اسمبلی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے: ہائیکورٹ، وزیراعظم، وزیر داخلہ کی نااہلی کے لئے دائر انٹرا کورٹ اپیل مسترد

09 ستمبر 2014

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن  اور مسٹر جسٹس فیصل زمان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے قومی اسمبلی میں غلط بیانی کرنے پر وزیراعظم نوازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار کو نااہل قرار دینے کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اسمبلی معا ملات میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ اسمبلی میں جو کچھ کہا جاتا ہے، ان الفاظ کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک معاملے میں بیان دینے کا معاملہ اور سارا لفظوں کا کھیل ہے۔ اس میں عدالت کی طرف سے تشریح کرنے کا کوئی معاملہ نہیں۔ وزیراعظم یا فوج  کے  بیان میں سچ کیا ہے اس کی کوئی قانونی تشریح نہیں بنتی اور پھر سچ کا فیصلہ کون کر سکتا ہے؟ درخواست گذار نے جس بیان کو اپنی درخواست کا حصہ بنایا ہے یہ ایک سیاسی بیان ہے اور الفاظ کا چنائو ہے اس میں جھوٹ ثابت نہیں ہوتا۔ اس میں پارلیمنٹ کے استحقاق کی بھی بات ہے۔ تحریک انصاف اس معاملے کو اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اٹھا سکتی ہے۔ وہی مناسب پلیٹ فارم ہے۔ درخواست گزار تحریک انصاف لاہور کے نائب صدر گوہر نواز سندھو نے  انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے فوج کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے قوم سے غلط بیانی کی۔ وہ  آرٹیکل 62 اور63 کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور صادق اور امین نہیں رہے۔ اس کے خلاف رٹ درخواست دائر کی گئی مگر لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ سنگل بنچ  کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو نااہل قرار دیا جائے۔