...’’سیاست سے کوسوں دُور…جنرل راحِیل؟‘‘

09 ستمبر 2014

ہندی کا لفظ ’’سیانا‘‘پنجابی اور اردو میں بھی مُستعمل ہے۔ ’’سیانا کا مطلب ہے دانا، عقلمند اور ہوشیار۔ پنجابی کا ایک اکھان ہے’’سو سیانے اِکّو مَت‘‘ یعنی سو دانائوں کی دانائی اور سوچ ایک سی ہوتی ہے۔ پنجابی کے نامور صوفی شاعر حضرت میاںمحمدبخشؒ نے کہا تھا کہ…؎
’’سو سیانے تے متّ اِکّو، ڈھاڈے کولوں ڈرئیے!‘‘
’’ڈاڈھا‘‘ یعنی طاقتور سے ڈرنا چاہیئے۔ پاکستان میں یوں تو بہت سے لوگ ڈاڈھے ہوتے ہیں لیکن سب سے’’ڈاڈھا‘‘ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے۔ جِسے خدائی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہُوئے جب کسی مصیبت میں مُبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں تو کہتے ہیں ’’ہائے اوئے میریا ڈاڈھیا ربّا!‘‘۔ پنجابی میں اللہ تعالیٰ کو محبت اور بے تکلفی سے’’اوئے‘‘ کہا جاتا ہے لیکن کوئی بھی شخص خواہ وہ کِتنا ہی’’ڈاڈھا‘‘ کیوں نہ ہو؟۔ چیف مارشل لاء کو’’اوئے‘‘ نہیں کہہ سکتا۔
کئی بار ایسا ہُوا کہ ہمارے مُلک کے ڈاڈھے لوگوں (سیاسی اور مذہبی لیڈروں) نے مُلک سب سے بڑے ڈاڈھے چیف آف دی آرمی سٹاف کو پُکارا اور درخواست کی کہ مُنتخب وزیرِاعظم تو عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے لہٰذا آپ اقتدار سنبھالنے کی زحمت گوارا کریں، لیکن عام طور پر مارشل لاء کے نفاذ کے بارے میں یا فوج کے سربراہ سے اقتدار سنبھالنے پر!‘‘ سو سیانے اِکوّ متّ‘‘ کا اکھان صحیح ثابت نہیں ہوتا۔ ایک بہت ہی بڑے سیانے بلکہ’’سیانے بیانے سیاست دان‘‘ چودھری شجاعت حسین نے فوج یعنی چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو باقاعدہ ’’دعوتِ اقتدار‘‘ دے دی ہے اور…؎
’’چھیتی بوڑھِیں وے طبیبا، نئیں تاں مَیں مرَ گِیّا!‘‘
کا وِرد کرتے ہُوئے اُس وقت تک کا انتظار بھی نہیں کِیا کہ جنرل راحِیل شریف مُلک کے اندرونی دشمنوں (محب وطن اور غیر محب وطن طالبان) اور دُوسرے دہشت گردوں کو اُن کے کیفرو کردار تک پہنچانے کے عمل سے فارغ ہو جائیں۔ اِس سے پہلے چودھری شجاعت حسین ’’اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت‘‘ دو جرنیلوں جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کو’’اقتدار کی دُلہن‘‘ کو اپنانے کی متّ دے کر باری باری دونوں دُلہائوں کے’’شہ بالا‘‘ کا کردار ادا کر چُکے ہیں۔ جنرل ضیاالحق نے تو چودھری صاحب کو صِرف وفاقی وزیر بنایا تھا لیکن جنرل پرویز مشرف نے تو انہیں وزارتِ عُظمیٰ کا جھُولا بھی جھُلا دِیا تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف کا تقرّر اگر منتخب وزیرِ اعظم کرے تو اُس کے تقرر کے بعد وزیرِ اعظم اُس سے ڈرتا رہتا ہے۔ میڈیا بھی ڈرتا ہے خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا۔ پھر جب کبھی وزیرِ اعظم اور چیف آف دی آرمی سٹاف کی مُلاقات ہوتی ہے تو اُس ملاقات پر تین دِن تک تبصرے ہوتے رہتے ہیں اور تجزیے بھی۔ بھارت میں وزیرِاعظم سے چیف آف آرمی سٹاف کی ملاقات ہو تو کسی اخبار کے ایک کونے میں چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے او ر بس!۔
سابق وزیرِاعظم چودھری شجاعت حسین گجرات کے’’جٹّ‘‘ ہیں۔ اُن کی اپنی ’’متّ‘‘ (رائے) ہے کہ جنرل راحیل شریف مارشل لاء نافذ کرکے بُری بھلی جمہوریت کی صف لپیٹ دیں اور پھِر وہ مارشل لاء پسند سیاستدانوں کے لئے آرمی ہائوس ایوانِ صدر اور اپنے دِل کے دروازے کھول دیں‘‘ لیکن چودھری شجاعت حسین سے عُمر میں سینئر ایک اور سیانے اور ماضی میں عہدے میں بڑے سابق صدرِ پاکستان ضلع گوجرانوالہ کے ’’جٹّ‘‘ جسٹس(ر) چودھری رفیق تارڑ کی ’’متّ‘‘ مُختلف ہے۔ جناب رفیق تارڑ نے 6 ستمبر کو یومِ دفاع کے موقع پر مجاہدِ تحریکِ پاکستان جناب مجید نظامی کے بسائے ہُوئے ڈیرے (ایوانِ کارکنان تحریکِ پاکستان لاہور میں) خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ ’’چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحِیل شریف کا تعلق شُہدا کے خاندان سے ہے اور وہ سیاست سے کوسوں دُور ہیں‘‘۔ جناب رفیق تارڑ تحریکِ پاکستان کے سرگرم کار کُن رہے ہیں اور چیئرمین ’’نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کی حیثیت سے ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کے جانشین ہیں۔ جناب مجید نظامی نے ہمیشہ فوجی آمریت کی مُخالفت کی اور وہ جمہوریت کی بحالی اور فروغ کے لئے نمایاں کِردار ادا کرتے رہے۔ اصولی طور پر کسی بھی چیف آف دی آرمی سٹاف کا فریضہ ’’سیاست کرنا‘‘ نہیں ہوتا لیکن…؎
’’خُدا جب ’’تخت‘‘ دیتا ہے ’’سیاست‘‘ آ ہی جاتی ہے‘‘
جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو اُنہیں مزا آنے لگا اور پھر اُنہوں نے نہ جانے کِس ترنگ میں کہا کہ’’کیا ہی اچھا ہو کہ ہم  سیاسی جماعتوں کے بغیر چلا سکیں؟‘‘ اور جب سیاسی لیڈروں کی طرف سے دبائو پڑا تو اپنی کابینہ سے’’فیلڈ مارشل‘‘ کا ٹائیٹل لے کر صدر ایوب خان نے کہا کہ ’’سیاسی جماعت بنانے کے لئے حکومت سے لائسنس لینا پڑے گا‘‘۔ اِس پر تبصرہ کرتے ہُوئے مشرقی پاکستان کے سیاستدان (نظام اسلام پارٹی کے سیکرٹری جنرل) مولوی فرید احمد نے کہا کہ’’سیاسی جماعتیں شراب کی دُکانیں نہیں ہیں کہ اُن کے لئے  لائسنس لینا پڑے!‘‘۔ تو صاحبو! کسی بھی چیف آف دی آرمی سٹاف کے لئے (مُلک اور قوم کے بہترین مُفاد میں) اقتدار سنبھالنے کے لئے لائسنس تو نہیں لینا پڑتا!۔
اللہ کرے! کہ جنرل راحیل کے بارے میں جناب رفیق تارڑ کا حُسنِ ظن یا نیک گُمان دُرست ثابت ہو اور جنرل راحیل شریف بھی ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کا کلمہ پڑھ کر سیاست دان فوجی حکمرانوں کی فہرست میں اپنا نام نہ لکھوا لیں؟۔ اب تو ڈاکٹر مجید نظامی بھی اللہ کو پیارے ہو چُکے ہیں جو ہر فوجی آمر کے منہ پر کہہ دِیا کرتے تھے کہ’’جنرل صاحب! تُسِیں ساڈی جان کدوں چھڈّو گے؟‘‘۔ جناب رفیق تارڑ نے ’’کوسوں دُور‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ برصغیر میں پاک و ہند میں انگریزوں کی آمد سے پہلے فاصلہ ناپنے کے لئے ’’کوس‘‘ کا پیمانہ استعمال ہوتا تھا۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو یہ پیمانہ  ’’مِیل‘‘ "Mile" بن گیا اور اب پاکستان سمیت کئی مُلکوں میں کلو میٹر جناب رفیق تارڑ پرانے دور کے ہیں۔ اِس لئے انہوں نے’’کوسوں دُور‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔’’کوس‘‘ دو مِیل کا ہوتا ہے۔ یہ جنابِ تارڑ کی خواہش ہو سکتی ہے کہ جنرل راحیل سیاست سے بہت بہت اور بہت ہی زیادہ دُور ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُستاد غلام مصطفیٰ مصحفی نے کِس موڈ میں کہا تھا کہ…؎
’’قیسؔ درماندہ رہا اُس سے تو کوسوں پیچھے!
پھر قدمِ ناقۂ لیلیٰ کو اُٹھانا کیا تھا؟‘‘
جنرل ضیاالحق 90دِن کے لئے اقتدار میں آئے تھے۔ پھر موصوف نے اسلام نافذ کرنے کا فریضہ سنبھال لیا اور کہا کہ ’’آئین کیا ہے؟ چند صفحوں کی ایک کتاب جِسے میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں‘‘۔ ایک پنجابی لوک گیت کا  انگ اور رنگ ملاحظہ فرمائیں…؎
’’رانِیاں!
ہائے او میریا ڈاڈھیا ربّا!
کِینہاں جمِّیاں، کِینہاں نے لَے جانِیاں!
’’لیلیٰ اِقتدار‘‘ کا تو بڑا رکھ رکھائو اور ناز نخرا ہوتا ہے لیکن’’صاحباں اِقتدار تو ہر وقت ’’اُِدھا لے کے لئے تیار رہتی ہے۔…؎
’’مَینوں وی لَے چل نال وے!
بائو سوہنی گڈّی والیا!‘‘