;;نوبل کمیٹی کی آنگ سان سوچی سے انعام واپس لینے سے معذرت

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) امن کا نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے برما کی قونصلر آنگ سان سوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لینے سے معذرت کر لی ہے۔ ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 3 لاکھ 86 ہزار افراد نے نوبل انعام دینے والی کمیٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے پیش نظر برما کی جمہوری اور انسانی حقوق کے فروغ کا دعویٰ کرنے والی راہنما آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لیا جائے جس کے جواب میں کمیٹی کے ترجمان اولاو جولسٹاد نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ نوبل انعام دے دیا جائے تو واپس نہیں لیا جا سکتا۔ نوبل انعام کی بنیاد رکھنے والے الفریڈ نوبل نے بھی کبھی نوبل انعام دینے کے بعد اس کی واپسی کی حمایت نہیں کی۔ واضح رہے کہ آنگ سان سوچی کے ملک میں ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور لاکھوں مسلمانوں کو برما سے ملک بدر کیا جا رہا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے آنگ سان سوچی سے اس کا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
نوبل کمیٹی