اللہ کا سوال اور مسلم حکمران روہنگیا مسلمانوں کی حا لت زار

09 ستمبر 2017

کالم کا آغاز کرتے ہوئے خیال تھا کی یہ ایک ہلکی پھلکی گفتگو ہو گی لیکن اہلِ قلم ، اہلِ دِل بھی ہوتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ اہلِ دل صورتِ حال کی سنگینی کا اِدراک کرتے ہوئے بھی اسے نظر انداز کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ میانمار (برما) کے حالات پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے مگر یہ پھر بھی کم ہے۔مسلمان اس وقت ایمان کے دوسرے درجے کی زندگی گزار رہے ہیں۔پہلا درجہ یہ ہے کہ ظلم کو آگے بڑھ کر ہاتھ/طاقت سے روک دو۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ زبان / قلم کے ذریعے ظلم کے خلاف آواز بلند کرو ۔اگر یہ نہیں تو دِل میںاس کو ضرور بُرا جانو اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تمام اسلامی حکومتیں ایمان کے تیسرے درجے پر ہیں.... کہ کہیں سے کوئی جاندار آواز نہیں اُٹھائی جا رہی ما سوائے ترکی .... ستاون سے زائد مسلم ممالک میں سے صرف ایک؟ خادمِ حرمین شریفین ان مظالم کے خلاف ایکشن تو دور کی بات ایک لفظ نہیں بولے۔ان سے اچھی تو مالدیپ کی حکومت رہی جس نے برما کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کر لئے۔
خاکسار نے اپنے ایک گذشتہ کالم ’ ’کیا مسلمان کو صادق اور امین نہیں ہونا چاہےے ‘ ‘ میں علاّمہ اقبالؒ کے ایک شعر کا حوالہ دیا تھا:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
بحیثیت امت مسلمہ ہم اس شعر کی عملی تصویر بن چکے ہیں۔ظلم کے خلاف آواز اُٹھانا ، ظلم کو ” تلوار“ سے روکنا .... اب قصّہ ءپارینہ بن چکا۔صرف ایک مسلمان بہن/بیٹی کی پکار پر سات سمندر پار سے مسلم افواج کا میلوں سفر طے کر کے سندھ کی بندرگاہ پر اترنا، تلوار کے زور پر ظلم کا خاتمہ کر کے نہ صرف مسلمان قیدیوں کو رہائی دلوانا بلکہ اپنے پسندیدہ اخلاق کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر دکھا کر مقامی آبادی کو اسلام کی طرف مائل کرنا کہ وہ دل کی خوشی و آمادگی کے ساتھ اسلام قبول کر لیں۔ آج .... جو ہم اس خطے میں بیٹھے ہیں اور ہندوﺅں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں .... یہ محض اُس وقت کے خلیفہ عبد الملک بن مروا ن اور اس کے گورنر جسے دنیا حجاج بن یوسف کے نام سے جانتی ہے، کے بروقت عملی اقدام کی مرہونِ منت ہے۔اب بھی ظلم کو روکنے کے لئے فوجی طاقت ہی چاہےے نہ کہ مذمتی قرارداد یں ! کیا فلسطین، کشمیر وغیرہ کا مسئلہ مذمتی قراردادوں سے حل ہوا؟ جبکہ بوسنیا کا مسئلہ طاقت کے ذریعہ ہی حل ہوا۔
پاکستان .... جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ خاص اللہ کے حکم سے معرضِ وجود میں آیا یہ اللہ کا خاص انعام ہے اور یہ کہ اللہ ” پاکستان “ سے خاص کام لے گا اور یہ کہ احادیث میں جس غزوہءہند کا ذکر ہے اس پیش گوئی کو پورا کرنے میں ” پاکستان “ کا اہم کردار ہو گا۔مگر افسوس ہم بطور پاکستانی بھی دین اور سیاست کو الگ الگ کر کے چنگیزیت کا بالواسطہ ساتھ دے رہے ہیں۔ اس وقت میانمار میں ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان کے نزدیک یہ محض ایک سیاسی مسئلہ ہے ۔ ایک پھیکا سا احتجاج ریکارڈ کرا کے اُس نے اپنا ’ فرض ‘ ادا کر دیا ۔ یہ قطعاََ سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بات دینی حمیت کی ہے جس کو ماسوا چند اسلامی حکومتوں کے سب نے بھُلا دیاہے۔آج اس کالم میں کروڑوں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں پاکستان کی اسلامی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ صرف سیاسی طور پر نہیں بلکہ اسلامی نکتہ ءنظر سے بھی بین الاقوامی سطح پر عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف تحریری و زبانی احتجاج کرے بلکہ اپنے برادر ملک ترکی کے شانے سے شانہ جوڑ کر عملی کارروائی کے لئے ڈٹ جائے اور کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پروا نہ کرے۔ہماری اسلامی ممالک کی ( او۔آئی۔سی ) پنجابی میں ’ او آئی سی فیر ٹُر گئی ‘ یعنی وہ آئی تھی، پھر چلی گئی کے مصداق ہے۔اس پلیٹ فارم سے کبھی بھی، کسی بھی ظلم کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ ایسا پھسپھسا اسلامی پلیٹ فارم بھلا کس کام کا ؟ یہ ۵۷ ممالک پر مشتمل ہے مگر بے نام و بے کام۔اس سے بہتر یہ ہے کہ ترکی، ایران اور پاکستان ایک ایسا بلاک بنائیں جیسے ماضی میں آر سی ڈی بنایا تھا۔ جس میں ظلم کے خلاف بغیر کسی دباﺅ کے عملی اقدام اُٹھائے جائیں ۔قومیں لوگوں پر ظلم کرتی ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتیں تو ہم مسلمان ظلم کو روکنے کے عملی اقدام سے کیوں ڈریں !
حکومتی مصلحتیں اسلامی حمیت کا جنازہ تو نکال ہی چکیں لیکن حکومتی سطح سے ایک مطالبہ کرنے میں کوئی مصلحت آڑے نہیں آ سکتی اور وہ یہ کہ میانمار کی سربراہ سے امن کا نوبل انعام اور حکومتِ پاکستان کا دیا گیا ایوارڈ واپس لیا جائے۔ظلم، ظلم ہے۔حالات کے تحت اُس کی تعریف نہیں بدل سکتی۔کل کی آنگ سان سوچی ، اپنے ہی ملک میں دورانِ قید بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہی تھی اور امن کے نوبل انعام کی حق دار ٹھہری۔آج سوچی کی حکومت میں جو ہو رہا ہے تو کیا ظلم کی تعریف بدل گئی ؟ اگر ظلم سوچی کے خلاف ہو تو ظلم اور مسلمانوں کے خلاف تو من گھڑت خبریں ؟ کیا لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے مانے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ عظیم برادر ملک ترکی کی حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اینٹ کا جواب پتھر سے د یا جائے۔ بحیثیت امتِ مسلمہ ، ہم جب تک ظلم کا مونہہ توڑ جواب نہیں دیں گے، مسلمان مقامی طور پر میانمار، شام، فلسطین،یمن ، کشمیر وغیرہ میں بربرےت کا نشانہ بنتے ہی رہیں گے۔
۶۰ کی دہائی میں قو می اخبارات میں برمی ’ بدھ بھکشو ‘ کی تصاویر شائع ہو تی تھیں جنہوں نے ناک پر رومال باندھا ہوتا تھا اور تمام دنیا میں ہر قسم کے عدم تشدد کی علامت سمجھے جاتے تھے۔اب سمجھ سے باہر ہے کہ برما کے مسلمانوں کا قتلِ عام کون کر رہا ہے؟ آیا یہ بدھ مت کے پیرو کار ہیں یا .... کسی سازش کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ یہ مسلمان غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہے تھے۔یہ نسل در نسل برما کے نہایت پرامن شہری ہیں۔ کیا یہ صرف مذہبی تعصب ہے؟ مانا کہ ان مسلمانوں کو کئی نسلوں سے برما میں رہنے کے باوجود برمی شہریت نہیں دی گئی تویہ کوئی نئی بات نہیں۔مشرقی افریقہ کے تمام ممالک میں نسل در نسل رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو آج تک اِن ممالک کی مکمل شہریت حاصل نہیں۔رواں سال صرف کینیا نے اِن لوگوں کو مکمل شہریت دی ہے۔ان ہی ممالک میں سے یوگینڈا کے صدر عدی امین نے ۱۹۷۳ میںایشیائی باشندوں کو ملک سے بیدخل کیا تھا۔یہ سب کے سب سرمایہ دار اور فیکٹریوں کے مالک تھے۔ میں اُس کی حمایت نہیں کرتا لیکن بات سمجھ میں آتی ہے کہ اُن کے جانے کے بعد حکومت نے ان کے تمام سرمائے اور جائدادوں پر قبضہ کر لیا ۔ تمام بیدخل ہونے والے باشندے کسی نہ کسی ملک سے تعلق رکھتے تھے، وہ سب وہاں چلے گئے۔کوئی قتلِ عام نہیں ہوا ۔ان میں سے اکثریت کو پرنس کریم آغا خان نے پاکستان اور دیگر ممالک میں بسایا۔اِن بے چارے روہنگیا مسلمانوں کا نہ تو کوئی وطن ہے اور نہ اُن کی پشت پر کوئی مضبوط شخصیت ہے پھر وہ خود بھی غربت زدہ ہیں۔نہ ان کے پاس کوئی سرمایہ اور نہ کوئی کارخانہ .... اس کے باوجود یہ قتلِ عام، شہری تسلیم نہ کرنا، ملک سے زبردستی نکالنا سمجھ سے باہر ہے ۔
کیا اسلامی ممالک خصوصاََ پاکستان کے پاس اللہ تعالیٰ کے اِس سوال کا کوئی جواب ہے؟
©©” آخرتمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑ تے جو کمزور پاکر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی اور مددگار پیدا کر دے “ ۔ ( سورة النسآ ء: ۷۵ )
تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو یہ جان لینا چاہےے کہ اُنہیں ہر حال میں اِس سوال کا جواب دینا ہے۔دنیا میں نہیں تو آخرت میں لازمی ہے !