بھارت کو پاکستان کی ترقی کسی صورت برداشت نہیں، دشمنوں نے گھیرا تنگ کردیا:فضل الرحمن

09 ستمبر 2017
بھارت کو پاکستان کی ترقی کسی صورت برداشت نہیں، دشمنوں نے گھیرا تنگ کردیا:فضل الرحمن

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحماننے کہا ہے کہ آج پاکستان میں سیاسی بحران یا کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ہمارے گرد ہمارے دشمنوں نے گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ سی پیک چین اور پاکستان کی ترقی کا محور بن رہاہے‘ بھارت پاکستان کی ترقی کسی صورت برداشت نہیں۔ ہم 15 سال قبل دہشت گردی کے خلاف جن پالیسیوں کا حصہ بنے ان کے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دنیا کی ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں آزادی کی تحاریک دہشت گردی کے زمرے میں آنے لگی ہیں۔ ریاست کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی نقشہ نہیں‘ اس کا مورد الزام کشمیر کمیٹی کو قرار دیا جاتا ہے جبکہ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بات آل پارٹیز حریت کانفرنس و پاکستان چیئر کے وفد سے پارلیمنٹ ہا¶س میں ملاقات کے دوران کہی۔ مولانا فضل الرحمان نے وفد کو کشمیر کمیٹی کی کارکردگی سے آگاہ کیا‘ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی کوششوں پر روشنی ڈالی اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حالات کچھ بھی ہوں کشمیر کے مسئلہ سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔ 70 سال سے پرانا مسئلہ میں مدوجذر آئے امید و مایوسی کے لمحات آئے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور تحریک میں قدم بہ قدم ان کے ساتھ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے نائن الیون کے بعد پوری دنیا کی ترجیحات تبدیل ہو گئیں۔ آزادی کے لئے لڑی جانے والی جنگیں بھی دہشت گردی کے زمرے میں آنے لگیں۔ ہم نے دہشت گردی کو اندرونی مسئلہ بنانے کی بجائے عالمی سطح پر جنگ کا حصہ بن گئے۔ ہماری پوری دفاعی قوت اس جنگ میں جھونک دی گئی اس کا اثر کشمیر کی آزادی پر بھی پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی کشمیریوں کی مایوسیوں کو امید میں تبدیل نہیں کر سکے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام نے تحریک برپا کر رکھی ہے اور وہ خدشات کا شکار ہیں۔ پاکستان کی پالیسی واضح نہیں تاہم اس نے ایک پوزیشن لے رکھی۔ کشمیریوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی ہیں لیکن وہ ان تمام سوالات کو نظر انداز کر کے کلمہ کی بنیادپر اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے ہیں۔ کشمیری آدھا تیتر آدھا بٹیر والا حل قبول نہیں کریں گے وہ رائے شماری سے کم کوئی بات قبول نہیں کریں گے۔ آنے والے تین سال ہماری تحریک کے لئے اہم ہیں جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود اور سابق امیر عبدالرشید ترابی نے بھی خطاب کیا اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت بیان کی۔