برما کے موجودہ حالات کا تاریخی پسِ منظر

09 ستمبر 2017

بَر±مَا یا مَیَان±مَار، بھارت اور بنگلہ دیش کے مشرق اور چین کے جنوب نیز تھائی لینڈ کے مغرب میں واقعہ پانچ کروڑ آبادی کا ایک درمیانے درجے کا ملک ہے۔ برما پر انگریزوں نے تین حصوں میں قبضہ کیا۔ مکمل قبضہ ۱۸۸۵ءمیں ہوا۔ چونکہ برما پر انگریزوں کی ہندی فوج نے قبضہ کیا تھا اس لئے ۱۹۳۵ءکے انگریزی "Act"تک برما انڈیا کا حصہ ہی تھا۔ پھر اتفاق سے بھارت کی آزادی سے محض ۱۲سال پہلے علیحدہ کر دیا گیاورنہ یہ بھی بھارت کے ساتھ آزاد ہوتا۔ اس کے بعد برما، میانمار کے نام سے ۱۹۴۸ءکو آزاد ہوا۔ لیکن ۶۲ءمیں ایسی فوجی حکومت آئی جس نے ملک کا سارا نقشہ بدل ڈالا۔ یہ حکومت ۲۰۱۱ءتک مسلسل بر سرِاقتدار رہی۔ ان کے دور میں میانمار نے تمام دنیا سے گویا قطعہ تعلق کرکے چین کی گود میں پناہ لی۔ اس لئے لاکھوں چینی میانمار میں نہ صرف آباد ہیں بلکہ بڑے بڑے عہدوں پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ چین ہی میانمار کو سب سے زیادہ ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ تاہم ۲۰۱۱ءمیں حکومت بدلنے کے بعد چین کے ساتھ تعلقات سرد ہوتے جا رہے ہیں بلکہ چین مخالفت میانمار میں زوروں پر ہے۔ تاہم حکومت پر چین کا اب بھی بہت اثر ورسوخ ہے۔
اس سیاق وسباق کے بعد یہ بھی جان لیں کہ جب برما کو بھارت سے علیحدہ کیا گیا تو اس میں ایک صوبہ ”راخائن“بھی شامل کیا گیا۔ اس صوبہ کی آبادی تیس لاکھ کے قریب ہے جن میں سے دس لاکھ سے زیادہ ”روہنگا“نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت بہت عرصے سے مسلمان ہے۔ ان لوگوں کی زبان برمی کے بجائے بنگالی زبان سے بہت ملتی ہے، نیز ان کی ثقافت کی چین سے ملتے جلتے میانمار سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ ان سب وجوہات کی بناءپر جب میانمار میں فوجی حکومت آئی تو انہوںنے اور بہت سی اقلیتوں کے ساتھ رہنگیوں کو بھی خطرہ جانا اور انہیں سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور قانونی ہر لحاظ سے دبانا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ ظلم کی انتہاءجس کی ساری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی یہ ہے کہ ۱۹۸۲ءمیں روہنگیوں کو ”غیر برمی“کہہ کر شہریت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا۔ برمی لوگوں کے لئے سرکاری نوکری حتیٰ کہ سرکاری تعلیم بھی نہایت مشکل بنا دی گئی ہے اور طرح طرح کی قیدیں لگا دی گئی ہیں۔
جب یہ صورت حال پیش آئی تو ظاہر ہے کہ ردِ عمل تو پیش آنا تھا۔ لیکن روہنگیوں کی طرف سے تھوڑا سا احتجاج ہونے پر ہی گویا حکومت کو بہانہ مل جاتا ہے اور قتلِ عام جیسی صورت حال بنا دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے کُل بامشکل دس پندرہ لاکھ روہنگیوں میں سے لاکھوں دوسرے ممالک میں فرار ہو چکے ہیں۔
اس ظلم کی ایک واضح مثال ۲۰۱۶ءکے چوکی حملے ہیں۔ نواکتوبر سن ۲۰۱۶ءکو کچھ تقریباً نہتے روہنگیوں نے ہمت کر کے بنگالی سرحد پر واقعہ کچھ چوکیوں پر حملہ کیا اور بہت سے ہتھیار چھین لئے۔ اس کاروائی کے بعد تین دن تک لڑائی جاری رہی جس کے دوران بامشکل ۳۰ تا ۳۵ سرکاری اہل کار ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں سرکاری اہل کاروں کا جوش کم ہونے میں نہیں آرہا۔ انہوں نے کچھ مہینوں کے اندر اندر ہی مختلف کاروائیوں کے نام سے ۴۰۰۰ سے زیادہ آدمی صرف قتل کر ڈالے ہیں۔ قیدی تو اس سے بہت زیادہ ہیں۔ اسی طرح ہزاروں گھر جلا ڈالے گئے ہیں اور شک کی بناءپر سینکڑوں آدمیوں کو ”غائب “کر دیا گیا۔ خدا جانے انہیں فوج کی بندوقوں کا ایندھن بنایا گیا یا سمندر میں پھینک دیا گیا۔
اس کی دوسری لہر کا آغاز ۲۵ اگست کو عید سے چند دن پہلے ہوا جب کچھ روہنگیوں نے دوبارہ حکومتی افواج پر ایک حملہ کیا۔ اس کے مقابلے کے لئے حکومت نے شہری آبادی کو سخت حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور سینکڑوں ماو¿ں کو ان کے لاڈلے نوجوان بیٹوں سے محروم کر دیا جن کی داستانیں سُن کر روح کانپتی ہے۔
اس پر افسوس صد افسوس یہ ہے کہ میانمار میں بنگلہ دیش کی سرحد پر رہنے والے ان مسلمانوں کے لئے واحد پناہ بنگلہ دیش ہی ہو سکتی ہے۔ لیکن بنگالی حکومت انہیں بلانے تو دور کی بات انہیں آنے کی اجازت دینے پر بھی تیار نہیں ہے۔ ہائے!سینکڑوں لوگ بنگالی حکومت کی مزاحمت کی وجہ سے سفر کے دوران ہی ڈوب کر موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی جنرل ضیاءالحق کے دور میں بہت سے برمی مسلمان نہایت طویل ہجرت کر کے آباد ہوئے جن کی تعداد کراچی میں چار لاکھ کے قریب ہے۔ کراچی کی ایک کالونی کا نام بھی ”برمی کالونی“ہے جہاں ہزاروں برمی لوگ امن وسکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن مزید رونا اس بات پر چاہئے کہ موجود ہ پاکستانی حکومت نے بھی چین کی وجہ سے اب برمی مسلمانوں کے پاکستان آنے پر پابندیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔
اسی طرح چین کو بھی اپنے ماتحت بلکہ تقریباً محتاج ملک میانمار میں انسانی حقوق کی صورت حال کا کوئی خیال نہیں ہے۔ بلکہ چین بھی روہنگیوں کو دبانے کا قائل ہے تاکہ میانمار میں موجود ہزاروں چینی ”اسلامی دہشت گردوں“سے ”محفوظ“ ہوسکیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کا پہلے فرض روہنگیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پوری استعداد سے اپنے ملک میں پناہ دینا ہے۔ جیسا کہ ہم نے افغانیوں کو پناہ دی تھی جس پر آج بجاءہر پاکستانی فخر کر سکتا ہے۔اگر حسینہ واجد کو مظلوم مسلمانوں اور ہندو¿وں کی حالت پر رحم نہیں آتا تو ہمیں تو کم از کم مسلمان بھائی ہونے کا حق اداءکرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ برمی فوج پر حملہ کرنے والے روہنگیوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اس طرح وہ صرف اپنے بھائیوں کی مصیبتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ قوت جمع کر کے باقاعدہ حملہ تو ٹھیک ہے لیکن جھڑپوں سے صرف نقصان ہوگا۔
میری آخری درخواست یہ ہے کہ پورے ملک میں روہنگی مسلمانوں کے لئے اجتماعی دعائیں کرائی جائیں اور انفرادی طور پر ان کی ہر طرح سے امداد کی جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭