دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو عمران کو سیاست چھوڑنا پڑیگی: سعد رفیق، جمہوریت ناتواں ہے: پرویز رشید

09 ستمبر 2014

لاہور+ اسلام آباد (ثناء نیوز) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس کو دھرنے میں بلانا غیرقانونی اور بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے، ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدالتی کمیشن میں دھاندلی ثابت نہ ہونے پر عمران کو سیاست چھوڑنی پڑے گی۔ عمران خان کے نوازشریف کو وزیراعظم نہ ماننے سے حکومت کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ضد، انا اور اقتدار کی بھوک کے باعث عمران ذہنی توازن کھو چکے ہیں، چینی صدر کے دورے سے متعلق چینی سفارتخانے کے بیان کے بعد عمران خان کو اقرار جرم کرلینا چاہیے۔کارکنوں کو صبح سیلاب زدگان کی مدد اور شام کو دھرنے کرنے کی ہدایت مذاق ہے، دہشتگردی اور بارشوں سے متاثر خیبر پی کے کو کل وقتی وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اشفاق پرویز کیانی نے پرویز مشرف کی گندگی کو صاف کیا جس سے چودھری شجاعت کو مایوسی ہوئی اور وہ جنرل ریٹائر0 کیانی پر الزامات لگا رہے ہیں، عمران اور طاہر القادری نے نفرت کے زہریلے بیج بوئے ہیں۔ بچوں اور خواتین  کی اوٹ میں دھرنے والے ڈرٹی پالیٹکس کر رہے ہیں یہ وقت سیاست نہیں خدمت کا ہے۔ عمران اور طاہر القادری نے نفرت کے زہریلے بیج بوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پرویز مشرف کی گندگی صاف کی جس پر چودھری شجاعت کو مایوسی ہوئی اور وہ جنرل ریٹائرڈ کیانی پر الزامات لگا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزامات مذاکراتی میز پر پیش کئے جانے چاہئیں۔ حکومت الیکشن ٹربیونلز کے امور میں مداخلت نہیں کر سکتی،  فوٹیج اور نادرا کے ریکارڈ کی مدد سے پی ٹی وی پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان گزشتہ 14 ماہ سے اپنی تقاریر میں الزامات لگا رہے ہیں جنہیں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے نہیں پیش کیا گیا۔ مذاکراتی عمل میں جو مطالبات پیش کئے گئے ان کا تعلق الیکشن کمیشن کے کام کے طریقہ کار سے تھا اور حکومت الیکشن ٹربیونلز کے امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ اگر پی ٹی آئی کو انتخابی ٹربیونلز کے کام کی رفتار قابل قبول نہیں تو پھر عمران خان کو پارلیمنٹ میں اپنی تجاویز پیش کرنی چاہیے۔ ریکارڈ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے عدم تعاون کے باعث زیادہ تر کیسز میں تاخیر ہوئی۔ لانگ مارچ سے قبل حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی وزیراعظم محمد نواز شریف نے دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کیلئے عدالتی کمیشن کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سول نافرمانی کی اپیل خیبر پی کے کے عوام نے بھی مسترد کی جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔ پی ٹی وی کی عمارت کے حملے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوٹیج اور نادرا کے ریکارڈ کی مدد سے حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔ دریں اثناء میڈیا پر ہونے والے حملوں کے خلاف صحافیوں کے واک آؤٹ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ جمہوریت ناتواں ہے اس کیلئے آواز بلند کرتے اور جمہوری مشعل کو روشن رکھیں گے،  میڈیا کے خلاف تند و تیز ہوائیں اس کی شمع گل نہیں کرسکتیں، حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر احتجاج کر نے کی اجازت دی،  جو اصولوں کو نہیں مانتے وہ ایک دوسرے کے بانہوں میں بانہیں ڈال کر کنٹینر پر کھڑے ہیں،  میڈیا پر حملوں کے حوالے سے حکومت کو جدا نہیں پائیں گے،  میڈیا پر حملے والوں کو قانون کے حوالے کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الزامات لگا رہے ہیں تاہم ان کے پاس انہیں ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں۔ عمران خان یہ الزام لگا رہے ہیں کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اردو بازار میں ہوئی تاہم یہ حقیقت ہے کہ بیلٹ پیپرز فوج کی زیر نگرانی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان میں چھاپے گئے جو آرمی کی حفاظت کے تحت تقسیم کئے گئے۔ عمران خان سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ایم آئی بریگیڈیئر کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں تاہم وہ انہیں ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے لانگ مارچ کے آغاز سے قبل ہی دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کے لئے سپریم کورٹ کے ایک کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔