”امت مسلمہ اُٹھ کھڑی ہو“

09 ستمبر 2017

اسلامی ریاست کے قیام کا اولین مقصد اور نصب العین تو یہی ہونا چاہئے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں کے اتحاد و اشتراک پر مبنی ہو، بلکہ وہ ایسا سیاسی ڈھانچہ فراہم کرے کہ تمام امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر متفق ہو، تاکہ سیسہ پلائی دیوار کو کسی صورت گرایا نہ جا سکے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اغیار کے سامنے جب سر تسلیم خم کیا تو اس کے نتائج بھی ہم نے ہی بھگتے۔ کشمیر، فلسطین یا کہ برما ہو ہم کسی ایک نکتے پر بھی اکٹھے ہو کر کسی فورم یا کسی سطح پر اپنی بات منوانے سے قاصر رہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اورتفرقہ میں نہ پڑو۔ ہنود و یہود کی سازشیں ہر دور میں پنپتی رہیں ۔ لیکن اس کا حل بھی ہیں قرآن مجید میں ہی ملتا ہے کہ ”مسلمان اپنے قلبی رفیق صرف مسلمانوں کو ہی بنائیں۔ اس کے برعکس صورتحال یہ ہے کہ اغیار پر بھروسے سے نہ صرف ہمارا اعتماد ٹوٹا بلکہ ہم کو ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اسلامی نظام کا مقصد اور نصب العین صرف اور صرف امت مسلمہ کا عروج اور بلندی ہے لیکن اس کے لئے بنیادی شرط، عدل، مساوات اور حق کی خاطر باطل سے ٹکرا جانے کی صلاحیت کا موجود ہونا از حد ضروری ہے۔ اسی لئے اقبال نے فرمایا کہ :
اخوت اسکو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے
بے تابی کیلئے دل میں اپنے مسلمان بھائی کیلئے تڑپ موجود ہونی چاہئے کہ تمام امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائے ہم ایک دوسرے کو اس لحاظ سے مضبوط نہیں کرتے جیسا کہ کرنا چاہئے۔ اور تقویت کیلئے محبت کا ہونا لازمی ہے۔ آپ نے فرمایا مومن مومن کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک عمارت کے مختلف حصوں کی ہوتی ہے۔ ہر حصہ دوسرے حصے کی تقویت کا باعث بنتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس اخوت اور بھائی چارے کی اساس ہمیں آغاز سفر سے ہی رکھنی چاہئے تھی اسکی بنیاد کیا ہے اس کی بنیاد وہ جواب دہی اور احتساب کا اصول ہے کہ جس کی بنیاد گھر سے شروع ہونی چاہیئے تھی، جب بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں تو دشمن بھی حملہ کرنے سے ڈرتا ہے۔ دوسرا سوال باوقار زندگی کا ہے کہ قوموں کی زندگی میں وہ کیا عناصر ہیں جو اس کو باوقار بناتے ہیں تاکہ عالم اسلام میں اس معاشرے کی عظمت کی دھاک بیٹھ جائے وہ عنصر بہادری کا ہے کہ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جائے، یاد رہے کہ جب قوموں میں اجتماعی تحفظ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو بڑے سے بڑے دشمن کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اجتماعی تحفظ کو امن کا معاون ستون سمجھا جاتا ہے اس کا مقصد ظلم کو طاقت سے روکنا اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ کو عالمی برادری پر اُجاگر کرنا کہ لوگ اس مسئلہ کے مضمرات کا بھی احاطہ کر سکیں، برما کے مسلمان اس وقت جس ظلم اور بربریت کا شکار ہیں ان کا احوال رونگٹے کھڑے کرنے کیلئے کافی ہے۔ ترکی کے صدر کا بیان اور جرا¿ت لائق تحسین ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے کہ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ تمام مسلمان دنیا کے جس خطے میں ہوں ایک جسم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے تحفظ کیلئے اس اجتماعی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی خطے کے مسلمان پر ہونے والے ظلم کو روک سکے۔”ولسن“ اسی بات پر زور دیتا ہے کہ مظلوم کو بچانے کیلئے اجتماعی طاقتیں موجود رہنی چاہئیں اور اس اجتماعی طاقت کیلئے وفاداری، اعتماد، اقتصادی مضبوطی، اشتراک عمل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج ہمیں بحیثیت مجموعی اس طرز عمل کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے فکری زوال پر نظر ڈالتے ہوئے امت مسلمہ کے فکری بحران کو جگا سکیں اور اسلامی اتحاد میں جو تعطل ہے اس کا سدباب کر سکیں ہم نے مغربی طاقتوں کی خوشنودی سے خسارہ ہی اٹھایا بلکہ سازشوں کا شکار ہو کر رہ گئے جب بھی ہم اسلامی دنیا اور اسلامی ریاست کے بارے میں سوچتے ہیں غیر اسلامی دنیا میں سازش کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ہر حالت کٹ مرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ تو ان کا اتحاد کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو دنیا کے سامنے ایک غلط انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اور سوچی سمجھی سکیم کے تحت بے اعتمادی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے اس لئے تمام مسلمانوں قوموں کو یہ اہتمام کرنا پڑے گا کہ وہ متحد ریاستیں ہیں اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔