دھرنے والے جان لیں، نوازشریف سے کسی کا باپ بھی استعفے نہیں لے سکتا: اسفند یار

09 ستمبر 2014

چارسدہ (اے این این+ ثنا نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے  کہا ہے کہ دھرنوں والے ذہن نشین کر لیں نوازشریف سے استعفیٰ کسی کا باپ بھی نہیں لے سکتا، وہ تبدیلی کہاں ہے جس کے لئے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دئیے، پرانے پاکستان نے ہم بے گھر افراد کو عزت کے ساتھ آباد کیا، نئے پاکستان میں آئی ڈی پیز کیمپوں میں پڑے ہیں، لوگ بارش میں مر رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں ناچ رہا ہے، کوئی شریف آدمی رات کو ٹی وی پر فیملی کے ساتھ دھرنے نہیں دیکھ سکتا، جوان بچیوں کے والدین کو ہی شرم کرنی چاہئے۔ ولی باغ چارسدہ میں اے این پی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کسی نے اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا تو اسے نشان عبرت بنا دینگے۔ عجیب کسوٹی ہے ڈیڑھ سال بعد ایک بندے کو دھاندلی کی فکر پڑ گئی۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم مرکز سے استعفے لے رہے ہیں لیکن صوبائی اسمبلی سے استعفے نہیں لئے۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کا ایک یونین کونسل کا ممبر بھی نہیں۔ بلوچستان اسمبلی کو کس لئے تحلیل کیا جائے؟ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف جہاں جیتی وہاں دھاندلی نہیں ہوئی، جہاں شکست ہوئی وہاں دھاندلی ہوئی؟۔  انہوں نے کہا کہ پچھلے تین دنوں سے سیلاب نے پنجاب کی جو حالت بنارکھی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور نیا پاکستان بنانے والے کنٹینر پر بیٹھ کر تماشاکررہے ہیں۔ عمران خان کہتا ہے میں تب یہاں سے اٹھوں گا جب نوازشریف استعفیٰ  دے گا۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ امپائر کی انگلی نہیں اٹھنی، عمران خان کو خود پارلیمنٹ کے سامنے سے اُٹھ جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا نوازشریف حکومت کی ہزار غلطیاں ہیں۔ اگر شروع میں سانحہ ماڈل ٹاون کی ایف آئی آر درج ہوجاتی تو کیا حرج تھا۔ الیکشن کمشن کے فیصلوں کے خلاف جوڈیشل کمشن بن جاتا تو اس میں کونسی قباحت تھی۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کو نئے پاکستان نہیں شادی کی ضرورت ہے انکی شادی کرا دی جائے سب معاملہ ختم ہو جائے گا۔