آرمی چیف کے خطاب کی روشنی میں خارجہ پالیسی وضع کی جائے

09 ستمبر 2017

اسلام آباد ( وقائع نگار خصوصی) سپرےم شےعہ علماءبورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحرےک نفاذ فقہ جعفرےہ کے سربراہ آغا سےد حامد علی شاہ موسوی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آرمی چیف کے یوم دفاع پر خطاب کی روشنی میں خارجہ پالیسی وضع کرے ،پاکستان کو در پیش مشکلات ،ناکامیاں موجودہ کمزور خارجہ پالیسیکا نتیجہ ہے چار سال بعد بننے والا وزیر خارجہ خدا جانے کیا گل کھلائے گا؟ گزشتہ 16سال کے زائد عرصہ سے افغانستان میں موجود ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد امریکی فوج اپنے مقاصد میں ناکام ہے ،اس دور کا سب سے بڑا بدمعاش امریکی صدر ٹرمپ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے جس نے بر سر اقتدار آتے ہی اسلامی دہشتگردی کی اختراع ایجاد کی اور پاکستان کو دہشتگردی کا سر چشمہ قرار دے کر رویہ بدلنے کی دھمکی دی اور ڈو مور کا مطالبہ کیاجس پرعسکری و سول قیادت کا فقیدالمثال اتفاق رائے قومی یکجہتی کی علامت ہے، ان خواتین عصمت طہارت نے کوچہ و بازاروں ، شہروں ،درباروں میں جہاں بھی قدم رکھا قربانی حسین ؑ اور سانحہ کربلا کو نہ صر ف روشن کیا بلکہ بنی امیہ کے مظالم کی دھجیاں بکھیر کر اُنہیں تا قیامت ذلیل و رسوا کر دیا۔ حضرت زینب بنت علی نے دیگر خواتین عصمت طہارت کے ہمراہ کوچہ وبازاروں اور درباروں میں سانحہ کربلا کو روشن اور اجاگر کیا اور بنی امیہ کے مظالم کی دھجیاں بکھیر کر اُنہیں تا قیامت ذلیل و رسوا کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے شہادت سیدہ زینب ؑ کی مناسبت سے یوم شریکة الحسین ؑ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔