ایشین گیمز میں شرکت کیلئے پاکستان سپورٹس بورڈ کی سات کھیلوں کے اخراجات برداشت کرنے سے معذرت

09 ستمبر 2014

لاہور(چودھری اشرف/ سپورٹس رپورٹر) پاکستان سپورٹس بورڈ نے فنڈز کی کمی اور سپورٹس پالیسی پر پورا نہ اترنے والی کھیلوں کی تنظیموں کے کھلاڑیوں اوو آفیشلز کو17ویں ایشین گیمز میں شرکت کرنے والے قومی دستے سے نکال دیا۔ میگا ایونٹ کے لیے قومی دستے کی تعداد 272 سے کم کر کے صرف 125کر دی جو سرکاری خرچے پر ایشین گیمز میں ملک کی نمائندگی کرینگے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اختر نواز گنجیرا کی زیرصدارت اجلاس میں ایشین گیمز 2014ءکے لئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے انٹری بھجوانے والی 24 کھیلوں میں سے 7 کھیلوں کے اخراجات برداشت کرنے سے معذرت کرتے ہوئے بقیہ 17 کھیلوں کے اتھلیٹس اور آفیشلز میں بھی کمی کر دی ہے جبکہ گھوڑ سواری میں پاکستان کے عثمان خان نے کوریا میں گھوڑے کی بروقت آمد نہ ہونے کی بنا پر میگا ایونٹ میں شرکت سے معذرت کر لی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے اجلاس میں جن سات کھیلوں کو ایشین گیمز کے دستے سے نکالا گیا۔ ان میں آرچری، بیس بال، فٹبال، جمناسٹک، رگبی، ٹیبل ٹینس اور والی بال شامل ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یہ کھیلیں اپنی مدد آپ کے تحت ایشین گیمز میں شرکت کر سکتی ہیں تو پی ایس بی کو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان سپورٹس بورڈ اتنے بڑے دستے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں جن کھیلوں کی تنظیموں کے دستے ایشین گیمز سے نکالے گئے ہیں ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کھیلوں کی تنظیمیں سپورٹس پالیسی پر پورا نہیں اترتیں جس کی بناءپر حکومت ان پر کسی قسم کا سرکاری فنڈز ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ وفاقی وزیر کھیل ریاض حسین پیرزادہ نے رابطہ کرنے پر کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے پاس فنڈز بڑے محدود ہیں جس کے اندر رہتے ہوئے ہیں، ہم اپنے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی کھیلوں میں شرکت کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشین گیمز کے لئے ایسی کھیلوں کی تنظیموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا جس میں پاکستان کوئی میڈل حاصل کر سکتا ہے۔ کوریا میں ایشین گیمز میں فی کس کھلاڑی پر تین سے سوا تین لاکھ روپے زائد کا خرچہ آ رہا ہے جس کی بناءپر پاکستان کے دستے کو مختصر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کھیلیں اپنی مدد آپ یا اپنی انٹرنیشنل باڈی کی مدد سے گیمز میں شرکت کر سکتی ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔