دھاندلی کے الزامات بے بنیاد ہیں عمران خان معذرت کریں ورنہ قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہوں: ظفر اللہ جمالی

09 ستمبر 2014

اسلام آباد (آئی این پی+ ثناء نیوز+ آن لائن) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ عمران خان کے مجھ پر دھاندلی سے انتخابات جیتنے کا الزام بے بنیاد، لغو اور حقائق کے منافی ہے۔ عمران خان ناپختہ سیاست کا مظاہرہ کر رہے ہیں، معذرت نہ کی تو عمران خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ پیر کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میر ظفر اللہ نے مزید کہا کہ 2013ء کے انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کے طور پر این اے 266 جعفر آباد سے انتخاب لڑے، انکے مدمقابل نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے قریبی عزیز سردار سلیم کھوسو نے انتخابات میں حصہ لیا۔ نگران وزیراعظم کا ایک بیٹا تحریک انصاف کا باقاعدہ عہدیدار بھی ہے۔ اسوقت کے نگران وزیراعظم نے مجھے دھاندلی سے ہرانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس حوالے سے حقائق ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے مخالف امیدوار کی درخواست پر میرے حلقے میں دوبارگنتی کرائی گئی، اسکے باوجود میں کامیاب ٹھہرا، میرا مخالف امیدوار معاملہ انتخابی ٹربیونل کے پاس بھی لے گیا جہاں چار ماہ زیرسماعت رہنے کے بعد ٹربیونل نے میرے خلاف الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان پر لگائے گئے الزامات بھی بے بنیاد ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں عمران کے تمام ٹکٹ ہولڈر امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ میر ظفر اﷲ جمالی نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو پرویز مشرف نے وزیراعظم کے لئے نامزد نہ کیا جس پر انہوں نے مجھے وزیراعظم کا ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ 1988ء میں طاہر القادری اپنے کام کی سفارش کیلئے نواز شریف کو میرے پاس لیکر آئے تھے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں میر ظفر اﷲ جمالی نے کہا کہ میثاق جمہوریت فراڈ تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں باریاں لگائی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ عمران خان بذات خود سب سے بڑا فراڈ ہے، وہ ہر بار کسی نہ کسی کی پگڑی اچھالتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک دھاندلی سے نہیں جیتے بلکہ اس کے مخالف کو ڈس کوالیفائی کیا گیا تھا اگر آزادی مارچ میں سے دس بلوچ بھی شریک ہوں تو ہم سیاست سے استعفے دے دیں گے ‘ عمران خان غلط بیانی بند کر دے ورنہ ان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر ینگے۔