بدامنی روکنے کے لئے موجودہ موبائل سیمیں منسوخ کر کے نئی جاری کرنے پر غور کیا جائے گا: صدر ممنون

09 ستمبر 2014

کراچی (سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے، قوم فساد پیدا کرنے والے عناصر کو مسترد کردیں، قوم مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہوجائے تاکہ دہشت گردی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوجائے، بدامنی کی روک تھام کیلئے موجودہ موبائل سمیں منسوخ کرکے نئی جاری کرنے پر غور کیا جائیگا، پوری قوم ملکر بدعنوانی کیخلاف جہاد کرے، کرپٹ لوگوں کے ساتھ رشتے ناطے ختم کردئیے جائیں، سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان دہشتگردی کے عفریت پر جلد قابو پالے گا۔ سیاست کا مقصد انتشار نہیں قوم کے اعتماد کو بحال کرنا ہوتا ہے، اختلافات کے حل کا پلیٹ فارم سڑکیں اور چوراہے نہیں پارلیمنٹ کے ایوان ہوتے ہیں، توقع ہے سیاسی بحران جلد حل ہو جائیگا۔ تاجر صنعتکار اور برآمد کنندگان ملک کی سیاسی صورتحال سے پریشان ہیں۔ سیاست کا مقصد انتشار نہیں، قوم کے اعتماد کی بحالی ہوتا ہے۔ وہ پیر کوچھٹے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان ٹرافی ایوارڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ قوم مضبوط قوت ارادی کے ساتھ افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہوجائے، تاکہ دہشتگردی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے۔ حکومت اور فوج پورے عزم کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے عفریت پر جلد قابو پالے گا۔ تاجر صنعتکار اور برآمد کنندگان ملک کی سیاسی صورتحال سے پریشان ہیں۔ خوشی ہے کہ اختلافات کے خاتمے کے لئے بات چیت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ توقع ہے کہ سیاسی بحران کا جلد خاتمہ ہوجائے گا۔کراچی، آئین اور جمہوری روایات سے باہر نکل کر باتیں کرنے والے جلد دھارے میں واپس آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی سے پریشان ہے۔ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ حکومت جلد ڈالر کی قدر میں کمی کے لئے اقدامات کرے گی۔ کراچی، عوام فسادیوں کو مسترد کرکے حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ خوشحالی کے دروازے کھل سکئیں۔ علاوہ ازیں صدر ممنون حسین سے جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم اور مولانا اسد تھانوی کی قیادت میں علماء کے وفد کی ملاقات ہوئی‘ ملاقات میں علماء نے دینی تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک سے آنے والے طلباء کے مسائل سے بھی صدر مملکت کو آگاہ کیا جس پر صدر مملکت نے علماء کو طلباء کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ صدر نے کہا کہ دینی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کے برابر لانے کے لئے راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کا معاشرے میں فعال کردار بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے‘ دینی مدارس کے طلباء کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے اقدامات کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ علماء ملک سے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔