سوچی سے نوبل پرائز واپس لیا جائے!

09 ستمبر 2017
سوچی سے نوبل پرائز واپس لیا جائے!

کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بظاہر انسان بنایا ہوتا ہے لیکن ان کے باطن میں ایک درندہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے جو ہر انسان کو کھا جانا چاہتا ہے لیکن چونکہ اس درندہ صفت انسان کو ایک دماغ بھی ملا ہوتا ہے جس کی بدولت وہ اپنے پرائے کا فرق محسوس کر سکتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اپنے قبیلے سے واقف ہوتا ہے اور اسی کو اپنا ہمدرد سمجھتا ہے اور دوسرے قبیلے کے ہر فرد کو اپنا دشمن گردانتا ہے۔ میانمار کی وزیراعظم سوچی کا شمار بھی انہی درندہ صفت انسانوں میں ہوتا ہے جس نے روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے اور اس کے باوجود اسے اپنے کئے پر کوئی پشیمانی نہیں بلکہ وہ ان مظلوم اور بے گناہ مسلمانوں ہی کو قصوروار ٹھہرا رہی ہے۔ ”مہذب“ دنیا.... میرا مطلب ہے یورپ‘ امریکہ وغیرہ نے روہنگیا میں ہونے والے ان مظالم اور دہشت گردی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس پر حیرت تو ہوتی ہے لیکن یہ سوچ کر کہ چونکہ روہنگیا کے رہنے والے مسلمان ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ سب کچھ اس مہذب دنیا کی مرضی اور حکم سے ہی ہو رہا ہے ورنہ ایک چھوٹے سے ملک کی حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ دنیا کی ایک بہت بڑی کمیونٹی یعنی مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی ظالمانہ کارروائیاں کر سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مسلم امہ بھی اس مسئلے پر مسلسل خاموش ہے اور مسلم ممالک کی یہ مجرمانہ خاموشی بالآخر ان کی تباہی پر منتج ہو گی کیونکہ اگر روہنگیا میں رہنے والے غریب اور مفلس‘ لاچار مسلمانوں کی ہلاکتوں پر مسلم امہ خاموش رہے گی تو کل کو پوری مسلم امہ کا بھی یہی حال ہو گا اور پوری دنیا میں کوئی اس کا پرسان حال نہ ہو گا۔ کیا عبرت حاصل کرنے کے لئے عراق‘ لیبیا‘ شام اور یمن اور افغانستان کی تازہ مثالیں کافی نہیں؟ سعودی عرب میں ہونے والی انتالیس مسلمان ممالک کی کانفرنس کے شرکاءنے خود اپنے مستقبل کے خلاف فیصلہ سنا دیا تھا اور انتالیس مسلم ممالک کی افواج کس ملک اور کس قوم کے تحفظ کے لئے معرض وجود میں آئی ہے؟ اس کا جواب کون دے گا؟ ان حالات میں صرف دو غیرت مند مسلم ممالک ہیں جنہوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ ہماری طرح محض مذمتی قرارداد منظور نہیں کیں میری مراد ترکی اور ایران سے ہے طیب اردوان نے بنگلہ دیش پہنچنے والے مہاجر روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کے لئے اشیائے خورد و نوش اور ادویات کا بھاری بھر کم ذخیرہ بھیجا ہے اور میانمار حکومت کو بھی تنبیہہ کی ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے ورنہ ان کے خلاف عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ اسی طرح ایرانی حکومت نے روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کا اعلان کیا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ میانمار کی وزیراعظم سوچی وہ خاتون ہے جسے امن کا نوبل پرائز مل چکا ہے۔ اب اس کی یہ ظالمانہ حرکتیں دیکھ کر سمجھ نہیں آتی کہ ایسی درندہ صفت خاتون کو امن نوبل پرائز کیونکر دیا گیا؟ اور اگر نوبل پرائز کمیٹی سے یہ غلطی سرزد ہو ہی چکی ہے تو اسے عوامی مطالبے اور سوچی کی موجودہ روش اور درندگی کے باعث نوبل پرائز واپس لے لینا چاہئے ورنہ دنیا کہے گی کہ جانوروں کو اور وہ بھی آدم خور درندوں کو امن کا نوبل پرائز دیا جاتا ہے۔سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا میں عوام کی آواز ہے۔ یعنی ”آوازِ خلق‘ نقارہ¿ خدا“ کے مصداق نوبل پرائز کمیٹی کو عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اور اپنے نوبل پرائز کی عزت و وقار سلامت رکھنے کے لئے سوچی سے فوراً امن کا نوبل پرائز واپس لے لینا چاہئے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف چین‘ روس‘ ایران اور ترکی کے دوروں پر نکل پڑے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد پاکستان نے اپنا رخ امریکہ سے موڑ کر اپنے ہمسایہ ممالک کی طرف کیا ہے اور ان کے تعاون سے اپنی آئندہ کی پالیسی اور لائحہ عمل تیار کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی ”ڈومور“ رٹ جاری ہے لیکن جنوبی ایشیاءکے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان اپنے فیصلے اب آزادانہ طور پر کرنا چاہتا ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ پر انحصار کم یا ختم کیا جائے۔ چین کے اشتراک سے پاکستان نے جو ترقیاتی‘ صنعتی اور تجارتی ترقی کا کام میاں نوازشریف کی قیادت میں شروع کیا تھا‘ وہ اب پایہ¿ تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔ بھارت اس منصوبے سے کافی خوفزدہ اور سہما ہوا ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں افغانستان کی مدد سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے اور اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جس کا ذکر چھ ستمبر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنی تقریر میں کیا ہے۔ ہمارے سپہ سالار نے پوری دنیا سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جو واقعی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان دہشت گردی کی اس اندھی جنگ میں بہت کچھ گنوا بیٹھا ہے۔ اب باقی دنیا کی باری ہے کہ وہ بھی دہشت گردی ختم کرنے کے لئے کچھ قربانیاں دے۔ وزیر خارجہ کے یہ دورے بہت اہم ہیں۔ ان دوروں سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو گی اور تمام ہمسایہ ممالک کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔ یوں جنوبی ایشیاءمیں معیشت کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کے نئے باب کا آغاز ہو گا‘ جس کا خواب ہم پاکستانی ایک مدت سے دیکھ رہے ہیں۔