منشیات برآمدگی کیس‘ سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی ہے۔جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،تو ملزمہ کے وکیل رفاقت حسین نے عدالت کو بتایا کہ ہری پور کی رہائشی ملزمہ مسرت جبین پر 2015 میں ہیروئن برآمد کیے جانے کا الزام تھا،ملزمہ کے پرس سے دو کلو ہیروئن برآمد کی گئی تھی،ٹرائل کورٹ نے ملزمہ کو چھ سال قید کی سزا سنائی تھی، ہائیکورٹ نے ملزمہ کی سزا کو برقرار رکھا، دو کلو ہیروئن ہینڈپرس میں آ ہی نہیں سکتی تو برآمد کیسے کر لی گئیملزمہ تین سال نو ماہ سے جیل میں قید ہے اسے بری کیا جائے۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ ہیروئن چھپانے کے ایسے ماہرین موجود ہیں جو ڈیڈھ کلو ہیروئن کی مقدار کو کپڑوں کے اندر آسانی سے چھپا سکتے ہیں، آج کل تو میدے میں کیپسول کھا کر آدھا کلو ہیروئن چھپا سکتے ہیںاگر آپ نے تجربہ کرنا ہے تو آپکو دو دن کیلیے ایک ماہر شخص کے حوالے کر دیتے ہیں، جسٹس دوست محمد کے دلچسپ مکالمہ کے بعدملزمہ کے وکیل جج صاحب کی تجویز پر نہیں نہیں کرتے رہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کیونکہ عورت ہے اس لیئے اس کی سزاء میں کمی کردیتے ہیں چند ماہ تک عورت کی سزاء پوری ہوجائے گئی ، اگر آپ بریت پر زور دیں گے تو اس کے لیئے نوٹس جاری کرکے فریقین کو سنانا ضروری ہے ، ملزمہ کے وکیل کی جانب سے بریت پر اسرار کیا گیا جس پر عدالت نے بریت کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر تے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلیے ملتوی کر دی ہے۔
منشیات