قومی ڈائیلاگ کی افادیت، مگر کس طرح؟

09 ستمبر 2017

مکرمی! 24 اگست 2017ئ؁ کے نوائے وقت میں جناب ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی اور جناب محمد سلیم بٹ نے اپنے جدا جدا کالموں میں قومی ڈائیلاگ کی اہمیت اور افادیت پر جس دل سوزی سے اظہار خیال کیا ہے اس سے کسی محب وطن کوانکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا گرنیڈ قومی ڈائیلاگ ہونے اور اس کی سفارشات سامنے آنے کے بعدان پر موثر انداز میں عمل درآمد کیسے ہو گا؟ اس سے بیشتر اس ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر جو فالو اپ ہو نا تھا کیا ہمارے قومی سلامتی کے ادارے اس سے مطمئن ہیں ؟ اس لئے ہمیں کسی زیادہ خوش فہمی کاشکار نہیں ہونا چاہئے کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے انعقاد کے بعد آناً فاناً یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ جناب محمد سلیم بٹ کے دقیق تجزیے کے مطابق مسائل بے انتہا زیادہ اور گھمبیر ہیں بڑ ا مسئلہ گڈ گورننس کا لگ رہا ہے جس کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ کیونکہ گھمبیر مسائل سے نمٹنا ہماری سیاسی قیادت کے بس کی بات نہیں لگتی آج بھی سول معاملات عسا کر پاکستان کے اشتراک و تعاون سے سر انجام دیئے جارہے ہیں۔ خدانخواستہ افواج پاکستان ذرا سا ہاتھ پیچھے کھینچ لیں تو سول قیادت کیلئے ایک دن بھی چلنا مشکل ہوجائے۔ آخر کب تک یہ سول معاملات اس طرح چلائے جاتے رہیں گے؟ یہاں تو مردم شماری جیسے معاملات میں بھی فوج کی معاونت ناگزیر تھی۔اگر رضا ربانی کی طرف سے تجویز کردہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا کامیاب بنانا ہے تو جے آئی ٹی کی طرز پرایک قومی ٹاسک فورس کا قیام ضروری ہو گا جو ایک مقررہ مدت کے اندر اس کی سفارشات پر عمل درآمد کرانے کی زمے دار ہو تاہم اس کیلئے جے آئی ٹی کو حاصل و سائل اور اختیارات جیسی سہولیات کی فراہمی ناگریز ہوگی۔(م ش ضیاء اسلام آباد)