعداد شریک تھی۔
افتخار شہزادہ ، آغا محمد علی نے حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں عالمی سطح پر آواز بند کرنے اور برما سے سفارتی تعلقات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی نسل کشی بدترین فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔