آزادی کپ :ورلڈ الیون کے کھلاڑی دبئی پہنچنا شروع ،پاکستانی شائقین کیلئے نیک خواہشات کا اظہار

09 ستمبر 2017

دبئی (سپورٹس ڈےسک )پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی طرح ورلڈ الیون ٹیم میں شامل کھلاڑی بھی پرجوش ہیں جو دورہ پاکستان سے قبل پریکٹس کے لئے دبئی پہنچنا شروع ہوگئے۔جنوبی افریقا کے کپتان فاف ڈپلوسی کی قیادت میں ورلڈ الیون ٹیم 11 ستمبر کو پاکستان پہنچے گی تاہم اس سے قبل ٹیم دبئی میں لگائے جانے والے کیمپ میں پریکٹس کرے گی جس کے لئے کھلاڑی پہنچنا شروع ہوگئے۔آسٹریلوی کرکٹر بین کٹنگ نے دبئی پہنچنے پر پاکستانی شائقین کو سلام بھیجا اور کہا کہ دبئی میں دو روزہ ٹریننگ سیشن کے بعد پاکستان آرہا ہوں۔بین کٹنگ نے پاکستانی شائقین کو کہا کہ وہ تیار ہوجائیں ان سے پاکستان کے میدان میں ملاقات ہوگی۔سری لنکنآل راو¿نڈر تھسارا پریرا نے بھی دبئی میں ورلڈ الیون کرکٹ ٹیم کا کیمپ جوائن کرلیا جن کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ الیون ٹیم کا حصہ بننے پر خوش اور پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے لئے پرجوش ہیں۔پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون کے 14 میں سے صرف تین کھلاڑی ایسے ہیں جو اس سے قبل بھی پاکستان کی سرزمین پرانٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ان کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے پال کالنگ وڈ، جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا اور بنگلہ دیش کے تمیم اقبال شامل ہیں۔پال کالنگ وڈ 2005 میں مائیکل وان کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کرنے والی انگلش ٹیم میں شامل تھے۔۔ہاشم آملا جنوبی افریقہ کی اس ٹیم میں شامل تھے جس نے 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔۔بنگلہ دیش کے تمیم اقبال 2008 میں دو مرتبہ پاکستان آئے تھے۔ پہلی مرتبہ وہ بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے لیے آئے ۔تمیم اقبال نے اسی سال پاکستان میں منعقدہ ایشیا کپ کے پانچ میچز کھیلے تھے لیکن وہ صرف ایک نصف سنچری بنا پائے تھے جو انھوں نے انڈیا کے خلاف کراچی میں سکور کی تھی۔ان تینوں کھلاڑیوں کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی بھی پاکستان میں کھیل چکے ہیں لیکن وہ انٹرنیشنل میچ نہیں بلکہ رواں سال کھیلا گیا پاکستان سپر لیگ کا فائنل تھا ۔لاہور میں پیدا ہونے والے جنوبی افریقی لیگ سپنر عمران طاہر بھی ورلڈ الیون میں شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی فرسٹ کلاس کرکٹ پاکستان میں ہی کھیلی ہے۔ وہ پاکستان انڈر 19 اور پاکستان اے کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں لیکن سینیئر ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے کے سبب انھوں نے کاو¿نٹی کرکٹ کا رخ کیا اور پھر وہاں سے جنوبی افریقہ منتقل ہوگئے۔عمران طاہر2011 سے جنوبی افریقہ کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔ورلڈ الیون میں شامل دو کھلاڑی انگلینڈ کے پال کالنگ وڈ اور نیوزی لینڈ کے گرانٹ ایلیٹ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے بین کٹنگ تین سال سے ٹیم سے باہر ہیں جبکہ ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی اور آسٹریلیا کے جارج بیلی گذشتہ سال آخری بار انٹرنیشنل کرکٹ کھیلے تھے۔اس طرح ورلڈ الیون میں نو کھلاڑی ایسے ہیں جو اس وقت بھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں ان میں فاف ڈپلیسی، ہاشم آملا، مورنی مورکل، ڈیوڈ ملر، عمران طاہر، تمیم اقبال، تھسرا پریرا، سیمیول بدری اور ٹم پین شامل ہیں

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...