آصف زرداری کی بریت

09 ستمبر 2017

مروجہ سیاست میں پسند نہ پسندکابڑا عمل دخل ہے آپ جس کے ساتھ ہیں وہ چاہے جرائم پیشہ ہے اور عدالتوں میں جرائم ثابت ہونے پر سزایافتہ ہی کیوں نہ ہو آپ کے نزدیک وہ دنیا کا سب سے شریف،دیانتدار اور اچھا ہے آپ جس سے نفرت کرتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی شریف، دیانتدار اور پاکباز ہو آپ کی نگاہ میں بُرا ہی رہے گا۔ ہمارے ہاں شخصیت پرستی ذہنوں میں اِ س قدر راسخ ہو چکی ہے کہ آپ کی نظر میں جو ہیرو ہے چاہے جتنی بھی بُرائیوں میں لتھڑا ہو اچھا ہی رہے گا مگر جس سے نفرت ہے اُس کے اچھے کام بھی آپ کو غلط لگیں گے ۔یہ سوچ یا رویہ بالغ نظر ی سے متصادم ہے جس میں جو بُرائی ہے یا اچھائی ہے تسلیم کرنا ہی فہم ودانش کا تقاضہ ہے شخصیت پرستی کی عینک سے اچھائیوں کو بُرائیاں اور بُرائیوں کو اچھائیاں بنا کر پیش کرنا اخلاقی لحاظ سے بھی معیوب ہے۔
آصف زرداری کوبے نظیربھٹو کاشوہربنتے ہی بدنام کرنے کی مُہم کا آغاز ہو گیا تھا کیونکہ دائیں بازو کے اسلام پسندوں اور بائیں بازوکے لبرلز کی چپقلش زورں پر تھی دائیں بازووالے سمجھتے تھے اگر بے نظیر بھٹو پاکستانی سیاست میں کامیاب ہو گئیں تو اسلامی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے حالانکہ بے نظیر بھٹو ہمیشہ اسلامی اصولوںپر عمل پیرا رہیں۔ سر پر دوپٹہ لیے رکھا مگر اسلام پسندوں سے پسندیدگی حاصل نہ کر سکیں خاتون وزیرِ اعظم کو بدنام کرنے والوں نے آصف زرداری کو بھی نشانے پر رکھا اور طرح طرح کی کہانیاں پھیلا کر ایسی شہرت کردی جیسے ملک میں تمام خرابیوںاوربرائیوں کی جڑ وہی ہوں گیارہ سالہ ضیاالحق دور میں میڈیا پہلے ہی دائیں بازوکی زیرِ اثر آچکا تھا اسی لیے جب موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے کسی چہرے کی ضرورت پڑتی جھٹ آصف زرداری کی ذات پر دشنام طرازی شروع کر دی جاتی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر بھٹو کا شوہر ہونے کی وجہ سے ملک کا بدنام ترین چہرہ بن گئے لوٹ مار کے کیس بنے وہ جیلوں میں گئے تشدد کے دوران زبان بھی کٹ گئی مگر وہ صبر و تحمل سے تختہ مشق بنے رہے سینٹر سیف الرحمٰن جیسے منتقم مزاج کے ستم بھی سہے لیکن لبوں کا تبسم ختم نہ ہو سکا۔ مسلم لیگ ن کے موجودہ دورِ حکومت میں نیب کے آخری ریفرنس میں بھی وہ سرخرو ہو گئے ہیں مگر سوچنے کی بات ہے اگر آصف زرداری گناہگار تھے تو اچانک پاک صاف کیسے ہو گئے اور اگر بے گناہ تھے تو جھوٹے ریفرنس دائر کرنے والے سے بازپُرس کون کرے گا؟۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں پاکستانی معاشرہ کی تقسیم اب ختم ہو چکی ہے میڈیا پر سرکاری کنٹرول بھی نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی میڈیا کے مخصوص لوگ آصف زرداری کی ذات پر سنگ زنی سے گریز نہیں کرتے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو آصف زرداری کی ذات سے خدا واسطے کا بیر ہے مگر مہذب معاشرہ میں الزام تراشی نہیں چلتی ثبوت پر فیصلے ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں ثبوت نہیں حریف پر الزام تراشی پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے گزشتہ الیکشن میں میاں شہباز شریف جلسوں کا ماحول گرمانے کے لیے آصف زردار ی کا پیٹ پھاڑ کرلوٹ مار کا مال برآمد کرنے کے دعوے کرتے تھے وہ کہتے تھے لاہور اور لاڑکانہ کی گلیوں میں آصف زرداری کو اُلٹا نہ لٹکایا اور گلیوں میں نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں پھروقت کی آنکھ نے حیران کُن منظر دیکھا کراچی میں شہباز شریف نے آصف زرداری سے ملاقات کی کوشش کی مگر سابق صدر نے انکار کردیا جس پر خادمِ اعلٰی کو الیکشن کے دوران کی گئی باتوں پر معافی مانگنا پڑی اسی طرح آصف زرداری رائیونڈ آتے ہیں تو میاں نواز شریف بطور وزیرِ اعظم ائرپورٹ سے خود گاڑی چلا کر گھرلاتے ہیں ۔ستر کے قریب کھانے پیش کرتے ہیں اور اپنے بھائی کی الیکشن میں کی گئی باتوں کو انتخابی مُہم میں کی جانے والی تقریر کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں اب آپ ہی فیصلہ کریں کیا یہ استدلال یا رویہ ٹھیک ہے؟بُہتان طرازی کی ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے؟
قسمت آج مسلم لیگ ن کو اُس موڑ پر لے آئی ہے کہ اُس کی قیادت اپنی جماعت کی حکومت میں مختلف کیسوں کا سامنا کر نے پر مجبور ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ کیسوں کا ذمہ دار آصف زرداری کو ٹھہرا بھی نہیں سکتی مگر آصف زرداری کیس بنانے کا نواز شریف اور سیف الرحمٰن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں حیرانی کی بات یہ ہے کہ تمام کیس مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں ختم ہوئے ہیں یہ ملی بھگت ہے یا واقعی انصاف ہوا ہے ؟مسلم لیگ ن جو بھی موقف اختیار کرے نقصان اُٹھائے گی اور آصف زرداری دونوں صورتوں میں فائدہ میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے حریف جماعت کی حکومت میں پاک صاف ہونے کی سند لی ہے۔
ملک کے سیاسی ماحول میں کسی ایسے صدر کو تلاش کرنے لگیں جوآبرومندانہ طریقے سے ایوان صدر سے رخصت ہوا ہوتو آپ کو آصف زرداری نمایاں نظر آئیں گے گوادر بندرگاہ چین کے حوالے کرنے اور پاک چائینہ اکنامک کوریڈور پر ابتدائی پیپر ورک کرنے والے کو ڈھونڈیں گے تب بھی آصف زرداری کانام آپ نظر انداز نہیں کر پائیں گے اسی طرح ایران سے سستی گیس خریدنے کا سہرا بھی اُنھی کے سرہے گیس معاہدہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایران جس کا جھکاﺅ مکمل طور پر انڈیا کی طرف ہو رہا تھا کچھ بیلنس ہوگیا اور ہاں کئی برس جیل میں گُزارنے اوربیوی بچوں سے دوری برداشت کرنے کے باوجود جلاوطنی کا معاہدہ نہ کیا مگر الزام لگانے والوں نے تو انتہا کردی یہاں تک کہ بیوی کے قتل پر بھی شوہر پر انگلیاں اُٹھائیں۔یہ کیسا رویہ ہے اپنی پارسائی جتانے کے لیے دوسروں کی عزتیں اُچھالنا بھی تو اچھی بات نہیں۔کچھ لوگوں کا الزام لگانا وطیرہ ہے اب آخری ریفرنس کو اسٹیبلشمنٹ کی عنایت کہا جا رہا ہے۔ بھائی حکو مت آپ کی۔ وزیراعظم آپ کا ۔وزیراعلٰی آپ کا۔ اگر ثبوت ہیں تو بسم اللہ کریں عدالتوں میں جائیں اور سزا دلائیں مگر اب تصوراتی کہانیاں کوئی سننے کو تیار نہیں۔