سی ڈی اے کے غیر قانونی کنکشن کیخلاف سرکا ری مکا نا ت پر چھا پے

09 ستمبر 2017

اسلام آباد(وقائع نگار) سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن محمد یاسر پیر زادہ کی ہدایت پر اسلام آباد کے سرکاری مکانات میں پانی،بجلی اور گیس کے غیر قانونی کنکشنز اور واٹر سپلائی لائنوں پر نصب غیر قانونی موٹروں کے خلاف جاری آپریشن میںسرکاری گھروں سے21 غیر قانونی موٹریں اتار کر ضبط کر لی گئیں ۔یہ غیر قانونی موٹریں مختلف سیکٹروں کے ایف اور جی ٹائپ کے مکانات میں نصب تھیں۔ غیر قانونیموٹریں اور کنکشنوں کے خاتمہ کی اس مہم کا آغاز 23.08.2017 سے ہوا جس کے دوران ٹیموں نے 541 گھروں کا معائنہ کیا اور غیر قانونی موٹروں کو اتار کر ضبط کر لیا گیا۔ یہ آپریشن شہر کے مختلف سیکٹروں بشمولG-6/3 ،G-6/4 ،F-6/3 ،F-6/4 ،G-8/2 ،I-8/1 اور سیکٹرG-10/3 میں کیا گیا۔ آپریشن میں سی ڈی اے کے ساتھ آئیسکو اور سوئی گیس کے متعلقہ افسران اور عملہ حصہ لے رہا ہے۔ آپریشن کے پہلے تین روز موٹروں کو ضبط کرنے کے باعث لوگوں نے از خود غیر قانونی موٹریں اتارنا شروع کر دی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے سرکاری گھروں میں بجلی ،گیس اور پانی کے غیر قانونی کنکشنز اور موٹریں ختم کرنے کے لیے حکم دیا تھا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن محمد یاسر پیرزادہ نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس میں سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ، واٹر سپلائی ڈائریکٹوریٹ کے متعلقہ افسران اور عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ سرکاری مکانات میں جاری اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ تھانے کی پولیس نفری کے علاوہ ضلعی انتظامیہ سے مجسٹریٹ کی بھی معاونت حاصل کی گئی ہے۔اس ضمن میں F ،Gاورکیٹیگری II- سرکاری رہائش گاہوں کے معائنہ کی تکمیل پر E کیٹیگری کی سرکاری رہائش گاہوں میں غیر قانونی کنیکشنز اور پانی کی موٹریں اتارنے کے لیے 9 ستمبر سے آپریشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پراگریس رپورٹ تیار کی گئی ہے تاکہ 11 ستمبر2017 ءکو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی جا سکے۔ سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن محمد یاسر پیر زادہ نے کہا کہ غیر قانونی کنکشنز اورپانی کی پائپ لائنوں پر تنصیب شدہ موٹروں کے خلاف آپریشن سے نہ صرف دور رس مثبت نتائج حاصل ہو نگے بلکہ بہترین سروس ڈیلیوری کی راہ میں حائل مشکلات ،رکاوٹوںاور کمزوریوں کا ازالہ بھی ممکن ہو سکے گا۔ آپریشن سے متعلق تیار کی جانے والی رپورٹ کی بنیاد پر جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے گی تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔