برمی مسلمانوں کی لاشوں پر امریکی سیاست

09 ستمبر 2017
برمی مسلمانوں کی لاشوں پر امریکی سیاست

1948ءمیں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد میانمار (برما) حکومت نے بتدریج انڈیا اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ان لوگوں کو غیر قانونی شہری ڈکلیئر کرنا شروع کر دیا اور اسی بنیاد پر 1982ءمیں اُنہیں میانمار کی شہریت سے محروم کر دیا، 1982ءکے سٹیزن شپ قانون لاگو ہونے کے بعد روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت تعلیم، صحت، روزگار، سفری، ازدواجی، سیاسی اور مذہبی حقوق سے محروم کر دی گئی۔ روہنگیا تحریک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا میانمار کے مقامی لوگ تھے جو بعدازاں مسلمان ہو گئے، کچھ روہنگیا اپنا تعلق صدیوں پہلے برصغیر میں آباد ہونےوالے عرب تاجروں سے بھی جوڑتے ہیں جبکہ میانمار حکومت کا مو¿قف ہے کہ روہنگیا مسلمان وہ بنگالی آبادکار ہیں جو گوروں کے دور میں وہاں آباد ہوئے تھے اور اسی بناءپر میانمار حکومت اُنہیں واپس بنگلہ دیش بھیجنے کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے، مگر کچھ بھی ہو انسانی حقوق کیلئے جدوجہد پر نوبل انعام لینے والی آنگ سان سوچی کی حکومت میں اس قدر انسانیت کی تذلیل ایک لمحہ فکریہ ہے جسے دیکھ اور سن کر سینے میں دل رکھنے والے انسان کی روح تڑپ جاتی ہے۔ مسلمان ہونا تو ان کا مذہب ہے لیکن اس سے پہلے وہ انسان ہیں، انسانوں کے ساتھ جس سفاکی اور درندگی کا مظاہرہ دیکھنے کو آ رہا ہے میانمار کے زوال اور اللہ کے عذاب سے اُسے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یہ صرف برماوی مسلمانوں کو تہہ تیغ نہیں کیا جا رہا بلکہ برما خود ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے جو بھی اس سازش کا حصہ ہے اُس کی تباہی یقینی ہے کیونکہ ان روہنگیائی مسلمانوں کیلئے دعا مدینہ اور مکہ کے حرمین میں ہو رہی ہے۔ معاملات تہہ تک جانے سے پتہ چلتا ہے کہ یہود و ہنود دنیا کے وسائل پر قبضہ جمانے کیلئے سازشوں کے تانے بانے بن کر وحشت و بربریت کی کیسی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔
میانمار یا برما ساڑھے 5 کروڑ آبادی والا ملک ہے جسکی سرحدیں چین، انڈیا، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور لاﺅس سے ملتی ہیں۔ اسکے ایک طرف سمندر ہے۔میانمار اپنی 5 لاکھ فوج کے ساتھ دنیا کی 12ویں بڑی فوجی قوت ہے جسکی ایک تگڑی بحریہ اور ائر فورس بھی ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کی کل تعداد 20 لاکھ سے اوپر ہے جس میں 13 لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں۔ روہنگیا کسی جگہ کا نہیں بلکہ ایک نسل کا نام ہے۔ اس نسل کی اکثریت مسلمان اور تھوڑے سے ہندو ہیں۔ برما کے صوبے آراکان میں تقریباً 13 لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ آراکان میں آباد راخائن نسل کے لوگوں کو یہ خطرہ ہے کہ روہنگیا مسلمان ان پر اکثریت حاصل کر لیں گے اس لیے وہ ان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ راخائن کا تعلق بدھ مذہب سے ہے۔ آراکان صوبے میں انکی آبادی روہنگیا مسلمانوں کے برابر ہے۔ دونوں میں کئی عشروں سے تناﺅ کی سی کیفیت ہے اور ہلکی پھلکی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔1962ءسے 2011ءتک برما پر فوجی حکومت رہی اور حالات کنٹرول میں رہے۔ لیکن 2012ءمیں جیسے ہی ملک کا تمام نظام نو منتخب جمہوری حکومت نے سنبھالا روہنگیائی مسلمانوں اور راخائن بدھوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے، کہا جاتا ہے کہ 3 روہنگیا مسلمانوں نے ایک راخائن عورت کا ریپ کر کے اس کو قتل کر دیا، جواباً راخائن نے مسلمانوں پر حملہ کر کے 10مسلمان قتل کر دئیے۔ تاہم کچھ دیگر ذرائع کے مطابق مسلمانوں کے کئی گاﺅں تباہ کیے گئے، 650کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا گیا جبکہ 80ہزار بے گھر ہوئے۔ حکومت نے کرفیو لگا کر آراکان صوبے کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا جس سے فسادات تو کم ہوگئے لیکن مسلمانوں پر زندگی سخت ہو گئی اور بڑے پیمانے پر روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ حالات مزید خراب ہوئے تو روہنگیا مسلمان علاقہ چھوڑنے لگے۔ 2016ءتک کم از کم 1 لاکھ روہنگیا کشتیوں کے ذریعے مختلف ملکوں میں پناہ لے چکے تھے جن میں ملائیشیا، آسٹریلیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ ان سفروں میں مختلف حادثات میں کئی سو لوگ سمندر میں ڈوب گئے۔ جولائی 2017 تک کم از کم 73 ہزار روہنگیا مسلمانوں نے کسی نہ کسی طرح بنگلہ دیش کی سرحد عبور کر کے وہاں پناہ لے لی۔ اس وقت 4 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان دنیا کے مختلف ملکوں میں پناہ گزین ہیں۔ لیکن پچھلے ایک ہفتے سے روہنگیاکے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔ امریکن نیوز ایجنسیوں کے مطابق راخائن ملیشیا اور برمی فوج مل کر مسلمانوں کےخلاف آپریشن کر رہی ہیں جس میں اب تک کم از کم 400 مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ جبکہ انکے 2600 گھر جلائے گئے ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں 73000مزید مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ اسی دوران کم از کم 26 مختلف چوکیوں پر مسلمانوں کے حملے میں درجنوں سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ترکی 5سالوں میں اب تک 70 ملین ڈالر کی امداد روہنگیا مسلمانوں کیلئے بھیج چکا ہے۔ طیب رجب اردگان نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش اگر روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دے دے تو وہ انکا خرچ اٹھانے کیلئے تیار ہے لیکن بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق انہیں ابھی تک پناہ گزینوں کیلئے کہیں سے کوئی امداد نہیں ملی۔ یہ جھوٹ ہے کہ بنگلہ دیش روہنگیا مسلمانوں کو مکمل طور پر دھتکار چکا ہے۔ 1978ءمیں بذریعہ طاقت 2 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش بدر کیا گیا تھا۔ 2012ءسے اب تک 1 لاکھ 40ہزار روہنگیا مسلمان بھاگ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں یوں وہاں پناہ گزینوں کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ کے قریب ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے معاملے کی رسمی مذمت کی ہے، پاکستان اس معاملے میں کیا کر سکتا ہے اس پر آخر میں دوبارہ بات کرینگے۔ حیران کن انداز میں روہنگیا میں مسلمانوں پر ہونے پر ظلم پر اس وقت سب سے زیادہ شور امریکہ اور اس کے اتحادی مچا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے دباﺅ پر اقوام متحدہ کی معائنہ کار ٹیم کو میانمار بھیجا گیا جس کو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 2015ءمیں مختلف امریکی تنظیموں نے بیان دیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے مکمل قتل عام کا خطرہ ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یو ایس ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ کے مطابق میانمار حکومت راخائن بدھوں کا ساتھ دے رہی ہے قتل عام میں۔ میانمار حکومت نے الزام لگایا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے 2300 گھر جلا دئیے تو انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فوراً اس کی تردید کرتے ہوئے بیان دیا کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ اقوم متحدہ کے خصوصی نمائندے یانگ ہی لی کے مطابق میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتی ہے۔ پوپ فرانسس نے بھی اس قتل عام کی پرزور مذمت کی ہے اور تو اور عراق، شام اور کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام پر چپ رہنے والی ملالہ بھی بول پڑی ہے اور عالمی برادری سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے .... کیوں؟
برما یا میانمار تیل و گیس کے ذخائر سے مالامال ایک انتہائی اہم سٹریٹیجک لوکیشن پر واقع ہے۔ یہاں پر چین اور بھارت اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی تگ و دو کر رہے ہیں اور چین اپنی بے پناہ سرمایہ کاری کی بدولت بھارت پر حاوی ہے۔ میانمار میں چینی اثر و رسوخ امریکہ کیلئے ناقابل برداشت ہے، امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کے نام پر وہ میانمار میں ڈیرے ڈال لے، یوں نہ صرف وہاں تیل و گیس کے محفوظ ذخائر سے استفادہ کر سکے بلکہ چین کی ناکہ بندی بھی کر سکے، یہ ہے اصل وجہ جس کیلئے امریکہ اور برطانیہ پاگل ہو رہے ہیں۔ آپ نوٹ کیجیے میانمار میں قائم جمہوری حکومت کی کرتا دھرتا آنگ سان سوچی کو فوجی حکومت ختم کرنے پر امریکہ نے امن کے نوبل انعام سے نوازا تھا اور اِس وقت اُسی کے حکم پر فوج روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ اس وقت کئی چینی کمپنیاں میانمار میں کام کر رہی ہیں لیکن میانمار کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ چین وہاں باغیوں کو بھی سپورٹ کر رہا ہے جو میانمار فوج پر حملے کر رہے ہیں، چین اس وقت کم از کم 30ہزار روہنگیا مسلمانوں کو اپنے کیمپوں میں پناہ دے چکا ہے، چین نے میانمار حکومت کو پیش کش کی ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے معاملہ پر بنگلہ دیش کےساتھ انکے معاملات حل کر سکتا ہے لیکن میانمار حکومت نے چینی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ پاکستان میں بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ کم از کم 2 لاکھ روہنگیا مسلمان اس وقت بھی پاکستان میں مقیم ہیں جو مختلف وقتوں میں پاکستان آئے تھے۔ روہنگیا مسلمانوں نے قیام پاکستان سے پہلے پاکستان میں شامل ہونے کی تحریک چلائی تھی اور انکے لیڈر خود کو محمد علی جناح کہتے تھے، موجودہ مسئلے پر پاکستان کا ردعمل فی الحال دفتر خارجہ کے ایک بیان تک ہی محدود ہے، سوشل میڈیا پر بیٹھے کچھ ”مجاہدین“ کو پاک فوج پر تنقید کرنے کا نیا بہانہ مل گیا ہے۔