جے یو آئی ، جے یو پی ، دفاع پاکستان کونسل، جماعت الدعوة کے زیراہتمام میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے

09 ستمبر 2017

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) جے یو آئی اور جے یو پی کے زیر اہتمام جمعہ کے روز یہاں میانمار کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئےاور برما کی وزیراعظم آنگ شانگ سوچی کے پتلے نذر آتش کئے گئے۔ جے یو آئی (ف) کی ضلعی تنظیم کے زیر اہتمام پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیاگیا۔ جے یو آئی (ف) اور خانقاہ نقشبندیہ کے زیر اہتمام چوہڑ چوک پشاور روڈ اور جے یو پی کے زیر اہتمام میلاد نگر سے فوارہ چوک تک احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ جے یو آئی کے پریس کلب کے باہر مظاہرے کی قیادت ضلعی امیر مولانا تاج محمد خان مولانا عبدالغفار توحیدی‘ ڈاکٹر ضیاءالرحمان‘ ارشد عباسی‘ مولانا مسرت اقبال عباسی‘ پروفیسر محمد زبیر ملک سفیر عالم‘ مولانا اشرف جنجوعہ‘ مولانا ظہیر الدین‘ مولانا جاوید مدنی‘ مولانا قاسم توحیدی‘ جمیل قریشی نے کی۔ مقررین نے برما حکومت کے مظالم کی شدیدمذمت کرتے ہوئے مسلم ممالک سے برما کی بدھ حکومت کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور حکومت پاکستان سے برما کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا اور عالمی طاقتوں کی خاموشی کی پر زور مذمت کی۔ جے یوآ ئی اور خانقاہ نقشبندیہ کے زیر اہتمام پشاور روڈ پر چوہڑہ چوک سے بوہڑ چوک تک احتجاجی ریلی کی قیادت جمعیت کے مرکزی رہنما پیر عبدالشکور نقشبندی‘ انجمن شہریان کینٹ کے صدر عبدالصمد ملک‘ مولانا نصیر الدین عثمانی‘ مولانا شفیق الرحمان مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری محمد حنیف گجر‘ مولانا ابوبکر گورمانی‘ مولانا سیف اﷲ‘ پیر خطیب الرحمان‘ پروفیسر سجاد احمد نے کی اور پاکستان کے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ میانمار کے مسلمانوں کو برما کی بدھ حکومت سے بدترین مظالم سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ جے یو پی کے زیر اہتمام میلاد نگر سے فوارہ چوک تک نکالی گئی احتجاجی ریلی کی قیادت جمعیت کے رہنما¶ں طارق منیر بٹ‘ حافظ محمد حسین کے علاوہ ممتاز علماءکرام حافظ محمد صالحین‘ حافظ سعید اختر صدیقی‘ حافظ محمد حنیف‘ مفتی منان اقبال‘ سید ساجد حسین شاہ‘ راجہ فہیم کیانی اور محمد رمضان پروانہ نے کی۔ شرکاءریلی نے جماعتی پرچم‘ بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر برما حکومت کے مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ مقررین نے ریلی سے خطاب اور منظور کی گئی قراردادوں کے ذریعے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کی حکومت میانمار کے مظلوم مسلمان پناہ گزینوں کو ملک میں آنے کی اجازت دے‘ او آئی سی ترکی کے صدر طیب اردگان کے موقف اور اعلان کی تائید کرے اور حکومت پاکستان برما کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات منقطع کرے۔دفاع پاکستان کونسل، جماعةالدعوة کی طرف سے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت جماعة الدعوة راولپنڈی کے قائم مقام مسﺅل خلیق الرحمن ، سول سوسائٹی کے چئیرمین راجہ ظفر اقبال،ایڈووکیٹ نعیم گل، قاری آصف الرحمن ، محمد احمر و دیگر نے کی اس موقع پر شرکاءکی جانب سے برمی فوج ، بدھسٹ دہشت گردوں اور بھارت و امریکہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر برما میں انسانیت سوز مظالم کیخلاف تحریریں درج تھیں۔ احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر برما کا پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خلیق الرحمن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے کردار پر افسوس ہے ، طیب اردوان کی جانب سے متاثرہ مسلمانوں کی مدد پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،مسلمان ملک برما سے سفارتی تعلقات ختم کریں۔ ان کے سفیروں کو ملکوں سے نکالیں اور اپنے سفیروں کو واپس بلائیں۔ برما کی فوج اور بدھسٹ دہشت گردمظالم سے باز نہیں آتے تو پاکستان ، ترکی اوردیگرمسلم ملکوں کو اپنی فوج داخل کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔