مذاکرات: ایک کے سوا تقریباً تمام باتوں پر اتفاق ہو گیا: اسحاق ڈار، جو کہنا تھا کہہ دیا: شاہ محمود

09 ستمبر 2014

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) حکومتی کمیٹی اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات گذشتہ ر وز کے دوسرے دور کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ تقریباً تمام چیزوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک مطالبے پر بات نہیں ہو سکتی، دو پر قیادت سے مشاورت کے بعد تحریک انصاف کو بتائیں گے۔ دونوں جماعتوں میں بات چیت مکمل ہو گئی۔ دونوں جماعتوں کے قائدین فیصلہ کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دئیے ہم نے جتنی لچک دکھانا تھی دکھا دی جو کہنا تھا وہ حکومتی کمیٹی کو کہہ دیا، اب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ باقی دو مطالبات مانتی ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف نے حتمی پوزیشن حکومت کے سامنے رکھ دی، کامیابی کا انحصار اس پر ہے۔ تحریک انصاف سے مذاکرات کے پہلے دور میں حکومتی ٹیم میں زاہد حامد اور اسحاق ڈار شامل تھے۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت شاہ محمود نے کی۔ پہلے دور کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت سے مذاکرات میں بہت سے معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے اور ہم تعطل توڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاہم دو تین امور اب بھی حل طلب ہیں۔ تحریک انصاف نے آگے بڑھنے کیلئے لچک دکھائی، ہم جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ کوشش تھی کہ فوری تمام معاملات کو حل کیا جائے۔ مذاکرات میں تعطل ختم کرنا چاہتے ہیںلیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، صرف ہماری سنجیدگی کافی نہیں، دوسری جانب سے بھی اس کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ دوسری جانب حکومت اور عوامی تحریک کے درمیان مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عوامی تحریک سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ تکلیف کا مرحلہ ہو تو قوم کی خواہش ہوتی ہے کہ سب ایک ہو جائیں۔ عوامی تحریک سے آج 4 بجے دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، پیشرفت ہوئی ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے تحریک انصاف اور عوامی تحریک دھرنے ختم کر دیں۔ رہنما عوامی تحریک رحیق عباسی نے کہا ہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ یہاں رہ کر بھی متاثرین کی اتنی مدد کر سکتے ہیں جتنی اور کوئی جماعت نہیں کر سکتی۔ علاوہ ازیں ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقات کی جس میں سیاسی امور پر گفتگو ہوئی۔ ادھر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیر صدارت اپوزیشن کے جرگے کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ سراج الحق نے کہا کہ مذاکرات کی گاڑی آہستہ آہستہ ہی چلے گی۔ سینیٹر رحمن ملک کا کہنا ہے کہ حکومت ایسی بہت سی باتیں ماننے پر رضامند ہوگئی ہے جو وہ پہلے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ میڈیا سے گفتگو میں سراج الحق نے کہا کہ وقت سے پہلے قربانی شرعی طور پر جائز نہیں۔ فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانا بڑی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ کر دے عکہ سب فریقین ایک دو قدم پیچھے ہٹ کر ایک دو روز میں ایک معاہدہ طے کر دیں کہ موجودہ کشیدہ حالات یکدم ختم ہو جائیں اور نظام زندگی معمول پر آجائے۔ حکومت، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان ایسے معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں سب کی عزت رہ جائے۔