ظلم اور ناانصافی ملک کا آئین ہے، پارلیمنٹرینز جتنی بھی دیواریں کھڑی کر لیں، انقلاب نہیں روک سکتے: طاہر القادری

09 ستمبر 2014

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ایجنسیاں) طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے، اب غریب مارچ نہ کریں تو کیا کریں۔ ارکان پارلیمنٹ میری جان لے لیں لیکن میں غریبوں کو ان کا حق لے کر دوں گا۔ پارلیمانی ارکان اپنے آپ کو عوامی نمائندے کہتے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کو مضبوط کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی ایک شخص کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ پوچھے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو 14 لوگ شہید اور 90 زخمی ہوئے ان کی ایف آئی آر اور تحقیقات کا معاملہ ابھی تک حل کیوں نہیں کیا گیا اور یہ مظلوم ایک ماہ سے انصاف کیلئے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو انہیں انصاف دلایا جائے۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ ظلم اور ناانصافی اس ملک کا اصل آئین ہے، حکمران آئین میں اکیسویں ترمیم کریں گے تاکہ ان پر قتل کا مقدمہ نہ چل سکے، جمہوریت بچانے کیلئے سب کا گٹھ جوڑ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کو آرٹیکل 9 نظر کیوں نہیں آتا؟ اگر انصاف نہیں دے سکتے تو ناانصافی لکھ دی جائے تو بہتر ہے تاکہ آئندہ کوئی شخص بھی انصاف کی غرض سے یہاں پہ نہ آئے اور ہم دھرنا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ حکومت نے آئین کی دھجیاں اڑا دی ہیں، ارکان اسمبلی نے آئین کو مردہ بنا دیا ہے جس کی واضح مثال سامنے ہے کہ جوڈیشل کمشن کی تحقیقات نے شہاز شریف کو قصوروار قرار دیا ہے لیکن سزا نہیں دی جا رہی اور 24 دن سے انصاف کی غرض سے بیٹھے ہوئے معصوم لوگوں کو کبھی لشکری تو کبھی باغی کہا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ گالیاں دینے کی بجائے آئینی طریقے سے چلا جائے۔ پارلیمنٹیرینز جتنی دیواریں کھڑی کر لیں، انقلاب کو نہیں روک سکتے۔ انقلاب کے شرکاء آئین کا حقیقی نفاذ چاہتے ہیں، یکم اگست سے آج تک کوئی بھی حکومتی شخصیت غریبوں کی دادرسی کیلئے نہیں آئی، پارلیمنٹ کے اندر بیٹھنے والوں کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔