بھارتی سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں اردو کی سرکاری حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی

09 ستمبر 2014

نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ + نیٹ نیوز) بھارتی سپریم کورٹ نے اردو کے حق میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے اترپردیش میں اردو کی سرکاری حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ اترپردیش کی اسمبلی اور ریاست میں اردو بولنے والوں کی کثرت کے باعث ترمیم کے ذریعے ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی ریاست کی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ اسمبلی کی اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کیلئے ایک تنظیم نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی تاہم عدالت نے اردو کی ریاست کی سرکاری زبان کی حیثیت برقرار رکھی۔ شہریوں کی لسانی آزادیوں کا اعادہ کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کی مقننہ پر اپنے شہریوں کی سہولت کے لیے کسی بھی مقامی زبان کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دینے پر کوئی قدغن نہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی بھی ریاست میں وسیع پیمانے پر بولے جانے والی کسی بھی مقامی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے سے اس زبان میں سرکاری خط و کتابت، سرکاری اشتہارات، ہدایات اور معلومات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ بھارتی سپریم کورٹ کا آئینی بینچ چیف جسٹس آر ایم لودھا، جسٹس دیپک مسرا، مدن بی لوکور، کورین جوزف اور ایس اے بودے پر مشتمل بنچ نے اتر پردیش کی ہندی ستیہ سمیلن کی آئینی پٹیشن کو رد کر دیا جس میں اس نے اتر پردیش کی سرکاری زبان کے قانون 1951ء میں ریاستی اسمبلی کی طرف سے کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ ریاستی اسمبلی نے اردو بولنے والی کثیر آبادی کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندی کے ساتھ اردو کو بھی سرکاری زبان قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے اردو کی ریاست کی سرکاری زبان کی حیثیت برقرار رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ریاست کے سماجی اور دانشور حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کی سرکار اردو کی ترویج اور فروغ کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور سرکاری سطح پر اس کو کس حد تک جگہ دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے اس قانونی نقطے پر توجہ مرکوز کیے رکھی کہ آیا کسی ریاستی اسمبلی پر کسی مقامی زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت دینے پر کوئی قانونی پابندی عائد کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ بھارتی آئین کی شق 345 کے مطابق ریاست کی قانون ساز اسمبلی قانون کے ذریعے کسی ایک یا ایک سے زیادہ مقامی سطح پر بولی جانے والی زبانوں کو یا ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...