گلوبل چینج ایمپکٹ سٹڈی سینٹر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لاسکتا ہے

09 ستمبر 2017

اسلام آباد(نوائے وقت نیوز)وفاقی وزیر براے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ گلوبل چینج ایمپکٹ سٹڈی سینٹر اپنے تحقیقی کام سے موسمیاتی اور آب وہوا کی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بات یہاں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی اثرات بارے مطالعاتی مرکز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے سلسلہ میں طلب کردہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان کو اس مطالعاتی مرکز کی کارکردگی کے بارے میںبریف کیا گیا۔گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈی سینٹر کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر خالد بنوری نے ادارہ کے کاموں اور کارکردگی بارے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مطالعاتی مرکز آب وہوا کی تبدیلیوں کی سائنسی تحقیق کا کام مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کرتا ہے۔ یہ محکمہ آب وہوا کی تبدیلیوں کے مسائل، استعداد سازی اور وسائل کی تقسیم بارے کام کرتا ہے۔چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر خالد بنوری نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان کو بتایا کہ یہ محکمہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق ،مشاورت اور ایڈووکیسی کاکام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 20پراجیکٹس اور 100پبلیکشنیزمکمل کرچکے ہیں۔وفاقی وزیر کو زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے چین میں بروئے کارلائے جانے والے طریقہ کے بارے میں بتایا گیا۔ جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم یہ ٹےکنالوجی پاکستان میں لانے بارے متعلقہ محکموں سے مشاورت کے بعد چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو آب وہوا کی تبدیلیوں کے ماہر ڈاکٹر شہناز ، پانی اور گلیشیالوجی شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ضیاءہاشمی نے دریاﺅں میں طغیانی آنے اور سیلابوں کے بارے میں بتایا۔ وفاقی وزیر نے اس شعبہ کو زیادہ فعال اور متحرک بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں گرین پاکستان پروگرام اور آب وہوا کی تبدیلیوں بارے وزیراعظم کے فوکل پرسن رضوان محبوب نے بتایا کہ موجودہ حکومت حفظان صحت، ماحول کی صفائی ، پانی اور نکاسی آب جیسے امور پر توجہ دے رہی ہے تاہم ہمیں رویہ جاتی تبدیلیوں پر توجہ بھی دینا ہوگی اور ہماری مہم کا مقصد سیاستدانوں ، پالیسی سازوں، دانشوروں ، نجی شعبہ ، میڈیا کو بھی رویہ جاتی تبدیلی لانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اجلاس میں یونیسف کی ڈپٹی نمائندہ کرسٹین منٹر یوے نے بھی اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔