نفاذ اردو اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

09 ستمبر 2017

اردو کو سرکاری زبان بنانے کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینج نے میری آئینی پٹیشن پر 8 ستمبر 2015 کو اپنا تاریخی فیصلہ سنایا تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بھی بنایا جائے۔ یہ پٹیشن میں نے 2003 میں دائر کی تھی اور اس فیصلے کو اب تقریباً دوسال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ تشنہ تکمیل ہے اگر چہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ ہماری قومی زبان اردو ہو گی اور پاکستان کے جتنے بھی آئین بنے ان سب میں اس بارے میں ایک واضح شق رکھی گئی تھی کہ اردو کو سرکاری زبان بنایا جائیگا۔ 1973 کے آئین کے شق 251 میںکہا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی اور اس کو سرکاری زبان پندرہ سال کے عرصے میں بنا دیا جائے گا۔اس آئینی تقاضے کو بدقسمتی سے پورا نہیں کیا گیا تھا۔ لہذا میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس مقصد کے حصول کے لئے آئینی کی شق نمبر 184کے تحت آئینی درخواست دائر کی اوربارہ سال کی جدوجہد کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ جو اس وقت چیف جسٹس تھے جسٹس دوست محمد اور جسٹس قاضی عیسٰی پر مشتمل بینج نے اپنے معرکتہ آراء فیصلے میں اس آئینی درخواست کو منظور کرتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا۔ میں نے اپنی آئینی درخواست میں یہ کہا تھا کہ اردو زبان ہمارے دینی اورادبی ورثے کی امین ہے جو نئی نسل تک نہیں پہنچایا جا رہا کہ غریب طبقے کے بچے جو اچھے انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم میں تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے انگریزی میں کمزور ہوتے ہیں وہ مقابلے کے امتحانات میں انگریزی میڈیم تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے طلباء کا مقابلہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ کے طلباء اعلیٰ عہدوں کو حاصل نہ کر پاتے ہیں۔ اگر چہ یہی لوگ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اور اردو جوکہ اسلام کے کلچر اور اقدار کو فراغ دیتی ہے اس کا کوئی والی وارث نہیں اور ہمارے ملک میں انگریزی کی بالا دستی کی وجہ سے مغربی کلچر فروغ پا رہا ہے۔ لہذا قائداعظم کے ارشادات اور آئین کی شق 251 کے تحت حکومت کو حکم صادر فرمایا جائے کہ اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ تاہم اس منزل کے حصول میں بڑی رکاوٹ افسر شاہی اور انگریزی دان طبقہ ہے۔ جن کو انگریزی کے بل بوتے پر بالا دستی حاصل ہے اور اس کے علاوہ وہ قدامت پسند طبقہ بھی اس راہ میں حائل ہے جو سرے سے انگریزی کو پاکستان سے نکال باہر کرناچاہتا ہے۔ حالانکہ میر ایہ مقصد نہیں تھا کیونکہ ایسا کرنے سے ملک ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا اور ملٹی نیشنل کمپنیز میں اور مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں ہمارے لوگوں کو نوکریاں نہ ملیں گی میرا مقصد تو صرف یہ تھاکہ انگریزی کو ہمارے عوام کی ترقی میں سدا راہ نہ بنایا جائے اور مقابلے کے امتحانات انگریزی کے علاوہ اردومیں بھی دینے کی اجازت دی جائے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اپنے اس تاریخی فیصلہ میں کہا ہے کہ انگریزی بین الاقوامی ٹریڈ اور کامرس کی زبان ہے اور اس کو بے دخل کرنے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔ہمارے ملک کا قدامت پسند طبقہ بھی سر سیداحمد خان(رحمتہ) کے علماء کی طرح کا کردار ادا کر رہا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ جو انگریزی پڑھے گا وہ کافر ہو جائے گا چنانچہ ہندو انگریزی پڑھ کر افسر بن گئے اور مسلمان چپڑاسی اور کلرک رو گئے۔یہ تو سرسید احمد خان کی روشن خیالی تھی جنہوں نے انگریزی کی اہمیت سمجھائی اور مسلمانوں کو تعلیمی پستی سے نکالا آج بھی اس روشن خیالی کی ضرورت ہے۔ تاکہ مقابلے کے امتحانات اردو میں بھی دینے کی اجازت ملے اور انگریزی میں بھی۔ اور سرکاری اداروں میں بھی اردو سے کام لیا جائے اورانگریزی کی بالا دستی ختم کی جائے۔