تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

09 ستمبر 2017

محترمہ مریم نواز پچھلے چار سالوں سے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہیں۔ میاں صاحب نے جب ایوان اقتدارمیں تیسری مرتبہ اپنے آنے کا اعلان کیا تو اس وقت یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ان کی دختر بلند اختر محترمہ مریم صاحبہ کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا جائے گا لیکن بوجوہ یہ ممکن نہ تھا۔ ظاہری طور پر میاں صاحب بذات خود وزارت خارجہ کی کرسی پر متمکن تھے لیکن مریم صاحبہ اس کرسی کو سنبھالے ہوئے تھیں ۔ یہ کہاجاتا تھا کہ غیر ملکی سفیروں سے بھی وہی معاملات نمٹاتی تھیں۔ اس کا مکمل طور پر اظہار اس وقت ہوا جب میاں صاحب بستر فراش پر تھے اور مریم صاحبہ نہ صرف وزارت خارجہ بلکہ وزیر اعظم کے بھی فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔ اس تربیت نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا اور وہ ان خوابوں کی تعبیر دیکھنے لگیں کہ وزارت عظمیٰ ان کے گھر کی لونڈی ہے اور وہ جب انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کریں گی تو وزارت عظمیٰ کی کرسی ان کی خدمت کے لیے حاضر ہوگی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
عدالت عظمیٰ نے میاں صاحب کی نااہلی کے خلاف فیصلہ کیا دیا کہ بساط ہی الٹ گئی لیکن ایک اور بھیانک کھیل بھی کھیلا جا چکا تھا۔ مریم صاحبہ وزارت اطلاعات کا شعبہ سنبھالے ہوئے تھیں اور میاں صاحب کے مقدمات کے دوران میں نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اس کی سربراہی کر رہی تھیں بلکہ احکامات بھی جاری کر رہی تھیں کہ کس طرح سے جوابات دینے ہیں اور ان ہی دنوں میں ایک وہ واقعہ پیش آیا جس نے سب کچھ اتھل پتھل کر کے رکھ دیا۔ وزارت اطلاعات کی ایک خبر لیک ہو گئی جسے ڈان لیکس کا نام دیا گیا۔ اس سلسلے میں کئی تاویلیں پیش کی گئیں۔ ایک مرحلے پر تو یوں لگا کہ فوج اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔ آئی ۔ ایس۔ پی ۔ آر کی جانب سے ریلیز تھی کہ حکومت کا بیانیہ قابل قبول نہیں ہے ۔اور پھر فوج نے تحمل ، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی کی فضا میں تناو¿ کو کم کرنے کی کوشش کی اور وہ بیان جو دونوں کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن رہا تھا ، واپس لے لیا گیا اور یوں لگا کہ معاملات سنبھل گئے ہیں لیکن یہ معاملہ یہیں پر نہیں رکا ۔ پانامہ لیکس نے مزید الجھاو¿ پیدا کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میاں صاحب ۔۔۔۔
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔
میاں صاحب تو نااہل قرار دے دیئے گئے لیکن
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے
کے مصداق میاں صاحب نے جاتے جاتے تمام اہل خانہ کے مستقبل پر پانی پھیر دیا اور کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ اس میں کس کا کتنا ہاتھ ہے اور اسی لیے میاں صاحب ابھی تک ہر ایک سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے ۔
اس سارے فسانے میں مریم صاحبہ نے جو کردار سر انجام دیا ، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میاں صاحب نے پدرانہ شفقت میں اپنا سب کچھ اپنی صاحبزاد ی کے سپرد کر دیا کہ مستقبل کی وزیر اعظم ہوں گی اور مریم صاحبہ نے یہ سوچا کہ ان کے والد گرامی تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور یہ کہ مچھلی کے بچے کو تیرنا کون سکھاتا ہے اور عقاب کے بچے کو اُڑنا کون سکھاتا ہے کے خیال سے اپنی ہی نگرانی میں سارے فرائض سر انجام دینے لگی تھیں ، یہ جانے بغیر کہ یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں ۔ وہ دن گئے کہ بادشاہ ہمایوں کا بیٹا اکبر ، اکبر اعظم بن سکتا تھا اور شاہجہاں کا بیٹا اورنگ زیب بن کر ہندوستان کی راجدھانی پر حکومت کر سکتا تھا۔ اب یہ وراثت کا زمانہ نہیں ہے۔ اب یہ تاجپوشی کا دور نہیں ہے کہ التتمش کی بیٹی سلطانہ رضیہ نااہل بھائیوں کی وجہ سے تخت نشین ہو جائے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ والد گرامی کی نااہلی کے بعد محترمہ مریم صاحبہ حقائق کا ادراک کرتیں اور ان باتوں سے پرہیز کرتیں جو ان کی مہم جوئی میں رکاوٹ ڈال سکتے تھے۔ انہوں نے اس حلقے میں انتخابی مہم کا آغاز کیا اور لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ ان کے والد محترم کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے لیکن ان کی تقریر سن کر احساس یہ ہونے لگتا ہے کہ جیسے غالب خاموش لبوں سے کہہ رہے ہوں :
ہر اک بات کہتے ہو تم کہ تو کیا ہو
تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے ۔