پنجاب کی تعلیم کے شعبہ میں ترقی

09 ستمبر 2017

کسی بھی معاشرہ کو سنوارنے اور ترقی کی راہ پر چلنے کے لیے پوشیدہ اور پیچید ہ راز آخر کار انسان نے ڈھونڈہی لیا ۔ کسی بھی معاشرے کے عروج و زوال میں جو چیز کلیدی حیثیت رکھتی ہے وہ تعلیم ہی ہے تاریخ کے عین اس دور میں جب مسلمان محلات کی تعمیر میں مصروف تھے اور مغرب کی دنیا آکسفورڈ اور کیمرج جیسی یونیورسٹیوں کی بنیاد ڈال رہی تھی اور پھر انسانی آنکھ نے دیکھا کہ مغرب مشرق پر غالب آگیا مسلمانوں نے شریعت کے اس حصے کو ترک کرنا شروع کردیا تھا جس میں حکم دیا گیا تھا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔ فکر معاش نے مرد کی تعلیم کو تو کسی نہ کسی طرح جاری رکھا اور عورتوں کی تعلیم کم ہوتی گئی اور ذوال کی آخری حدوں کو چھونے لگی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول ؐ پر پہلی وحی کا آغاز اقراء پڑھنے سے ہوا تھا ۔ایجوکیشن ہر معاملے کا لازمی جز ہے اور اس کی بدولت انسان نے چاند سے زمین تک کا سفر اور پتھر سے ایٹم بم تک رسائی حاصل کی ہے ۔ دنیا کے ہر ملک میں اس پیغمبرانہ پیشے کی عظمت کی جاتی ہے خادم اعلیٰ نے تعلیم کے شعبے میں کافی حد تک بہتری لانے کی کوشش کی ہے اور ہر کام میں میرٹ کو اہمیت دی ہے صوبہ پنجاب میں تعلیم کے شعبے سے ملحق افراد جو اپنے کیئرئیر کا آغاز کرتے ہیں تو ان کی تعلیمی قابلیت ایم اے ایم ایس سی ہوتی اور ساتھ کوئی نہ کوئی پروفیشنل ڈگری بھی ہوتی ہے گویا کہ ڈبل گریجویشن ان کی بنیادی شرط ہے ۔ ضلع خانیوال اور اس کے آس پاس کے علاقائی سکولوں میں کافی بہتری نظر آئی ہے ۔ جس میں UPE کا ٹارگٹ سو فیصد مکمل ہوا ۔ بچوں کی انرولمنٹ کافی بہتررہی ۔ بچوں اور اساتذہ کی حاضری سو فیصد ہوگئی ۔ LNDکے رزلٹ میں کافی بہتری آئی ۔
گورنمنٹ سکولوں نے بورڈ کے سالانہ امتحان میں پرائیویٹ سکولوں کو بہت پیچھے چھوڑدیا ہے ۔ 98% تک مارکس حاصل کیے ضلع خانیوال کے سکولوں میں جو بہتری آئی اس کا سارا کریڈٹ محترمہ ڈپٹی خورشیدہ کو جاتا ہے اور یہ ان کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے وہ کام بھی کرکے دکھائے جو آج سے کچھ سال پہلے ناممکن نظر آتے تھے ۔ سکولوں کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے ۔ اللہ ان کو مزید محنت کی توفیق دے ۔ آمین