بلاول کی ’’میڈیائی‘‘ تقریر اور شہید بی بی کی تصویر

09 ستمبر 2014

ایک نوخیز نوجوان سیاستدان بلاول بھٹو زرداری کا ویڈیو پیغام ایک ٹی وی چینل سے نشر ہوا جو پیپلز پارٹی کا چینل ہے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری کی مدد سے بہت قریبی بلکہ ’’عنقریبی‘‘ دوست تھے امیر کبیر ہو گئے کہ مختلف کاموں میں حصہ ڈال لیا۔ ایک دوست نے ٹی وی چینل بنا لیا۔ کیپٹل اسلام آباد اس کی مانگ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا بھی ایک چینل ہے جو پاک فوج پر بھی بے جا تنقید کو میڈیائی ضرورت سمجھتا ہے۔ یہ بھی کوئی نظریہ ضرورت ہے جو عدالت کے بعد صحافت میں بھی در آیا ہے۔ ایک چینل عمران خان کی وکالت کرتا ہے، باقی ٹی وی چینلز کسی نہ کسی طرح اندرونی اور بیرونی سرمایہ داروں کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ کام بھی ہوتا ہے مگر وہ بالعموم سب کے سانجھے ہیں اور صحافت کے رانجھے ہیں۔ کچھ بڑے صحافی اس طرح فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف بولتے ہیں کہ وہ سُننے والا فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اُن کے پیسے پورے ہو گئے ہیں۔
مجھے پیپلز پارٹی کے چینل پر اعتراض نہیں ہے مگر جب کوئی چینل کسی کی پارٹی بن جاتا ہے تو اچھا نہیں لگتا۔ بہرحال بلاول بھٹو زرداری کی تقریر اچھی تھی۔ پاکستان زندہ باد تک سب کچھ لکھا ہوا اُن کے سامنے تھا۔ صرف قومی ترانے کی کمی تھی۔ پیپلز پارٹی کا کوئی ترانہ بھی لگ سکتا تھا۔ شاید اطلاعاتی جیالوں کو خیال نہیں آیا۔
بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں
بلاول کی اس ’’قومی تقریر‘‘ کے وقت اُس کے پیچھے شہید بے  نظیر بھٹو کی تصویر تھی۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں مگر کیا حرج تھا کہ اس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر بھی ہوتی۔ انہی کے دئیے گئے نعروں کی کمائی شہید بی بی نے بھی کھائی اور ’’صدر‘‘ زرداری نے بھی کھائی۔ بھٹو تختہ دار پر نہ لٹکتے تو بی بی کب اقتدار میں آتیں اور وہ شہید نہ ہوتیں تو زرداری صاحب کیسے صدر بن پاتے۔ مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا بنگلہ دیش بنانے کی سازش میں بھٹو صاحب کا بھی کوئی حصہ تھا۔ میں نے سوچا کہ میں بھٹو سے عشق کرتا ہوں اب تک اُن کی جانفشانیوں، قربانیوں، جذبوں کی روانیوں اور فراوانیوں کا معترف ہوں۔ کچھ باتیں اُن کی اچھی بھی نہ لگیں۔ میں نے سوچا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب میرے لئے مشکل ہے۔ میں ایک جملہ کہہ رہا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیں۔ بنگلہ دیش نہ بنتا تو بھٹو کبھی مغربی پاکستان (پاکستان) کا حکمران نہ بنتا۔
میری خواہش ہے کہ بلاول کے پیچھے دو تصویروں سے بڑھ کر قائداعظمؒ کی تصویر بھی ہوتی۔ قائداعظمؒ کو ہم نے بُھلا دیا ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں نے تو بالکل بُھلا دیا ہے۔ ایم کیو ایم والے الطاف بھائی کی تصویر لگاتے ہیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ الطاف بھائی کی طویل گفتگو میرے ساتھ فون پر ہوتی رہتی ہے۔ اُن کی بہت سی باتیں اچھی لگتی ہیں کچھ اچھی نہیں بھی لگتیں مگر اُن کے ساتھ قائداعظمؒ کی تصویر بھی ہونا چاہئے۔ اپنے پارٹی کی لیڈر کی تصویر کے ساتھ پاکستان کے لیڈر قائداعظمؒ کی تصویر بھی بہت ضروری ہے۔ ہمارے پارٹی لیڈر کبھی بھی لیڈر نہیں بن سکتے جب تک وہ قائداعظمؒ کے نقشِ قدم پر نہیں چلیں گے۔
اس کالم کے لئے بلاول سے گزارش ہے کہ وہ خفا نہ ہوں۔ اُن کی والدہ شہید بی بی میرے ساتھ بہت تعلق رکھتی تھیں۔ میں اُن کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اُن کے شہید ہونے کے بعد میں اُن سے محبت کرتا ہوں۔ اُن سے میری محبت اُن کی موت کے بعد شروع ہوئی ہے۔ اُن سے آخری ملاقات لطیف کھوسہ کے گھر پر ڈیفنس میں ہوئی تھی۔
 اپنی محبت کی گواہی کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ان کی تصویر میرے گھر میں بھی موجود ہے۔ ان سے بہت اختلافات بھی تھے مگر اعتراف بھی ہے کہ وہ واقعی ایک عالمی سطح کی پاکستانی سیاست دان تھیں مگر انہیں بھی وہ کچھ کرنے نہ دیا گیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں اور یہی بھٹو صاحب کا المیہ تھا بی بی شہید نے چار پانچ صحافیوں کو بلایا تھا کہ ان سے گپ شپ ہو۔ یہ بات مجھے برادرم منور انجم نے بتائی وہ بی بی کے بہت قریبی ساتھی تھے جو فہرست انہیں پیش کی گئی اس میں میرا نام نہیں تھا۔ منور انجم کے سامنے بی بی نے اپنے ہاتھ سے اجمل نیازی لکھ کر فہرست واپس کی۔ 
اس دن شاندار بی بی اور خوبصورت لگ رہی تھیں وہ بہت موڈ میں تھیں یہ کھلکھلاتی ہوئی محفل کئی گھنٹے جاری رہی۔ بلاول کی تقریر کے دوران یہ تصویر اچھی تھی مگر میرے دل میں جو تھا وہ میں نے بیان کر دیا۔ یہ ٹی وی والوں کی نالائقی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ خوشامدانہ انداز کی ایک بے جا شکل بھی ہو سکتی ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بلاول کے والد کی مہربانیوں سے امیر کبیر ہونے والے ’’دوستوں‘‘ کو خیال کئے آئے کہ ان کی کسی حرکت سے پاکستان سے محبت کرنے والوں کو دکھ بھی ہو سکتا ہے۔ 
’’صدر‘‘ زرداری کی جیب سے ہمیشہ بی بی کی تصویر نکلتی تھی۔ انہوں نے اس طرح بی بی کی موت کے بعد فائدے اٹھائے۔ ایک لطیفہ یاد آ گیا یہ اس صورتحال کے لئے نہیں ہے۔ ایک آدمی کے بٹوے سے فلم سٹار نیلی کی تصویر گر پڑی۔ بیٹے نے اٹھا کر تصویر دی تو باپ نے گھبرا کر کہا جب میں نے بٹوے میں ڈالی تھی تو تمہاری ماں کی تصویر تھی۔ پڑے پڑے نیلی ہو گئی ہے۔  ’’صدر‘‘ زرداری نے بھٹو صاحب کا ذکر بھی خوب خوب کیا۔ مگر ان کے منہ سے قائداعظمؒ کا لفظ کبھی نہ نکلا۔ اور وہ پاکستان کے صدر تھے جو قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔ ان کی جیب میں بی بی شہید کی تصویر ہوتی تھی اور ایسے لوگ بھی ہیں کہ بی بی کی تصویر ان کے دل میں ہے وہاں بھٹو صاحب کی تصویر بھی اور قائداعظمؒ کی تصویر بھی ہے۔ مجھے ایک دفعہ پیپلز پارٹی کے لئے درد رکھنے والے ایک شیعہ لیڈر نے بتایا کہ انگلستان میں بی بی شہید نے ایک میٹنگ میں کہا کہ کچھ صحافیوں اور کالم نگاروں سے رابطہ کیا جائے کہ وہ ہمارے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس کے لئے جو فہرست بنائی گئی اس میں پہلا نام میرا تھا۔ اس کے لئے زرداری صاحب نے کہا کہ میں اجمل نیازی سے بات کر لوں گا مگر یہ بات انہوں نے کبھی میرے ساتھ نہ کی کہ شاید انہیں معلوم ہے کہ میں سچ کی گواہی میں لکھتا ہوں۔ تعریف یا تنقید میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک کوئی اسے اپنے لئے حق دار ثابت نہ کر دے۔ میں نے قیدی زرداری صاحب کے لئے بھی لکھا کہ ان کے مقدمے کا  فیصلہ کرو۔ ورنہ اسے جیل سے نکالو۔ انہی دنوں میں میرے مرشدومحبوب، مجاہد صحافت ڈاکٹر مجید نظامی نے زرداری صاحب کو مرد حُر کا خطاب دیا تھا جسے جیالوں نے نیک نامی کے لئے استعمال کیا۔ کاش ’’صدر‘‘ زرداری بھی اس خطاب کی لاج رکھتے اور وہ توقعات پوری کرتے جو لوگوں نے ان کے ساتھ قائم کی تھیں۔ اس حقیقت کا اعتراف خود زرداری صاحب نے میرے ساتھ کیا تھا مگر وہ کسی توقع پر پورا نہ اتر سکے۔ البتہ انہوں نے سیاست دانوں کو حیران کر دیا کہ کامیاب اور روایتی سیاست یہ ہے جو میں کر رہا ہوں۔ ابھی تک سیاستدان بالعموم اور نواز شریف بالخصوص  ان کی سیاست کو نہیں سمجھ سکے۔ نواز شریف نے زرداری صاحب کے لئے مرد حُر کے خطاب کے حوالے سے شکایت کی تھی تو مجید صاحب نے فرمایا… آپ پاکستان میں رہتے اور قیدوبند کی سختیاں برداشت کرتے تو میں تمہیں بھی کوئی خطاب دیتا کہ دنیا والے حیران رہ جاتے مگر یہ موقعہ کبھی نواز شریف نے مجید نظامی کو نہ دیا۔ 
اپنی تقریر میں بلاول نے پاک فوج کی بہت تعریف جو اچھی لگی۔ ان کے کئی بیانات مجھے پسند آئے کہ ایسی بات بڑے بڑے سیاست بھی نہیں کر سکتے۔