ایم ڈی خیبر بنک نے اپنی برطرفی کا فیصلہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

09 ستمبر 2017

پشاور(بیورورپورٹ)خیبر بنک کے منیجنگ ڈائریکٹر شمس القیوم نے صوبائی حکومت کی جانب سے اپنی برطرفی کا فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میںچیلنج کردیاہے پشاور ہائی کورٹ میں دائر رٹ میں درخواست گذار نے موقف اختیا ر کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے انکی برطرفی کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی غیر قانونی اقدام ہے انہوں نے ہائی کورٹ سے مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع بھی مانگ لی جمعہ کے روز دائر کی گئی رٹ میں ایم ڈی خیبر بنک نے وزیر خزانہ مظفر سید، گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری فنانس، محکمہ کابینہ اور پلاننگ ڈویلپمنٹ سیکرٹری کو فریق بنایا ہے درخواست گزار کے وکیل عبد الروف روحیلہ ایڈوکیٹ کے مطابق انہوں نے رٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایم ڈی کی برطرفی کا فیصلہ بد نیتی پر مبنی ہے کیوںکہ ان کی تعیناتی سے قبل جماعت اسلامی نے خیبر بینک پر اجارہ داری قائم کی تھی اور پوسٹنگ ٹرانسفر وغیرہ ان کے کہنے پر ہوتی تھی تاہم جب شمس القیوم کی بحیثیت منیجنگ ڈائریکٹر تعیناتی ہوئی تو انہوں نے مداخلت نہیں مانی ، جس پر 14اپریل 2016کو مظفر سید نے ایم ڈی خیبر بینک کے خلاف پریس کانفرنس میں بات کی اور ان پر الزامات لگائے جس پر بینک کے بورڈ نے الزامات کو غلط قرار دیکر 16تاریخ کو اخبارات میں مظفر سید کے خلاف اشتہار دیا جس کے بعد مظفر سید نے یہ معاملہ اسمبلی کے فلور پر اٹھایا جس پر صوبائی حکومت نے سینئر وزیر سکندر شیرپاﺅ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بنائی جنہوں نے تحقیقات کے بعد ایم ڈی کو وارننگ دے کر اپنے اقدام پر معذرت طلب کی جس پر انہوں نے معزرت کرلی تاہم وزیر خزانہ کو اس پر تسلی نہیں ہوئی اور کہا کہ اس کو کیوں نہیں ہٹایا گیا اور جب جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت تھوڑنے کا خطرہ محسوس ہوا تو وزیر اعلی نے کابینہ اجلاس میں انہیں سات دن کا نوٹس دیکر انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا،درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو سٹیٹ بینک کے رولز کے خلاف غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا ہے کیوںکہ رولز کے مطابق کسی بھی بینک کے ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹیو کو نکالنے کے لئے 2ماہ قبل نوٹس دیا جاتا ہے جوکہ اس معاملہ میں صرف 7دن کا ہے لہٰذا اس میںقانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔رٹ میں کہاگیا ہے کہ درخواست گذار کو 30ستمبر2017 کو ریٹائر ڈ ہونا ہے لہٰذا عدالت عالیہ کار کردگی کی بنیاد پر انہیں دوسال مزید ملا زمت میں توسیع کے لیے احکامات جاری کرے کیونکہ پہلے ایم ڈی کو بھی توسیع مل چکی تھی ۔ واضح رہے کہ دو دن قبل خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت کابینہ اجلاس میں خیبر بینک کے ایم ڈی شمس القیوم کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی تھی جس میں ان پر وزیر خزانہ مظفر سید کے خلاف اخبار میں اشتہار چھپوا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام لگایا گیا جس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعلی کو پیش کر دی اور اگلے دن ایم ڈی خیبر بینک کی برطرفی کا نوٹس جاری کردیا گیا۔یاد رہے کہ ایم ڈی خیبر بینک نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ مظفر سید کے خلاف اخبار میں اشتہار چھپوایا تھا جس میں وزیر خزانہ پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تھے اشتہار کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے مطالبے پر معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ میں ایم ڈی خیبر بینک کو قصوروار قرار دیا گیاصوبائی حکومت کے ترجمان نے کمیٹی رپورٹ پر ایکشن میں تاخیر کے حوالے سے بتایا کہ نہایت تکنیکی اور پیچیدہ معاملہ تھا اور حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اس سے خیبر بینک کو کسی قسم کا خسارہ ہو اس لیے اس برطرفی کے فیصلے میں اتنا عرصہ لگا۔یاد رہے کہ شمس القیوم 2 اکتوبر 2017 کو ازخود ریٹائر ہونے والے تھے جبکہ ان کی عدم برطرفی کی صورت صوبے کی مقتدر جماعت کو جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کے خدشے کا بھی سامنا تھا۔