اندھیرا۔۔۔اجالا

09 ستمبر 2017
اندھیرا۔۔۔اجالا

یادش بخیر لاہور میں ایک خواجہ اسلام ہوا کرتے تھے،شائد اب بھی ہوں۔ بنیادی طور پران کاتعلق ضلع قصور سے تھا۔انہوں نے پاکستان کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب (BEST SELLER BOOK)©"موت کا منظر" لکھی ۔تو فلم "دلہن ایک رات کی" کی ہیروئن "نمی " اسے پڑھ کرکئی سال تک ڈیپریشن کا شکار رہی جب سالوں بعدصحت یاب ہوئی اور فلمی دنیا کی طرف دوبارہ رجوع کیا تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ اور وہ اپنی موت تک پھر شو بز میں نہ آسکی ۔غیر ممالک میں آباد پاکستانی تارکین وطن ،خاص طور پر مغربی ممالک میں رہائش پذیر ہمیشہ ایک انجانے سے "احساس جرم "میں مبتلا رہتے ہیں۔دریافت کرنے پر بھی وہ اس کی وضاحت نہیں کرسکتے ۔تو ایسے بے شمار لوگ خواجہ اسلام کو بیرون ممالک سے بھاری رقوم بھیجتے رہتے کہ "موت کا منظر"شائع کروا کے اسے عوام میں مفت تقسیم کردیا جائے ۔مفت کی تقسیم کا علم نہیںالبتہ اس شخص نے دونوں ہاتھوں سے دولت اکٹھی کی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پسماندہ زندگی سے نکل کر خوشحالی کی تمام منازل طے کرلیں۔بنیادی طورپر کوئی مستند عالم دین ہونے کی بجائے وہ دیواریںلکھتے(WALL CHACKING)کاکام کرتے تھے ،"اولی العزم"انسان تھے ۔کراچی سے اپنی اس کتاب کی مشہوری کیلئے دیواریں لکھنا شروع کیں تو سائیکل پر ہی پنڈی سے بھی آگے نکل گئے۔ایسے ہی ایک محمد شبیرنامی ،دیواریں لکھنے والا ایک پینٹر تھا۔اسے کسی طبیب نے شوگر کے علاج کی ایجاد کردہ اپنی دوائی کی مشہوری کیلئے خواجہ اسلام کی طرز پر ہی کراچی سے پنڈی تک دیواریں لکھنے کا آرڈر دیا۔اجرت طے پاگئی تو محمد شبیر اپنے کام کا آغاز کرنے کراچی روانہ ہوگیاابھی اس نے دوچار دیواریں ہی لکھی ہوں گی کہ اس کے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور اس نے شوگر کی دوائی کی خصوصیات لکھنے کے بعد آخر میں اپنے گھر کا پتہ لکھ دیا۔موبائل فون ابھی ایجادنہ ہوئے تھے اورP.T.C.Lکا فون بھی اس کے گھر نہیں تھا لہذا محکمہ ڈاک کی ایک سہولت"بذریعہ وی پی پی"کا فائدہ اٹھایا۔چند دنوں کے بعد محمد شبیر جسے"شبیرا پینٹر"بھی کہا جاتا تھا،کے گھر آرڈرآنا شروع ہوگئے ابتدائی دنوں کی کمائی سے اس نے ایک معروف چوک میں اپنا"مطب" بھی قائم کرلیا اور ساتھ والے ایک ریسٹورنٹ کے مالک کو دوست بنا کر اب اس کا فون نمبر بھی دیواروں پر لکھنا شروع کردیا۔پہلے والے حکیم صاحب کو معلوم ہواتو وہ مرنے مارنے پر تل آئے مگراب تو شبیرا پینٹراپنا تیر چلا چکا تھا،آرڈر بھی اسے ہی مل رہے تھے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال میں ہی محمد شبیر کے پاس اتنی رقم آگئی کہ اس نے ایک بڑے پلازہ میں دو دکانیں خرید لیں۔اور دیکھتے ہی دیکھتے کوٹھی،کار،ڈرائیوراور دیگر عملہ بھی معرض وجودمیں آگیا۔ اب محمد شبیر اپنے نام کے ساتھ "تحسین"تخلص کرنے لگا۔پھر محمدشبیر کوMS میں تبدیل کرکے اپنی ایک نئی شخصیت قائم کی " ایم ۔ایس تحسین"(ماہر امراض شوگر)۔ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو بینک بیلنس بھی بڑھا۔اب گوجرانوالہ حکیم صاحب کیلئے ایک چھوٹا شہر بن چکا تھا۔لہذاایک بہت بڑی قیمت پرلاہور کے ایک پوش علاقے میں"کستوری کورس"اور "شفائے معدہ"کا ایک ادارہ کھڑا کرلیا۔"وال چاکنگ"کا دور گیا تو کپڑے کے بینروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے فلیکس اور سکن بھی وجود میں آگئیں۔میڈیا آزاد ہوا تو "کمرشل بریک" نے تشہیر کے تمام نقش کہن مٹا دیئے یا کم کردیئے۔سوشل میڈیا بھی ساتھ ساتھ چلا۔پھر مذہب کے مقدس نام کو بیچنے والوں اور عطائی حکیموں نے "طب نبوی"کے نام سے ایک نیا علم ایجاد کرکے کاروبار کیا اور آج کل عوم کی صحت کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپوں میں کھیل رہے ہیں۔حالانکہ یہ وہی پرانا طب یونانی کا علم ہے اور وہی نسخہ جات ہیں۔ جسے اس سے قبل حکیم سعید احمد شہید جیسے نابغہ روز گار اوردیگر ا طباءصرف طب یونانی کے نام سے چلارہے تھے اور عوام الناس ان سے مستفید بھی ہورہے تھے۔اور صحت یاب بھییہاں تک لکھ چکا تھا کہ تحریک پاکستان کے کارکن اور معروف ماہر تعلیم میاں ایم ۔آئی شمیم کی وفات کی خبر ملی اور دل کو کسی پل قرار نہ آیا۔ میاں صاحب کی عمر اس وقت اٹھانوے سال تھی۔اور مستعدی کا یہ عالم کہ ابھی تک ایک نجی کالج کے پرنسپل کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔بلکہ جس روز وفات ہوئی کالج جانے سے قبل ناشتہ کررہے تھے ۔کالج کی تمام تقریبات میں شامل ہوتے۔آخری بار چند ماہ قبل انہیں 23مارچ کو یوم قرار داد پاکستان پر تقریر کرتے سنا،گھن گرج ،جوش وولولہ لفاظی وربط ایسا شاندارکہ نصف گھنٹے تک خطاب کرنے کے باوجود کہیں کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے کہ میاں صاحب98سال کے ہیں ۔ ،اب تک لاکھوں کی تعداد میں ان کے شاگرد کئی محکموں میں خدمات سرانجام دے کر شائد ریٹائر بھی ہوچکے ہوں گے۔لیکن ان کا اصل مرتبہ ومقام وہ تھا،جس پر انہیںہمیشہ ناز رہا کہ آغاز شباب پر انہوں نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوکرتحریک پاکستان کیلئے کام کیا۔اپنے علاقہ ملیر کوٹلہ سے گردونواح میں "بن کے رہے گا پاکستان"کانعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے ہندوستان کے دوردراز علاقوں تک گئے۔پاکستان بن گیا تو گوجرانوالہ کو اپنا مسکن اور تعلیم کو مقصد بنا لیا۔میں نے انہیں اپنے بچپن میں کہیں سائیکل پر دیکھا ہو گا۔ البتہ جب سائیکل کی سواری"باعث عزت"نہ رہی تو انہیں ہمیشہ پیدل ہی چلتے پایا۔گویا مسلسل سفر میں ہوں مگر آہستہ خرامی سے کیونکہ وہ جذباتیت پر تحمل کو ترجیح دیتے تھے۔اب میرے شہر میں ان ساکوئی باقی نہیں رہا۔بڑے لوگ اٹھتے جارہے ہیں۔آنے والی نسل میںکوئی ان سانظر نہیں آرہا۔تشویش بجاہے کہ مستقبل کی شکل کیسی ہوگی۔جس روز میاں ایم آئی شمیم کا جنازہ اٹھا اسی دن ڈاکٹر"رتھ فاﺅ"کو بھی کراچی میں دفن کردیا گیا۔جو اپنے عالم شباب میں 1960میں ایک بار کراچی آئیں۔"کوڑھ"کے لاعلاج مریضوں کو دیکھا تو ان کا علاج کرنا شروع کردیا۔دھن کی ایسی پکی کہ 1996ءمیں جب تک اقوام متحدہ نے پاکستان کو "کوڑھ سے آزاد"ملک قرار نہ دے دیا اپنی لگن میں رہیں۔پاکستان کے کئی شہروں میں اس کے علاج کے سنٹر قائم کرکے عالم انسانیت میں ایک درخشاں باب کا اضافہ کیا۔اٹک سے ہمارے دوست کیپٹن شاہجہاں ہمیشہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ قبرستانوں کی حالت زار پر بھی کچھ لکھا جائے ۔فی الحال تو یہ کالم قبرستان کے مکینوں پر ہے ،قبروں پر تو"کفن فروش"بیٹھے۔جو ایک قبر کو بھی کئی کئی بار فروخت کردیتے ہیں ۔یہاں تک کہ پھول بھی اٹھاکر دوبارہ بیچ دیتے ہیں ۔مجھے احمد مشتاق کا شعر یادآگیاکہ
رہ گیا مشتاق دل میں رنگ یادرفتگاں
پھول مہنگے ہوگئے،قبریں پرانی ہوگئیں