ساری تباہی بھارت کی جانب سے گنجائش سے زیادہ پانی آنے سے ہوئی، کروڑوں لوگ سیلاب میں گھرے ہیں دوسری جانب دھرنے والوں نے تماشا لگا رکھا ہے: نوازشریف

09 ستمبر 2014

راولاکوٹ (نامہ نگار+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر سیلاب سے آنے والی مشکلات اور مصیبتوں کا مقابلہ کرے گی‘ آزاد کشمیر کے عوام کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے‘ امدادی کارروائیوں اور بحالی کیلئے وفاقی حکومت آزاد کشمیر حکومت کی تمام ضروریات کو پورا کرے گی‘  کشمیر کو سیاحت کا مرکز بنائینگے‘ راولپنڈی مظفر آباد  ریل  منصوبہ  دو سال میں مکمل ہوجائے گا‘ مصیبت زدہ لوگوں  کی  مشکلات کا مداوا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے‘ بھارت سے گنجائش سے زیادہ پانی آنے سے تباہی ہوئی‘ کروڑوں پاکستانی پانی میں ڈوبے  ہوئے  ہیں یہ وقت انتشار کا نہیں اتحاد کا ہے‘ پہلے دھرنوں اور اب سیلاب  نے  ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے‘ پوری قوم دھرنوں کو ناپسند کرتے ہوئے انہیں ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے‘ قوم نے دھرنوں کی سیاست کو مسترد کر دیا، ہم دھرنوں سے گھبرانے والے نہیں‘ دھرنوں سے  چین سمیت تین سربراہان مملکت کا پاکستان کا دورہ ملتوی ہوا‘   قوم کو ساتھ لے کر نئے عزم اور ولولہ سے ان مشکل حالات پر قابو پائینگے ۔ وہ  راولاکوٹ میں آزادکشمیر حکومت کی طرف سے حالیہ بارشوں  اور سیلاب سے آزاد کشمیر میں  ہونے والے نقصانات بارے  دی گئی بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب‘ وزیراعظم چودھری عبدالمجید اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعظم نے اس سے قبل راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔  آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری اور دیگر حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ  آزاد کشمیر میں اب تک 64 افراد جاں بحق اور  109 زخمی ہوئے ہیں۔1800مکان مکمل تباہ جبکہ چار  ہزار سے زائد کو جزوی نقصان پہنچا 185دکانیں بتباہ ہوگئیں۔  بارشوں اور سیلاب سے آزاد کشمیر میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، بجلی کے 9منصوبے بری طرح سے متاثر ہوئے، بارشوں اور سیلاب سے آزاد کشمیر میں 24 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔  انتظامیہ نے فوج کی مدد سے 1122 افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا۔  وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بارشوں اور سیلاب سے پورے آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کو بُری طرح سے متاثر کیا گیا بیشتر رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں‘12 پلوں کو نقصان پہنچا،  پینے کے پانی کی  بہت سی سکیمیں متاثر ہوئیں۔ نقصانات کا تخمینہ  اربوں میں ہے۔  وزیراعظم نے آزاد کشمیر حکومت کو وفاق کی طرف سے مکمل تعاون کا  یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت  بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ آزاد کشمیر کے عوام کی مکمل بحالی تک  ساتھ دے گی اس کے لئے تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائینگے، امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے‘ بے گھر افراد کو محفوظ مقامات پر رکھ کر ان کی خوراک  اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔ ہم مشکلات سے گھبرانے والے نہیں‘ کشمیر کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنائیں گے۔  بارشوں سے آزاد کشمیر  اور پنجاب میں خاص طور پر زیادہ تباہی ہوئی‘ اﷲ کرے سندھ  اس سے بچا رہے۔  دھرنوں کے ذریعے  ہمارے شروع کردہ ترقی کے سفر کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی گئی۔  مالی امداد انسانی زندگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی لیکن  مشکلات سے دوچار لوگوں کے مسائل کا مداوار کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ہم سیلاب متاثرین کی مکمل دیکھ بھال کرکے اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرینگے۔ پاکستان کاہر علاقہ مجھے عزیز  ہے جہاں بھی لوگ مشکل سے دوچار ہونگے میں وہاں پہنچوں گا پنجاب میں بھی سیلاب سے بہت تباہی ہوئی یہ ساری تباہی بھارت کی جانب سے گنجائش سے زیادہ پانی آنے سے ہوئی ہے۔ ایک طرف کروڑوں لوگ  سیلاب میں گھرے ہیں، دوسری طرف اسلام آباد میں دھرنے والوں نے تماشا لگایا ہوا ہے۔ پوری قوم ان دھرنوں کو ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے ناپسند کررہی ہے۔ ہم ترقی کے سفر کی راہ میں پیدا کردہ تمام مشکلات کے باوجود ملکی ترقی کا یہ سفر ہر صورت جاری رکھیں گے ہم ان دھرنوں سے گھبرانے والے نہیں۔  چینی صدر کا دورہ بھی دھرنوں کی وجہ سے ملتوی ہوا۔ چینی صدر کے دورہ کے دوران اربوں ڈالر کے میگا پراجیکٹس کے معاہدوں پر دستخط ہونا تھے  اگر چینی صدر کا دورہ ہوجاتا اور ان معاہدوں پر دستخط ہوتے تو  اس کے نتیجے میں تین سال میں لوڈشیڈنگ ختم ہوجانا تھی۔ پہلے دھرنوں اور اب سیلاب سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، دھرنوں سے ملکی ترقی روکنے کی کوشش کی گئی ہے، اقتصادی ترقی کا سفر پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے۔  وزیراعظم نے آزاد کشمیر حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور متاثرین میں امدادی چیک  بھی تقسیم کئے۔ وزیراعظم نے آزاد کشمیر کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ موقع پر بھی تسلیم کر لیا۔وزیراعظم نے کہاکہ سیلاب کے متاثرین کے تمام نقصانات کوحکومت پاکستان پوراکرے گی، مسئلہ کشمیر کا حل ہماری پہلی ترجیح ہے۔ آزادکشمیرکے وزیراعظم کی طرف سے سپورٹ پر ان کا مشکور ہوں، دھرنوں سے پوری قوم تنگ ہے۔ آزادکشمیرکوجتنی بجلی ضرورت ہوگی پوری کریں گے۔ مقبوضہ کشمیرکے عوام کی بھی ہرممکن امدادکے لیے تیارہیں۔ نیلم ہائیڈرل منصوبہ حکومتوں کی سستی کی وجہ سے تاخیرکاشکار ہے۔اب یہ منصوبہ 2016ء تک مکمل ہوجائے گا۔گلگت بلتستان آزادکشمیر اور پاکستان کے تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر سہولتیں دی جائیں گی۔ جہاں بھی سیلاب کی وجہ سے نقصان ہواہے وہاں خوددورہ کروں گااورعوام کے دکھ دردمیں شریک ہوں گا۔