نواز شریف نے بین السطور مسئلہ کشمیر اور آبی تنازعات کے حل پر زور دیا

09 ستمبر 2014

اسلام آباد(سہیل عبدالناصر) وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کے نام جوابی خط میں بین السطور مسئلہ کشمیر اور دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث آنے والی تباہی پر بھارتی وزیر اعظم نے ہمدردی کا جو خط ارسال کیا تھا اس نے پاکستان کو سیلابوں کی اصل وجوہ کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ جوابی خط کا مسودہ کمال مہارت اور پرکاری سے تیار کیا گیا۔ اب باور کیا جاتا ہے کہ بھارت کی طرف سے وزیراعظم نوازشریف نے جوابی خط میں جو نکات اٹھائے ہیں ان کا کسی نہ کسی طور جواب دیا جائے گا۔ خط کے دوسرے پیراگراف میں وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی ہم منصب کو دعوت دی کہ دونوں ملک سیلابوں کی اصل وجوہات پر توجہ مرکوز کریں اور اپنے عوام کو قدرتی آفات سے بچانے کی تیاری کریں۔ یہ حقیقت تو واضح ہے کہ پاکستان میں سیلاب اس لئے آتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنائے گئے ڈیموں سے بڑی مقدار میں پانی خارج کرتا ہے۔اس اخراج کی اگرچہ پاکستان کو اطلاع دی جاتی ہے لیکن پانی کی اتنی بڑی مقدار سے فوری طور بچنا ممکن نہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات بھی مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر کا مسلہ جس بھی فارمولہ سے حل کیا جائے، اس میں آبی تنازعات کے حل کی گنجائش بھی نکلتی ہے۔ اور بھارت اس جانب آ نہیں رہا کیونکہ ایسے کسی بھی حل کے نتیجہ میں پاکستان کے خلاف اس کی آبی جارحیت کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔