مثالی نظامِ حکمرانی

09 ستمبر 2017
مثالی نظامِ حکمرانی

مکرمی! ہندوؤں کا لیڈر مہاتما گاندھی سید نا ابو بکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ کی سیرت کا اس قدر دل دادہ تھا کہ 1935؁ء میں اس نے کانگریسی وزیروں کے نام ایک ہدایت نامہ جاری کیاکہ میں اپنے وزراء کو نصحیت کرتا ہوں کہ وہ ابو بکرؓوعمرؓ کے طریقہ پر چلیں اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ گاندھی جیسا متعصب لیڈر ابو بکرؓ و عمرؓ کی حکمرانی اور عدل کا کس قدو قدر دان تھا۔اسلام کا یہ عدل اور طرز حکومت آج بھی صفحہ ہستی پر موجود ہے۔ برطانیہ اورامریکہ کے طرز حکومت اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ دور عمر کے تاجروں کے ایک قافلہ نے مدینہ منورہ کی عید گاہ میں قیام کیا حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف سے فرمایا کہ یہ لوگ تھکے ماندے ہیں سو جائیں گے تو انہیں کوئی ہوش نہیں رہے گا چلئے ہم دونوں آج رات ان کا پہرہ دیں،کہیں چور ان کا سامان نہ لے جائیں۔ دونوں رات بھر پرہ دیتے اور نوافل پڑھتے رہے اس دوران ایک بچے کی رونے کی آواز آئی آ پؓ اس طرف تشریف لے گئے اور اس کی ماں سے فرمایا اے خدا کی بندی بچے کو مت رلا۔ یہ کہ کر واپس تشریف لے آئے۔ اس کے بعد پھر بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آپؓ پھر تشریف لے گئے اس کی ماں کو وہی بات فرمائی حتیٰ کہ تین بار ایسا ہوا۔ آخر میں آپؓ نے جا کر اس کی ماں کو ڈانٹ کر فرمایا تو کیسی ماںہے؟ تیرا بچہ آج رات بھر کیوں بے قرار رہا؟ (اس نے کہا کہ اے خدا کے بندے اسے معلوم نہ تھا کہ یہ امیر المومنین ہیں) میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں مگر یہ نہیں چھوڑتا۔ آپؓ نے پوچھا کہ اس کا دودھ کیوں چھڑوا رہی ہو؟ کہنے لگی اس لئے کہ حضرت عمرؓ کسی بچے کا وظیفہ ا س وقت تک مقرر نہیں کرتے جب تک کہ وہ دودھ نہ چھو ڑ دے۔ آپؓ نے پوچھا کہ یہ کتنے ماہ کا ہے؟ اس نے عمر بتادی ۔ آپ ؓنے فرمایا جلدی مت کر پھر آپ نے مسجد نبوی میں آ کر صبح کی نماز پڑھائی تو بچوں کے غم میں بہت روئے ۔پھر جب سلام پھیرا تو اعلان کر ا دیا کہ لوگو! اپنے بچوں کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کیا کرو۔ ہم آج کے بعد ہر مسلمان بچے کا وظیفہ مقرر کر دیں گے ۔
(رشید احمد واہ کینٹ)

مثالی ریاست؟؟؟؟

افلاطون نے اپنی کتاب ’’The Republic ‘‘ میں مثالی ریاست کا نقشہ یوں ...