انصاف کی فراہمی میں تاخیر؟

09 ستمبر 2017

رزق حلال کی تنخواہ پر گزر بسر کرنا اور اپنے جائز سرکاری حقوق و مراعات کی مانگ کرنا کس قدر مشکل ہے کبھی آگاہی مقصود ہوتو اِس ریاست کے اُن لاکھوں سرکاری ملازمین سے پوچھیں جن کو کرپٹ مافیا قبول نہیں کرتا اور انہیں مجبوراً انصاف اور داد رسی کے لیے عدالتوں کی بھاری ا ور زنگ آلودہ زنجیر عدل کو ہلانا پڑتا ہے۔ گریڈ ایک تا 17تک وہ سرکاری ملازم جو رزق حلال کو عین عبادت سمجھتے ہیں۔ اُن کی اکثریت عدالتوں میں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی نظر آتی ہے۔ کیونکہ کرپٹ سرکاری ملازمین تو بذریعہ کرپشن اور چور سے اپنے مسائل خود ہی حل کر لیتے ہیں۔ عدالتوں کے درپر دستک دینے والے بیشتر سرکاری ملازم وہ ہوتے ہیں۔ جن کی کوئی نہیں سُنتا۔وہ آس انصاف میں کبھی سروس ٹربیونل ، کبھی ہائی کورٹ اور کبھی سپریم کورٹ کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں ۔ لیکن صد افسوس پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام سب سے زیادہ ناانصافی اور تاخیر کا ظلم انہی ریاست کے نوکروں کے ساتھ کرتا ہے۔ پنجاب سروس ٹربیونل (پی ایس ٹی )سے لے کر ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ تک کی عدالتوں میں اِس وقت لاکھوں کی تعداد میں سروس امور سے وابستہ کیسز زیر التوا پڑے ہیں۔ اِس ملک کی عدلیہ کو حکمرانوں کے کیسوں کی سماعت سے فرصت ہی نہیں ہے۔ متاثرہ سرکاری ملازمین کو دس دس سال ہو چکے ہیں اُن کے کیسوں کی سماعت کرنے والے جج صاحبان دستیاب نہیں یا پھر عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کی فہرست سماعت میں اُن کی جگہ ہی نہیں بنتی۔ حالانکہ سروس امور سے وابستہ کیسوںکی سماعت سب سے سہل اور مختصر ہے۔ ایک متاثرہ فریق سرکاری ملازم کا موقف بمعہ دستاویزات عدالت کے سامنے موجود ہوتا ہے دوسری جانب متعلقہ سرکاری محکمہ نے اپنا موقف بمعہ دستاویزات عدالت میں پیش کرنا ہوتاہے۔ تمام کیس کی تکمیل دو تا تین تاریخ سماعتوں پر مکمل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ سرکاری امور سے وابستہ کیسوں میں کریمینل کیسوں کی مانند آلہ قتل کی برآمدگی اور عینی شہادتوں کی کوئی ضرورت ہی نہیںہوتی۔ساری کہانی سرکاری دستاویزات میں موجود ہوتی ہے۔ مذید یہ تمام دستاویزات ہر وقت ہر سرکاری محکمہ میں موجودہوتی ہیں۔مگر پھربھی روایتی تاخیری حربوں سے سرکاری ملازمین کو عدالتوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اِس وقت پنجاب سروس ٹربیونل میں8500ایسے کیسز ہیں جن کی سماعت چار ممبران پی ایس ٹی کی عدم دستیابی کی بناپر کئی ماہ سے زیر التوا پڑی ہے۔ جبکہ کئی سالوں سے سہل اور مختصر کیسوں کو زیر سماعت رکھا ہوا ہے۔ اس وقت پی ایس ٹی دو جوڈیشل ممبران جو کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں اور ایک ہائی کورٹ کے رٹیائرڈ جج بطور چیئرمین پر منحصر ہے جبکہ پی ایس ٹی ممبران کی چارپوزیشن خالی ہیں۔ ان میںدوپوزیشن سینئر بیوروکریٹس کی ریٹائرمنٹ مقصود احمد لکھ 22اگست2016اور فہمیدہ مشتاق 10مارچ 2017ءسے خالی ہیں۔ جبکہ تیسری پوزیشن خالد محمود رامے کے ٹرانسفر 20اپریل 2017سے خالی ہے۔ جبکہ چوتھی پوزیشن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جواد الحسن کی مدت معیاد 10جولائی 2017کو پوری ہونے کی وجہ سے خالی ہے۔جبکہ ہزاروں سائلین دھکے کھا رہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سروس امور کے کیسز ایسے بھی ہیں جوکہ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں کئی سالوں سے سماعت کے منتظر ہیں۔ رزق حلال کی تنگ دستی اور دوسری جانب محکمانہ افسران کی ناانصافیوں کے نشتر سہنا صرف مشکل ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ متاثرین کے اہل خانہ کا بھی جینا محال کر دیتے ہیں۔70 سال کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی ہم ابھی تک مہذب قوم کا روپ نہیں دھار سکے۔ ہر شعبہ زندگی و ملکی ادارہ بد نظمی ، افرا تفری کا شکاراور حقو ق وفرائض کی انجام دہی سے قا صر ہے۔ آخر کیوں اور کب تک۔۔؟ سرکاری ملازمین سے اُن سے مصائب زندگی کی داستان سنی جائے تو روح بھی شرمندہ نظر آتی ہے۔ پاکستان میں گریڈ ایک تا بائیس تک جتنے بھی سرکاری ملازم رزق حلال پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ انتہائی کرب ناک اور مسائل سے گھری زندگی گذارنے پر مجبورہیں۔ ایسے سرکاری ملازم اگر انصاف، مدد اور داد رسی کے لیے کبھی متعلقہ قانونی فورم کی زنجیرعدل کو ہلا تے ہیں تو پھر عدالتی نظام کا فرض بنتا ہے انہیں بلاتاخیر انصاف فراہم کیا جائے ورنہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی انصافی ہوتی ہے۔