نیشنل ایکشن پروگرام اور پنجاب پولیس؟

09 ستمبر 2017
نیشنل ایکشن پروگرام اور پنجاب پولیس؟

امر واقعہ یہ ہے کہ پروگرام ضربِ عضب اور ردالفساد پر جی جان کےساتھ عمل کرتے ہوئے عساکر پاکستان کے جوانوں اور اعلیٰ افسروں نے قُربانیاں دیں اور قُربانیوں اور شہادتوں کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے‘ اس کی مثال اقوام عالم کی عسکری تاریخ میں کم کم ہی ملتی ہے۔ یہ حقائق اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ تحفظ قوم و وطن کے ہر کڑے وقت میں عساکر پاکستان نے جی جان کے ساتھ اپنے فرائض کو پورا کیا خواہ اس راہ میں اسے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیوں نہ کرنے پڑے ہوں۔ مُلک کا کوئی ایسا کونہ کھدرا نہیں ملتا جہاں شرپسندوں‘ دہشت گردوں نے امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کو نکیل ڈالنے کیلئے عساکر پاکستان نے اپنا فرض ادا نہ کیا ہو؟ حتیٰ کہ سرکاری محکموں اور نیم سرکاری اداروں میں بدعنوان عناصر کی سرکوبی اور تطہیر کیلئے عساکر پاکستان کا تعاون حاصل کیا گیا۔ اگرچہ مُلک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بھی عسکری ادارے کو اس حوالے سے کچھ فرائض تفویض کئے گئے ہیں مگر اسے کراچی اور سندھ جیسے اختیارات تفویض نہیں کئے جاسکے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ عسکری ادارے کے حکام اپنے فیصلوں میں بااختیار نہیں ہیں‘ اگر ایسا ہوتا تو اس صوبے میں بھی سرکاری اداروں میں بدعنوان اہلکاروں کی تطہیر کا کام شروع ہوگیا ہوتا۔
ایسے حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب میں ایکشن پلان کا اجراءاس صوبے کی پولیس کیلئے ”سونے کی چڑیا“ ثابت ہورہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایکشن پلان کے تحت پنجاب میں بھی مکان کے کرایہ داروں کے تفصیلی کوائف متعلقہ تھانوں کی پولیس کو جمع کرنے کا فرض سونپا گیا۔ مگر متعلقہ تھانوں کی پولیس اپنے اپنے علاقوں میں مکانوں کے کرایہ داروں کے کوائف خود اکٹھا کرنے کی بجائے کرایہ داروں کو تھانوں میں ”حاضری“ کیلئے بلاتی ہے۔ جہاں کرایہ داروں کو یہ کہہ کر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے کہ آپ خواہ برسوں سے کرایہ کے مکان میں رہائش رکھتے ہیں۔ مگر آپ نے ابھی تک اپنے کوائف فراہم نہیں کئے۔ اب آپکے خلاف ”پرچہ درج“ کریں گے۔ گرفتاری ہوگی اور عدالت سے آپ کو ضمانت کرانا پڑےگی۔ یہ حقیقت پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے اس علاقے کی بات ہے جو وزیراعلیٰ کی اقامت گاہ اور دفاتر یعنی ایوان وزیراعلیٰ کے ناک کے عین نیچے ہے۔ پنجاب پولیس کے ایسے رویوں اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنے سے کسی بھی سادہ دل شہری کا خوفزدہ ہوجانا کوئی اچنبے کی بات نہیں، کرایہ داروں کو تھانوں میں بلاکر مجرموں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ گویا جس غریب عوام جس میں کرایہ دار بھی شامل ہیں کی کمائی سے پولیس خاطر خواہ رقم کی تنخواہیں وصول کرتی ہے اسی نے اپنی غریب عوام کو زچ کرنا شروع کررکھا ہے پولیس کو اس سے کوئی غرض نہیں نہ ہی وہ اس حقیقت کو سننے او رتسلیم کرنے پر آمادہ ہوتی ہے کہ متعلقہ کرایہ دار اس شہر بلکہ صوبے کے جانے پہچانے افراد میں شمار ہوتا ہے اور کئی برسوں سے کرایہ کے مکان میں رہائش رکھتا ہے مگر جس پولیس کو عوام کی خدمت کے برعکس صرف اور صرف ارباب اختیار کے مفادات کے تحفظ اور ان کی فرمانبرداری ہی کے اصول پر تربیت ہوئی ہو اسے اپنے حقیقی فرائض کی انجام دہی سے کیا غرض ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرایہ داروں کو ہزاروں روپے رشوت دینا پڑتی ہے۔ تب پولیس سے چھٹکارا پانے میں کامیابی حاصل ہوتی۔گذشتہ دنوں نوائے وقت کے میگزین میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز نے کہا تھا کہ ”سماج شمنوں کیخلاف گھیرا تنگ ، نگرانی خود کررہا ہوں“۔ مگر سماج دشمن تو پولیس ہی کی چھتری تلے پل بڑھ رہے ہیں۔ ان کا گھیرا تنگ کیسے ممکن ہے۔ انہیں تو عوام میں مایوسی‘ بددلی اور خوف و ہراس کی فضا سے ہمکنار کرنے کی کھلی چھٹی ہے ایسے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے معاشرہ امن و امان اور سکون سے کب ہمکنار ہوسکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ بدقسمتی سے پنجاب پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے راستے سے ہٹا کر اربابِ حکومت کی فرمانبرداری اور ذاتی مقاصد کے حصول کی خاطر استعمال کرنے کی جس کٹھالی میں تربیت کی گئی ہے۔ اس نے امن وامان کو برقرار رکھنے والے اس ادارے کی روایات و اقدار کو بیخ دین سے ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اب ا س ادار ے کے نزدیک عوام کی خدمت، اس کے تحفظ، اس کی رہنمائی پاسبانی، دلجوئی اور ہمدردی کے احساس کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں رہی۔ اربابِ اختیار ہی کی اطاعت گزاری ،انکے انکے اہل خاندان کا تحفظ ان کی ہمنوائی اور ان کے اشارہ ابرو پر انسانوں کی جانوں سے کھیلنا ان کیلئے معمول کی بات بن چکا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جس خطے میں بھی وہاں کے امن و امان برقرار رکھنے کے ادارے کو ارباب اختیار نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ وہاں کی عوام حکمرانوں کی ”رعایا“ کی شکل اختیار کرکے اس ادارے کے رحم و کرم پر رہ گئی اور بالآخر ”مکافات عمل“ کی روایت در آنے پر اسے نجات ملی۔وجوہ خواہ کچھ بھی ہوں اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل کرانے کیلئے سویلین اداروں کی ایسے عسکری اداروں کی باقاعدہ نمائندگی ہونی ضروری ہے جو دہشت گردوں ، امن و اماں کے بدخواہوں اور معاشرے کے بدعنوان عناصر کےخلاف صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ اگر ایکشن پلان کے تحت کرایہ داروںکے کوائف یکجا کرنے کےلئے پولیس تھانوں میں عسکری ادارے کے فرد کو بھی تعینات کیا جاتا تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ کرایہ داروں کو تھوڑی بہت دیر ہونے کی صورت میں پولیس کے ہاتھوں توہین آمیز سلوک سے واسطہ نہ پڑتا، نہ ان غریب کرایہ داروں کو رشوت دیکر پولیس سے نجات حاصل کرنی پڑتی ہے۔
یہ اُس صوبے کی پولیس کی ناقابلِ اصلاح صورت حال کی داستان ہے جس کے حکمران ہر معاملے میں اپنی شفافیت کا اپنے منہ سے ڈھنڈورا پیٹتے تھکتے نہیں ہیں حالانکہ کسی بھی حکمران طبقہ کی” گڈ گورننس“ کی حقیقی صورتحال جاننے کیلئے عوام کی جان و مال کے تحفظ اور معاشرے کو عدل و انصاف کی فوری فراہمی سمیت امن و امان برقرار رکھنے والے ادارے کی بے داغ کارکردگی اور صلاحیت سے آگاہی لازمی ہے اگر متعلقہ ادارہ یا محکمہ اس حوالے سے مقررہ معیار اور عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو پھر اربابِ اقتدار کی طرف سے عوامی فلاح وبہبود کےلئے سرگرم ہونے اور گڈ گورننس کے تمام دعوے اور نعرے محض سراب اور خود نمائی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھا کرتے۔ پنجاب پولیس کی غیر تسلی بخش صورتحال کی بنیاد پر اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑےگا کہ پنجاب کے عوام کو اس حوالے سے جس محرومی اور عدم تحفظ کے احساسات نے گھر رکھا ہے اس کا اندازہ نہیںلگایا جاسکتا۔