دفاعی کمیٹیوں میں سول ملٹری ڈائیلاگ شروع کئے جائیں، فوج بلانے کا فیصلہ واپس لیا جائے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں مطالبہ

09 ستمبر 2014

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ خبر نگار خصوصی + وقت نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں بعض ارکان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو غیر قانونی طریقے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا باہر بیٹھے لوگوں کے بھی مسائل ہیں ان پر بھی بات ہونی چاہئے۔ مشترکہ اجلاس میں عالمی یوم خواندگی کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک سے جہالت کے خاتمے اور 100 فیصد شرح خواندگی کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں۔ قرارداد وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیش کی۔ ارکان نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بقاء آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی یا سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں میں سول ملٹری ڈائیلاگ شروع کئے جائیں۔ وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو دارالحکومت میں بلانے کا فیصلہ واپس لیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا ہے کہ اقلیتوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک صوبے کی گلیوں اور بازاروں سے واقف نہیں۔ خیبر پی کے میں اقلیتوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر بابر غوری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آرٹیکل 243 کے نفاذ کا فیصلہ درست تھا۔ پارلیمنٹ کا کردار سب کیلئے ہے ہمارا کردار کسی کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف الیکشن تک پارٹی کے امیدوار تھے وزیراعظم بننے کے بعد وہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ استعفٰی کا مطالبہ ناجائز ہے۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی کچھ تقاریر مناسب نہیں تھیں۔ اشاروں میں ایک ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی جرگے کی آئین میں گنجائش نہیں۔ مذاکرات پر مذاکرات ہوتے ہیں، پھر پتہ چلتا ہے کہ ڈیڈ لاک ہو گیا۔ پارلیمنٹ قوم کے ہر فرد کے لئے ہے۔ یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں کسی سے جنگ کیلئے بیٹھے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی گرفتاریاں ہو جاتیں تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ مذاکرات کیوں کامیاب نہ ہوئے۔ اسحاق ڈار نے جو اہداف مقرر کئے وہ پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔ پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہ ہونا افسوسناک ہے۔ بلوچستان کو بلدیاتی انتخابات کرانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ بلدیاتی انتخاب ہوتا تو سیلاب زدہ علاقوں میں کام کیا جاتا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیلاب نے مختلف اضلاع میں تباہی مچائی ہے۔ ایوان کو سیلابی صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ منگلہ ڈیم میں پانی تشویشناک حد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ایوان کو سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کروں گا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کنٹینر کی چھت سے ہو رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں استعفے کا مطالبہ نہیں کیا۔ نیا پاکستان پرانے سکرپٹ سے بنے گا نہ ہی اس سے انقلاب آئیگا پارلیمنٹ میں یکجہتی نہ ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلے کرنے میں تاخیر کی جس سے بحران نے جنم لیا حکومت گردن کو اکڑ کر نہ رکھے ہٹ دھرمی کا رویہ حکومت کیلئے خطرناک ہے۔ شاہ محمود قریشی کو ایوان میں خوش آمدید کہا انہوں نے مانا کہ پارلیمنٹ سیاسی قبلہ ہے۔ پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں کنٹینر سے استعفٰی کا مطالبہ کرنا اور بات ہوتی ہے۔ کینیڈین شہری کفن لہرا کر لوگوں سے کہتا ہے کہ پارلیمنٹ میں کوئی داخل نہ ہو کچھ قوتیں ایوان کو ختم کرنا چاہتی ہیں نیا پاکستان پرانے سکرپٹ سے نہیں بنے گا۔ ہمارے دور میں بھی طوفان اٹھا تھا لیکن ہم نے لڑائی جھگڑا نہیں کیا۔ آصف زرداری نے ’’تسی لنگ جاؤ ساڈی خیر ہے‘‘ کی پالیسی اپنائی تھی۔ پارلیمان کو موجودہ کشمکش کا ادراک کرنا ہو گا اقتدار کے ایوان سے نکلنے والے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی دیکھیں شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں تقریر کی تو انہیں کہا گیا کہ تھوکا گیا چاٹ رہے ہو کیا ہمارا چیلنج ہے کہ ایک پارٹی چیئرمین سول نافرمانی کا کہتا ہے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہمیں کیا چیلنجز درپیش ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین پارلیمنٹ کی مشترکہ اجلاس میں شرکت پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کی اپیل پر بارش اور سیلاب سے متاثرین کی بحالی اور امداد کے لئے عوامی تحریک اور تحریک انصاف اپنے احتجاجی دھرنے ختم کر دیں اور گاؤں گاؤں شہر شہر جا کر سیلاب سے متاثرہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد کریں۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے 4 حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ ہو بروقت فیصلے نہیں کئے اور یہ دھرنے اس کا شاخسانہ ہیں۔ وزیراعظم کو غیر قانونی طریقے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ حاجی گل شاہ آفریدی نے کہا کہ دھرنے والے سیلاب زدگان کی مدد کریں۔ وزیر داخلہ نے درگزر سے کام لیا جس سے ان کی عزت پاکستانی قوم کے سامنے بڑھ گئی۔ ہمیں ذات کے خول سے باہر نکلنا چاہئے۔ بابر خان غوری نے کہا کہ باہر بھی عوام بیٹھے ہیں اب تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ پارلیمنٹ کسی کے خلاف بیٹھی ہوئی ہے۔ آرٹیکل 245 کا نفاذ مستحسن فیصلہ تھا۔ آج اس ادارے کی وجہ سے آج ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں اور بات کر رہے ہیں۔ سول نافرمانی کی اپیل اس وقت کی گئی جس وقت زرمبادلہ کے ذخائر بے حد کم تھے بجٹ خسارہ بڑھا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے عوام پر بوجھ بڑھے گا۔ حکومت کو دھرنا والوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔  سینیٹر بابر غوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو اپنے درمیان پا کر ہم بہت خوش ہیں اور میری دعا ہے کہ یہ دھرنے ساری زندگی چلتے رہیں تاکہ ہمارے اوروزیراعظم ایوان کو رونق بخشتے رہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیردفاع خواجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر روز سیلاب کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کریں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدہ صورتحال میں صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ حکومت ٹی وی چینلز پر  حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فرحت اللہ بابر کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کا موقع حاصل کرنے کیلئے قل شریف پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دو دن سے ان کو ایوان میں بات کرنے کا اعلان کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی اہم مسئلہ پیش آجاتا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پیر کو جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تو ایوان کے دونوں جانب کے ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر متعدد ارکان نے چودھری نثار علی خان سے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں فہم و تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا۔ علاوہ ازیں اجلاس میں سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد اور علامہ عباس کمیلی کے بیٹے کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ نجی ٹی وی کی عمارت پر حملے کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید اور عابد شیر علی پریس لاؤنج میں آئے اور صحافیوں کی شکایت سنی۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ہمیں اس صورتحال پر افسوس ہے اور حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ بعدازاں صحافیوں نے واک آؤٹ ختم کر دیا۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ عمران خان میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوگئی ، روزانہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں ، وہ اپنی ذات میں سب سے بڑے فراڈ ہیں ، جو شخص ذاتی جہاز اور ہیلی کاپٹر میں گھومے وہ غریب کی کیا بات کرے گا۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچائی اور تحریک انصاف کے سربراہ ناچ گانے کی محفل سجائے بیٹھے ہیں۔