ممکنہ ماورائے آئین اقدام کیس: سپریم کورٹ خود کو سیاسی معاملات سے الگ رکھے، ق لیگ کا جواب جمع

09 ستمبر 2014

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں ق لیگ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کے حوالے سے کیس میں جواب جمع کرا دیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ معاملات سیاسی ہیں اور ان کا حل سیاسی طور پر ہی نکالنا بہتر ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جبکہ ثالثی جرگے معاملات کو بات چیت کے ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کوئی عدالتی حکم آئینی اداروں کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہو گا اس لیے استدعا ہے کہ سپریم کورٹ خود کو ان معاملات سے الگ رکھے۔ عدالت معاملات کو سیاسی تناظر میں دیکھے، عدالت کی آئینی حدود آئین میں متعین ہیں۔ عدالت سانحہ لاہور میں انصاف کی عدم فراہمی کو دیکھے عدالت عظمیٰ کے کردار پر بھی انتخابات میں دھاندلی کے معاملے پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون میں چودہ افراد کو قتل کیا گیا لوگ انصاف کیلئے لاہور سے اسلام آباد آئے ہیں۔ عدالت مارچ اور دھرنوں کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے حکومت کی آئینی حیثیت بھی مشکوک ہے۔ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو جمہوریت کی جان ہے، آزادی اظہار رائے اور احتجاج بنیادی حقوق ہیں، ق لیگ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔