سیلاب سے تباہی : عمران دھرنے میں رقص و سرود ملتوی کر دیں : شہباز شریف

09 ستمبر 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر+ نامہ نگاران) وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے گزشتہ  روز تحصیل پھالیہ کی  بستی مخدوم، قادر آباد، سرگودھا  اور چنیوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا 8 گھنٹے طویل دورہ کیا اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین، عوامی اجتماعات اور اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا  جہاں جہاں سیلاب ہے میں وہاں پہنچوں گا اور سیلاب متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ آخری سیلاب متاثرہ شخص کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔ سازشیں ہوں یا سیلاب، ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے۔ عمران خان ہر روز ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں۔ ڈیفالٹرز ہم نہیں بلکہ ان کے دائیں بائیں موجود افراد ہیں۔ عوام پوچھتے ہیں کہ عمران بینکوں میں اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالنے اور ٹیکس چوروں کے ساتھ مل کر کونسا انقلاب لانا چاہتے ہیں؟۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں عوام کی خدمت اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لینے والے افسر کو گلے سے لگاؤں گا جس افسر نے کوتاہی کی اسے ایک دن کے لئے بھی برداشت نہیں کروں گا۔ ٰ محمد شہبازشریف نے  بستی مخدوم میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی  سیلاب میں گھرے لوگوں تک خشک راشن ،کھانا اور پانی ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے۔ انہوں نے متاثرہ علاقے میں تین ہزار مزید خیمے بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا  متاثرین خود کو تنہا نہ سمجھیں میں ہر لمحہ ان کے ساتھ ہوں اور آخری متاثرہ فرد کی بحالی تک کاوشیں جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ 5ہزار سے زائد لوگوں کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے ۔9 ہزار سے زائد مویشیوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ مویشیوں کیلئے چارے کا بھی مناسب انتظام موجود ہے ۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں متاثرین کیلئے خاطر خواہ خوراک اور دیگر انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بستی مخدوم میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران ان کے مسائل دریافت کیے اور ان کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ا نہوں نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  ایسا وزیراعلیٰ نہیں ہوں جو مصیبت زدہ عوام کو چھوڑ کر رات کو اسلام آباد میں گانے بجانے میں مصروف رہوں۔ انہوں نے کہا  میں ہر لمحہ اور ہر گھڑی مشکل میں گھرے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔ محمد شہباز شریف نے بغیر کسی پروگرام کے اپنا ہیلی کاپٹر قادرآبادکے سیلاب زدہ علاقے میں کچی زمین پر اتار لیا۔ وزیراعلیٰ کو دیکھ کر عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جنہوں نے شہباز شریف زندہ باد کے نعرے لگائے۔ وزیراعلیٰ نے قادر آباد میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور متاثرین سے مسائل دریافت کئے۔ وزیراعلیٰ نے سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں امدادی مراکز میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا اور موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اوران سے خطاب کرتے ہوئے کہا  آپ کی توقع سے بہت پہلے آپ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور امدادی رقوم متاثرہ لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں بحالی کے کاموں کیلئے قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں اورشہر شہر پھر رہا ہوں۔کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں کوتاہی ہر گز برداشت نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے سرگودھا میں انتظامی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کا جو افسر کام کرے گا اسے گلے سے لگاؤ ں گا۔جس افسر نے کوتاہی کی، اسے ایک دن کے لئے بھی برداشت نہیں کروں گا۔ ان کا کہنا تھا یہ سیلاب میرا ہی نہیں ،عوامی نمائندوں اور افسروں کا بھی امتحان ہے۔ وزیراعلیٰ نے چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کیمپوں میں جا کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔ڈی سی او چنیوٹ نے امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا  انسانی جانوں کا تحفظ ہماری ترجیح ہے لیکن جانوروں کے لئے بھی چارے اوردویات میں کمی نہ آنے دی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ چنیوٹ کو 14 مزید فائبر بوٹس فراہم کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی امدادی کیمپ متاثرین کو نقصانات کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔ مزید براں چنیوٹ کے  نواحی علاقے میں  اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  محمد شہبازشریف نے عمران خان سے اپیل کی وہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع کے پیش نظر اسلام آباد دھرنے میں رقص وسرود اور بیہودہ گانوں کا سلسلہ ملتوی کر دیں۔  انہوں نے کہا  میری خواہش تھی  میں عمران خان سے کہوں  وہ دھرنا ملتوی کر کے پنجاب میں مصیبت زدہ عوام کا ساتھ دینے کے لئے میرے ہمراہ نکلیں۔ لیکن میں نے سوچا  یہ اپیل بے فائدہ ہے۔ کیونکہ جو سیاستدان اپنی پارٹی کے ایک صوبائی وزیراعلیٰ کو دھرنا چھوڑ کر صوبے کے دارالحکومت میں شدیدبارشوں کا شکار ہونے والے خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتا‘ اس سے ایسی توقع بے سود ہے۔ وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار  ایک ضعیف شخص کی باتوں کے جواب میں کیا جس کا کہنا تھا  سیلاب کا یہ عذاب طاہرالقادری کے جھوٹے قرآن اٹھانے اور تحریک انصاف کے جلسے میں ہونے والی فحاشی کے نتیجے میں آیا ہے۔  شہبازشریف نے کہا  میں اس بزرگ کے موقف سے مکمل اتفاق تو نہیں کرتا مگر ذاتی طور پر عام اجتماعات میں اس طرح کے ناچ گانے مجھے پسند نہیں۔  علاوہ ازیں  شہبازشریف اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورکے درمیان گزشتہ روز ملاقات ہوئی۔  جس میں صوبے میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیو ںپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا  سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کیلئے وسائل میں کمی نہیں آنے دیں گے۔  سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کو وہ ذاتی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ گورنر چوہدری محمد سرور نے کہا  شہباز شریف نے متاثرہ لوگوں کو ریلیف کی فراہمی کیلئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ ہمیشہ مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ دریں اثناء  وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف اور ریسکیو آپریشن مزید تیز کیا جائے۔ علاوہ ازیں  وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے فلڈ ریلیف کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے  سیلاب میں گھرے لوگوں کے انخلاء کیلئے مزید ہیلی کاپٹرز اور بوٹس منگوانے کا حکم دیا اور کہا دریائوں کے بند توڑنے کے حوالے سے کوئی سیاسی یا انتظامی دبائو ہر گز برداشت نہ کیا جائے، تکنیکی بنیادوں پر میرٹ پر فیصلے کئے جائیں۔  متاثرہ علاقوں میں فصلوں ،گھروں اور دیگر املاک کے نقصان کے ازالے کے لئے ابھی سے کام شروع کر دیا جائے۔