غربی باغ کی پسماندگی!

09 ستمبر 2017

آزاد کشمیر کے انتخابی حلقہ غربی L-A-13 مرحوم مجاہد اوّل سردار محمد عبدالقیوم خان اور مرحوم سردار عبدالغفار خان کا تاریخی حلقہ بھی تھا۔آج کل فرزند ِ مجاہدِاوّل سردار عتیق خان کا حلقہ ہے۔گذشتہ پچاس سالوں کی پسماندگی کے دوران کوہالہ ،دھیر کوٹ روڈ ایک انقلاب آفرین کام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔کالم نگار ی ایک ایسا کام ہے جس میں تاریخ اور حقائق کا درست ہونا بنیادی بات ہے۔یقینا کسی شخص ،لیڈر،راہنما،پارٹی اور نظریہ کی حمایت میں بات کریں تو ان کے حریف اور فریقین کو بری لگتی ہے۔گذشتہ دنوں غربی باغ جماعت اسلامی کے میجر لطیف خلیق کا سوشل میڈیا پر پیغام دیکھا اور سنا جس میں غالباََ 18 ستمبر کو کوہالہ دھرنے کی بات کی جس میں غربی باغ کا پسماندہ ترین علاقہ”کانڈی“ کی تباہ حالی کا ذکر تھا ،اس کی بحالی اور بشارت شہید روڈ کی Recarpeting کے علاوہ بجلی کی High Voltage سے ماحولیاتی آلودگی کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بات کر رہے تھے اس موقعہ پر لطیف خلیق نے کہا کہ تقریباََ 20 ہزار لوگ کوہالہ پل پر دھرنا دیں گے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک نہیں اُٹھیں گے اور کہا کہ اپنے سیاسی حریف اور غربی باغ کے M.L.Aسردار عتیق احمد کو دعوت دیتا ہوں کہ مظاہرے کی قیادت کریں بلکہ کہا کہ سردار عتیق احمد کے پیچھے چلنے کو تیارہوں اگر ان کا بستہ ہے تو وہ بھی اٹھاﺅں گا۔بہت بڑی سیاسی بات کی اپنے علاقے اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے اپنی ذات اور سیاسی جماعت سے بالا تر ہو کر بات کی اس سے انکا سیاسی قد بڑھا بلکہ میرے کالم لکھنے کی وجہ ہی یہی بنا کہ ایک دلیر ،مخلص اور محب وطن انسان ہیں،علاقے کے لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں ۔اللہ سبحان تعالیٰ مجاہد اوّل سردار عبد القیوم اور خان عبدالغفار خان مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔سردار عبدالغفار خان کو میں نے ان کی زندگی میں کہا تھا کہ آپ کے اور مجاہد اوّل کے وصال کے بعد لوگ اس بات کی تحقیق ضرور کریں گے کہ ان دونوں بھائیوں میں ایسی کیا وجہ تھی کہ ریاست جموں کشمیر کی سیاست کا محور و مرکز ”غازی آباد“ کا گھر تھا یا ان کے حامی تھے یا پھر مخالف ،آج عوام الناس اس کا تجزیہ اور تذکرہ ضرور کرتے ہوں گے۔پاکستان کے ضیاءالحق جو کہ چیف آف آرمی سٹاف اور صدر پاکستان تھے ،آزاد کشمیر کے طول و عرض میں جلسوں سے خطاب کرتے کہا کہ اگر وردی اُتاری اور سیاسی جماعت جوائن کی تو مجاہد اوّل کی مسلم کانفرنس ہو گئی ۔ذوالفقار علی بھٹو جیسا شخص مجاہد اوّل کی قدر کرتے تھے،نواز شریف اور بے نظیر بھٹو عقیدت اور احترام کرتے تھے۔23 اگست 2017 ءیوم نیلہ بٹ میں خاص مہمان پاکستان سے ریاض فیتانہ اور اپوزیشن لیڈر چوہدری یسٰین تھے۔آج مسلم کانفرنس بین القوامی سطح سے مقامی سطح پر آ گئی ۔مسلم کانفرنس کے صدر کو اس پر توجہ دینی ہو گی۔غربی باغ کے عوام کا مسئلہ امریکی صدر ٹرمپ نہیں ہے ،لوکل مسائل ہیں،بجلی،پانی،گیس،صحت،تعلیم اور تعمیر و ترقی ہے ۔گذشتہ 70 سال سے غربی باغ کا پسماندہ ترین علاقہ ”کانڈی“ ہے جہاں اسکول،کالج اور ہسپتال کا فقدان ہے،آج پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ،صحت،تعلیم اورروزگار نہیں ہے۔آزاد کشمیر کے عوام جب تک روزگار نہیں حاصل کریں گے خوشحالی نہیں آئے گی۔آج سے 70 سال قبل غربی باغ کے لوگ حصول روزگار کے لئے ”مری“ جاتے تھے۔آج بھی وہاں جاتے ہیں فرق کیا پڑا؟۔70 سال قبل پیدل ،بیل گاڑی پر جاتے ہوں گے اور آج بس ،ویگن یاگاڑی پر جاتے ہیں۔سوال صرف اتنا ہے کہ ان 70 سالوں میں آزاد کشمیر کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے کیا دیا عوام کو؟،صرف نعرے،وعدے اور نظریات؟۔صرف آج کل اہل ”کانڈی“ کے لئے اجتماع اور دھرنا دیا جا رہا ہے۔حکومت اگر صرف بشارت شہید روڈ کو بہتر کر دے،کارپٹ ہو جائے تو پچاس فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔پھگواڑی مری سے دریا ئے جہلم پر کھپدر پل کی تعمیر سے اس علاقے کی تقدیر بدل جائے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزاروں انسانوں کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی ہے،مگر بنیادی سہولتیں تو فراہم کر سکتی ہے جو کہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے۔سڑک،بجلی،پانی،گیس مہیا کرے جب تک آزاد کشمیر میں سیاحت اور انڈسٹری کو فروغ نہیں ہو گا ترقی نہیں ہو گی۔صرف اگر حکومت پر آسرا ہے تو آئندہ 70 سال اسی انتظار میں زندگی گزار دیں۔آزاد کشمیر حکومت وفاقی حکومت سے فنڈز لیتی ہے ،اکثر وقت سے پہلے ختم ہو جاتے ہیں،پھر بنکوں سے Over-Draft لیتے ہیں ،70% تو غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں چلے جاتے ہیں جس میں سرکاری ملازمین کی تنخوائیں ،گاڑیوں کے اخراجات وغیرہ جو 30% ترقیاتی اخراجات کے لئے ہیں اس میں صحت ،تعلیم،پانی،سڑکوں ،پلوں،زراعت کے لئے اور کاموں کے لئے ہے اس میں شاید 2 فیصد سے 10 فیصد تک اہم ترین کاموں کے ہیں ،پاکستان کی ایک تحصیل مری اورکوٹلی ستیاںہے۔مری جاکرمحسوس ہوتاہے کہ بیرون ملک آگئے،روزگار،کاروبار،خوشحالی،تعلیم،صحت،پانی اورگیس اس میں حکومت کا صرف اتنا کمال ہے کہ مین شاہراہوں کوبہتر کر دیا۔پاکستان کی مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت نے مری کے لئے جو اعلانات کئے اس میں سے 10 فیصد پر عمل نہیں ہوا جس میں اسلام آباد مری ٹرین،پانی کا منصوبہ،پارکنگ پلازے،صرف مری شہر کے گردونواح میں چار عدد چیئر لفٹس اور کیبل کاریں بھی شامل ہیں۔صرف90 روزہ سیزن کے بعد طویل تاریک رات ہے مگر عوام خوشحال ہیں ،وجہ کیا ہے؟۔اسی مری کی ملحقہ تحصیل کوٹلی ستیاں ہے اگر وہاں جانے اور رہنے کا اتفاق ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ پتھر کے زمانے میں آگئے ہیں۔صرف بن کر ور سے گلہڑا گلی آئیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں گے،آج بھی کئی علاقوں میں پانی ،بجلی،اسکول اور ہسپتال نایاب ہیں۔جناب شاہد خاقان عباسی تو اب وزیر اعظم بن گئے اور M.P.A اشفاق سرور صوبائی مشیر ہیں مگر عوام خوار ہو رہے ہیں ،صرف حلقہ غربی باغ کے لوگوں کو اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انکا M.L.Aپاکستان کا وزیر اعظم ،وزیر،مشیر،M.N.A اور M.P.A ہو تو شاید مسائل حل نہ ہوں۔اس لئے اہلیان غربی باغ کو اپنے علاقے کو تعمیر و ترقی کا شاہکار بنانا ہے،روزگار لانا ہے،صحت،تعلیم اور پانی لانا ہے،صرف اس علاقے کو ”مری“ کے متبادل کے طور پر بنانا ہو گا۔ محترم برادرم جناب سردار عتیق احمد خان پہلی بار وزیر اعظم بنے تو غازی آباد سردار عبدالغفار خان مرحوم کے گھر ایک فوتگی پر اکھٹے ہوئے،اس موقعہ پر A.I.G سردار فہیم خان تھے۔نیلا بٹ کے سردار زاہد حسین عباسی بھی تھے ،واہ کینٹ سے میرے بھائی جاوید قریشی اور زاہد قریشی بھی تھے۔ہمارے بھائیوں اور میرے نام کے ساتھ ”قریشی“ مری ریسٹورنٹ سے منسوب ہوا ہے جہاں سے میرے والد محترم جناب محمد صفدر قریشی اور تایا جان محمد اشرف قریشی نے عملی زندگی کا آغاز ایک معمولی نوکری سے کیا تو وجہ شہرت ”قریشی“ بن گیا۔اپنے والد اور تایا کی شناخت اپنے نام سے الگ نہ کی،ہمارا بھی تعلق غربی باغ کے پسماندہ ترین علاقے کانڈی کے گاﺅں ”ریالہ“ سے ہے،جس کا مجھے فخر ہے اور ہم الحمداللہ ”ڈھونڈ عباسی“ ہیں۔سردار عتیق صاحب کو غربی باغ کی پسماندگی پر درخواست کی جس پر انہوں نے لاتعداد منصوبوں کے بارے میں بتایا جس میں کوہالہ سے پانی ۔چیئر لفٹ،نیلا بٹ پر 5 سٹار ہوٹل،سولر سسٹم یقینا آج کوہالہ ،دھیرکوٹ روڈ ان کے اعلیٰ ویژن کے مطابق ہیں،اس پر ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔سردار عتیق کی وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ذاتی تعلق اور دوستی ہے ،کم از کم غربی باغ کی ترقی کے لئے سردار عتیق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ہم سب کی ذمہ داری ہے،غربی باغ میں بہت متعدد شخصیت ہیں ،اپنے علاقے کا قرض ضرور ادا کریں ،غربی باغ کی پسماندگی دور کر نے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ شکریہ!