ڈی جی خان: خودسوزی کرنیوالی صائمہ اقبال سپردخاک، لڑکی کے اغوا، اجتماعی زیادتی کے ثبوت نہیں ملے : ڈی پی او

09 ستمبر 2014

ڈیرہ غازی خان ( بیورورپورٹ) اجتماعی زیادتی کا شکار انصاف نہ ملنے پر خودسوزی کر کے موت کو گلے لگانے والی 22سالہ صائمہ اقبال کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے ہے، جبکہ اس کا والد محمد اقبال ویگن ڈرائیور تھا جو چار سال قبل وفات پا گیا تھا اور متوفیہ صائمہ اقبال کے دو بھائی اور تین بہنیں اور ایک والدہ تین مرلہ کے کچے گھر میں رہائش پذیر ہیں والد کی وفات کے بعد اس کی والدہ اور بہنیں پھولوں کے ہار فروخت کر کے اپنا گذر اوقات کرتی ہیں۔ صائمہ اقبال کی والدہ حسینہ مائی نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس کی بیٹی صائمہ اقبال کا نکاح گذشتہ سال ناصر سے ہوا تھا لیکن رخصتی نہ ہو ئی تھی، بعد ازاں علیحدگی ہوگئی۔ حسینہ مائی نے کہا کہ میری بیٹی صائمہ اقبال نانی کے گھر جارہی تھی کہ ملزمان مدثر، نذر، کریم بخش اور عمر نے اغوا کر کے اسے کئی ماہ تک زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی اور ملزموں نے میری بیٹی کا حمل بھی گرا دیا، اس نے مبینہ طور پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا پولیس تھانہ دراہمہ نے تین ملزموں نذر، کریم بخش اور محمد عمر کو بھاری رشوت کے عوض بے گناہ قرار دیکر رہا کر دیا اور جب صائمہ کو علم ہوا تو اس نے انصاف نہ ملنے پر جسم پر پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی‘ اس نے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔ دریں اثناء  وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے مبینہ زیادتی کا شکار صائمہ اقبال کی موت کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ آر پی او کو ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی۔ صائمہ اقبال کو مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔ دریں اثناء ڈی پی او غلام مبشر نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں مقامی پولیس کی تفتیش کے مطابق صائمہ اقبال کو نہ تو اغوا کیا گیا اور نہ ہی اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے شواہد ملے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفیہ صائمہ اقبال اپنے شوہر ناصر اعجاز سے حاملہ تھی اور ناچاقی کے باعث عدالت کے ذریعے اس نے ناصر اعجاز سے تنسیخ حاصل کی اور اپنا حمل بھی ضائع کروا دیا۔ ڈی پی او نے کہا کہ ہم اس کیس کی غیرجانبدارانہ تفتیش کر رہے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔