عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا تاریخی دن (2)

09 ستمبر 2017

انہوں نے سابق بھارتی وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا ”قادیانی اسلام سے خارج اورہندوستان کے غدار ہیں “ اسی وجہ سے حضرت علامہ وفاقی سطح پر قائم کشمیر کمیٹی سے مرزا غلام احمد کے بیٹے بشیر الدین محمود کو نکال باہر کیاتھا اور برطانیہ سے بھی یہ مطالبہ کیاتھا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت تصور کیاجائے تقسیم ہند کے وقت باﺅنڈری کمیشن کے سامنے قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دے کر ہندوستان سے الحاق پسند کیا ضلع گورد اسپوراسی وجہ سے ہندوستان میں ضم ہو گیا۔ مگر مسلمانوں میں ریشہ دوانیاں اور سازشیں جاری رکھنے کیلئے قادیانیوں نے پاکستان کا رخ کیا اور دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ کے قریب ”ربوہ“ کو مرکز بنایا۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی تھے انہوں نے اس فتنہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا اور پھر 1970ئ کے انتخابات میں چند نشستوں پر قادیانی امیدوار منتخب ہو گئے اور اس کامیابی نے انہیں دیوانہ کر دیا اور وہ اقتدار پر قبضہ کے طریقے سوچنے لگے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 07ستمبر 1974ئ کا دن تاریخی اہمیت کا حامل روشن ترین دن ہے کہ اس دن وطن عزیز کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، کرہ ارض پر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے واحد ملک پاکستان کی اسمبلی کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے خارج کر کے غیر مسلم اقلیت کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے آئینی ترمیم کی اور مسلمانوں کے نوے سالہ دیرینہ مطالبہ کو کامیابی حاصل ہوئی جس کے لیے شمع رسالت کے پروانوں نے بیشمار قربانیاں دیں۔، سرور کائنات حضرت محمد مصطفےٰ کی ختم نبوت کا اعجازتھا کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ بلند کیا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے سب سے پہلی آواز آزاد کشمیر سے بلند ہوئی۔ عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر صادق حسین قریشی گلہار شریف نے آزاد کشمیر میں مرزائیوں کے ہیڈکوارٹر کوٹلی میں ڈیرہ لگا کر خاموش و منظم و تبلیغ سے راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت و اسلام کی اصل روح سے آگاہ کیا جبکہ حکومتی سطح پر اس وقت کے صدرا ٓزاد کشمیر سردار عبدالقیوم کا مجاہدانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس وقت پاکستان قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمود، علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالمصطفےٰ الازہری، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالحکیم، مولانا صدر الشہید اور دیگر نے عقیدہ ختم نبوت کی وکالت کی ۔30جون 1974کو قومی اسمبلی میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپوزیشن کی طرف سے جو قرار داد پیش کی گئی اس کا متن مندرجہ ذیل ہے۔ جناب سپیکر قومی اسمبلی پاکستان.... محترمی ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں” ہر گاہ کے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیانِ کے مرزا غلام نے آخری نبی کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا یہ جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کوجھٹلانے اور جہاد ختم کرنے کی کوشش اسلام کے بڑے بڑے احکامات کے خلاف غداری تھی، نیز یہ ہرگاہ کہ یہ سامراج کی پیدوار تھا اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا نیز ہر گاہ یہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمدکے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں نیز ہر گاہ عالمی مسلم تنظیموں کی کانفرنس جو مکمہ معظمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہ 6تا 10اپریل 1974ئ میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لہذا مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری تر میمات کی جائیں۔ محرکین قرارداد میں مولانا مفتی محمود، علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی، مولانا عبدالمصطفےٰ الاہزروی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا عبدالحق، سردار شیرباز مزاری، مولانا ظفر ا نصاری، عبدالحمید جتوئی، احمد رضا قصوری، مولانا صدر الشہید، محمود اعظم فاروقی، غلام فاروق، مخدوم نور محمد، سردار شوکت حیات خان، سردار مولا بخش سومرو،راﺅ خورشید علی خان، حاجی علی احمد تالپور، نوابزادہ ذاکر قریشی، صاحبزادہ نذیر سلطان، غلام حسن رندھاوا، کرم بخش اعوان، غلام حیدر بھروانہ ، صاحبزادہ صفی اللہ، میاں محمد ابراہیم برق، نعمت اللہ شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، حاجی صالح محمد اور عبدالمالک خان نے بھی قرار داد پر دستخط کیے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر اور لاہور ی جماعت کے سربراہ صدر الدین کو طلب کیا اٹارٹی جنرل پاکستان یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر پر گیارہ دن اور لاہوری گروپ پر دو دن جرح کی۔ جبکہ پیپلز پارٹی حکومت کی طرف سے ایسی ہی ایک دوسری قرار داد وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی۔ قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہو گئی اور پورے ملک میں علماءکرام و مشائخ عظام نے ختم نبوت کی تحریک شروع کر کے چاروں صوبوں کے عوام کو منظم کر کے جانثاران مصطفےٰ کو تحریک کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر قومی اخبارات رسائل و جرائد نے بھرپور مذہبی و ملی فریضہ ادا کیا۔ قومی اسمبلی میں قادیانی ولاہوری گروپ کے سربراہان نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران نوے روز کی شب و روز محنت و کاوش کے بعد 07ستمبر 1974ئ کو قومی اسمبلی نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کی اور مرزائی آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ وزیراعظم بھٹو نے قائد ایوان کی حیثیت سے 27منٹ کا مفصل خطاب کیا۔ اس تاریخی موقع پر پارلیمنٹ خوشی کے نعروں سے گونج اُٹھی ممبران ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے حتیٰ کہ جناب بھٹو اور ولی خان بھی آپس میں گرم جوشی سے ملے اور ملک بھر میںجشن کا سماں پیدا ہو گیا۔ 1984ئ میں ایک بار پھر حضرت مولانا خواجہ محمد خان کی سربراہی میں تحریک تحفظ ختم نبوت چلی اور 26اپریل 1984ئ کو ضیا الحق مرحوم نے ایک آرڈینس جاری کر کے قادیانیوں کو مسلمان کہلوانے اذان دیتے اور اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کا نام دینے اور اسلامی شعائرو اصلاحات کے استعمال سے روک دیا گیا اور پھر 1985ئ کو قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ آرڈینس بھی باضابطہ طور پر آئین کا حصہ بنا دیا گیا، منکرین و دشمنان اسلام قادیانیوں کو استعمال کرنے کے بعد دیگر ذریعوں سے بھی اسلام و مسلمانوں کو نشتر چھونے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سام بسائل ، تسلیمہ نسرین ، ٹیری جونز، سلمان رشدی، جیسے گستاخان انگریزوں و یہودیوں کے آلہ کار ہیں جو نبی آخرالزماں کی شان اقدس میں گستاخیاں اور اللہ کی آخری کتاب کی توہین میں لگے رہتے ہیں۔ (ختم شد)

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کےلئے ضروری ہے کہ ہم تمام مسلکی فرقہ واریت ، سیاسی اختلافات ، گروہی و لسانی تعصبات کو ترک کر کے باطل قوتوں کے سامنے باہم اتحاد و یکجہتی سے سینہ سپر ہو جائیں اور ارباب اختیار و اقتدار پر زور دیا جائے کہ قومی تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے خصوصی مدلل ابواب شامل کریں پاکستان کے اداروں محکموں اور دیگر کلیدی پوسٹوں پر تعصبات قادیانی شناختی کارڈ پاسپورٹ و غیرہ کی بنیادی دستاویزات میں خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اس بنیادپر بیرونی اسلامی ممالک اور بالخصوص حرمین شریفین میں بھی داخل ہو کر مسلمانوں کے بھیس میں اسلام کےخلاف سازشیں کرتے ہیں سعودی عرب میں ان کا داخلہ بہر صورت روکا جاناچاہیے ۔ پاکستان کے علماءکرام، مشائخ عظام، مبلغین و عظ و نصیحت اورتعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے جال سے مسلمانوں کو بچائیں اور کم از کم سالانہ ”ختم نبوت کانفرنسوں “کا اہتمام کر کے قادیانیوں کی منفی سرگرمیوں سے لوگوں کو آگاہ کریں ۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو مشترکہ طور پر ایسا ٹی وی چینل قائم کرنا ہوگا جہاں سے اردو انگریزی ، عربی اور دیگر عالمی زبانوں میں قادیانیوں کے زہریلا پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے ۔ بعض تنظیمیں و علماءکرام بالعموم دربار عالیہ گولڑہ شریف کے پیران عظام بالخصوص قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں امام المجددین حضر ت پیر مہر علی شاہ ؒکے دربار اقدس پر گزشتہ کئی سالوں سے سالانہ خاتم النبین کانفرنس منعقد کی جاتی ہےںجن سے مختلف دینی ، مذہبی و سیاسی رہنماءخطاب کرتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کی سطح پر حضر ت پیر صاحب گلہار شریف نے قادیانیوں کے سابق مرکز کوٹلی میں مجاہدانہ کردار ادا کیا ہے ۔ جبکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق ممبر حضرت مولانا پیر محمد عتیق الرحمن اور ان کی جماعت مجاہدانہ کردار ادا کر رہی ہے اس سلسلہ میں کشمیریوں کو حضرت پیر صاحب سے اس نیک کام میں تعاون کرنا ہوگا