نجی ٹی وی کو انٹرویو‘ نثار کے سیاسی مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو سے جہاں سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے وہاں مسلم لیگی کارکنوں میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ ایک بار پھر چودھری نثار علی خان کے ’’سیاسی مستقبل‘‘ کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کے تقابل سے متعلق سوال کے جواب میں جو کہا ہے وہ ان کے پرانے خیالات ہیں اور مسلم لیگیوں سے پوشیدہ نہیں تاہم ایک بات واضح ہے چودھری نثار پارٹی میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے سوا کسی کو اپنا لیڈر نہیں مانتے۔ نثار علی خان کے قریبی ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان پارٹی میں کوئی بغاوت کر رہے ہیں اور نہ ہی وہ پارٹی میں کوئی الگ دھڑا بنائیں گے۔ اسی طرح چودھری نثار علی خان جو پچھلے 4 سال سے کسی ٹی وی چینل کو انٹرویو نہیں دے رہے تھے اچانک انٹرویو کے لئے آمادگی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان نے پچھلے ایک ماہ کے دوران مسلم لیگ کے کسی رکن پارلیمنٹ سے ملاقات نہیں کی تاکہ اس سے گروپ بندی کا تاثر نہ ملے۔ چودھری نثار علی خان کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو پارٹی کے لئے نقصان دہ ہو۔ ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان کا انٹرویو ’’فرمائشی‘‘ ہے وہ آئندہ چند دنوں میں مزید انٹرویو دیں گے۔
نثار انٹرویو