لمحہ موجود

09 ستمبر 2017

اس بار بھی عید قربان پر بہت سارے عزیزوں ، دوستوں اور" احبابوں©" نے مختلف قسم کے "پکوانی میسجز" کے ذریعہ اخلاقی بھوک مٹانے کی اپنے تئیں نہایت عمدہ کاوش کی ان میں سے بیشتر کو رسمی طو رپر "وعلیکم عید مبارک" کہی گئی چند ایک شادی شدہ ایسے تھے جنہیں فون کر کے از راہ ہمدردی ، اپنائیت اور حوصلے کا صحت افزا مشروب پلایا گیا آغا صدف مہدی بھی ان خوش بخت احبابوں میں شامل ہیں جنہیں ہم نے پندرہ منٹ اور پینتیس سیکنڈ تک شرف ہمکلامی بخشا یہ ہمارا خیال ہے ممکن ہے کہ وہ"ہم خیال "نہ ہوں مہدی صاحب سے ہم نے عرض کیا کہ آج ہم ایک ولیمہ میںمدعو ہیں تو بولے ضرور جائیں ، دیرنہ کریں کیونکہ ولیمہ کنوارے پن کا تعزیتی اجلاس ہوتا ہے ، تاخیر کرنے سے نئے ، نئے "شدہ" ہونے والے کی دلجوئی کیلئے بروقت جانا ، بن ٹھن کر جانا او رٹھٹھے مذاق کرنا بہت ضروری ہے
خیر ! یہ تو ایک گمان اور سوچ ہے ورنہ دھیان دیں تو پوری قوم ہی کسی نہ کسی شدگی کا شکار ہے مثلا عدم استحکام شدہ ، عدم احترام شدہ ، بے روزگار شدہ ، بے کاری شدہ ، احتجاج شدہ ، اعتراف شدہ اور فرار شدہ یا پھر سیلاب شدہ اب کی بار جنوبی پنجاب سیلاب شدہ ہونے سے بچ تو گیا مگر دیگر جن میں سماجی ، خانگی اور انتظامی مسائل شامل ہیں سے کیوں کر بچا جا سکتا ہے اس کے لیے تمام اکابرین وقت اور "احباب ہر وقت " کو بروقت کچھ کرنا ہو گا ، آپ پوچھیں گے©©"احباب ہر وقت " کون ہیں تو عرض ہے کہ یہ تم بھی ہو او رمیں بھی ہوں
"لمحہ موجود ©"کے خالق ڈاکٹر طاہر تونسوی نے شعرو ادب میں جہاں خوب نام کمایا ہے وہاں انہوں نے اپنے ہم عصروں کو بالکل واضح پیغام دیا ہے کہ یہ زندگی صرف ایک بار ملی ہے اسے گنوایا نہ جائے بلکہ غنیمت جا ن کر ایسا جیون جئیں جو ہمارے جانے کے بعد بھی لائق تحسین و آفرین ہو ہم بھی احباب سے یہی عرض کرتے ہیں
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
سرائیکی میں وصل کا لفظ ص والا ہو یا س والا ، پیاز کیلئے استعمال ہو تا ہے جسے کاٹنے سے
دل کے ارمان آنسوﺅں میں بہہ گئے ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے
والی بات ہوتی ہے وصل یا وسل کے دیگر کئی غذائی اور طبی فوائد ہیں جن پر ہم اپنی نیم حکیمانہ رائے کا بھرپور حق رکھتے ہیں لیکن فی الحال استعمال نہیں کرر ہے کیونکہ ہمارے سینئر فرینڈمسعود انور بخاری نے "سرخرو" یعنی کامیاب ہونے پر ہمیں سرخ رو بہ وزن "رتے لال "کا خطاب عطا کیا ہے جس پر ہم پھولے نہیں سمارہے حالانکہ بات کوئی اتنی بڑی بھی نہیں تھی نگر ، نگر کی خاک چھانتے ہوئے اگر ہم "ڈیرہ دار "ہو گئے تو کیا ہوا دعا کریں ہماری داری رب او ررب کے بندوں کو پسند آ جائے او رہم حقیقت میں سرخرو یعنی رتے لال ہو جائیں تو پھر مزہ ہے
خبر ملی ہے کہ سرکار نے راولپنڈی کے معروف نالہ لئی کا روٹ بدلنے یا اسے ری ڈیزائن کر کے اہل شہر کو سیلابی اثرات و مضمرات سے محفوظ کرنے کی منظوری دے دی ہے یا دینے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے یقین کریں اس خبر نے ہمیں کتنا عزم و حوصلہ بخشا ہے، ہم بتا نہیں سکتے مذکورہ منصوبے کی تکمیل سے ان تمام شریروں کے شر ارے ٹھنڈے پڑ جائیں گے جو کہتے رہے ہیں کہ
تم کتنے نالے بدلو گے ، ہر گلی سے نالہ نکلے گا
ایسے تمام اہل شر کان کھول کر سن لیں تم جتنے فتنہ و شر کے نالے نکالو گے ہم بحیثیت ملت ہر ایک نالے کو نکیل ڈالیں گے وہ نالہ بدامنی کا ہو ، مہنگائی کا ہو ، بے روزگاری کا یا بے انصافی کا ہر نالے کو نالہ ءخیر بنا کر دم لیں گے کیونکہ قوم کی اکثریت نے اقلیت کے تمام تخریبی نالوں کی جڑیں تلاش کر لی ہیں اب تو محض ان جڑوں کو ہمیشہ سے اکھاڑ پھینکنے کا کام کرنا باقی ہے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ یہ"لمحہ موجود ©"میں ضرور ہو گا ۔