مقبوضہ کشمےر:سےلاب نے 60 سالہ ریکارڈ توڑ دیا‘ ہلاکتیں 200 ہو گئیں

09 ستمبر 2014

سرینگر/ نئی دہلی (اے پی اے+ آئی این پی) بھارتی آرمی چےف جنرل دلبےر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں وکشمےر مےں سےلاب سے متاثر علاقوں مےں جب تک آخری شخص کو محفوظ مقام پر منتقل نہےں کردےا جاتا اس وقت تک اپنی بےرکوںمےں واپس نہےں جائےں گے ۔پےر کو بھارتی مےڈےا کے مطابق مقبوضہ کشمےر کے سےلاب سے متا ثرہ علاقوں مےں بھارتی فوج اور ائےر فورس کے اہلکاروںکا رےکسےو آپرےشن جاری ہے۔ نےشنل ڈےزاسڑ رسپانس فورس کے انسپکٹر جنرل سندےب رائے راٹھو ر کا کہنا ہے کہ سےلاب سے متاثر علاقوں مےں ائےرفورس کے 22 ہےلی کاپٹر ،چار ہوائی جہازپھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لےے جاری امدادی کاروائےوں مےںشامل ہےں۔اسکے علاوہ کشتےوں اور لائف جےکٹس سے لےس 120 فوجی ےونٹس اور پولےس کی آٹھ ٹےمےں امدادی کاروائےوں مےں مصروف ہےں۔مقبوضہ کشمیر میں آنے والے بدترین سیلاب نے گزشتہ 60 سال کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 200 ہوگئی۔ جموں کشمیر میں آنے والے بد ترین سیلاب سے ڈھائی ہزار سے زائد گاو¿ں متاثر ہوئے ہیں۔ سیلابی ریلے کے باعث تیس چھوٹے بڑے پل بہہ گئے اور ساٹھ سے زائد سڑکیں تباہ ہونے سے کئی شہروں کا آپس میں رابطہ منقطع ہوگیا۔
 بارشوں کے باعث سینکڑوں مکانات اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اب تک پچاس سے زائد لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی مٹی کے تودے تلے دبے ہوئے ہیں۔بھارتی نیوی کے ترجمان نے بتایا کہ کمانڈوز کی خدمات لے لیں غوطہ خور بھی نعشیں تلاش کر رہے ہیں‘ جنرل جی ایس ہودا کا کہنا ہے سرینگر اور جنوبی کشمیر میں شہریوں کی محصور بڑی تعداد کو پانی اور خوراک میسر نہیں‘ انہیں نکالنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ سرینگر ائرپورٹ کا رابطہ منقطع ہو گیا

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...