جماعت اسلامی کا 20 اکتوبر کو بلوچستان کے مسائل پر قومی کانفرنس بلانے کا اعلان

09 ستمبر 2014

اسلام آباد، کوئٹہ (ایجنسیاں) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں بلوچستان کے مسائل اور حالات پر قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی کانفرنس میں بلوچستان کی سیاسی و غیر سیاسی قیادت سمیت ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، حکومت بلوچستان میں فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرے، نواب اکبر بگٹی قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے، بلوچوں میں موجود غربت، پسماندگی کو دور کیا جائے، بلوچستان ملک کا 44 فیصد ہے، اگر پسماندگی اور محرومیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سقوط ڈھاکہ کی طرح قوم کو ایک اور سانحہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ایک امریکی کال پر ڈھیر ہونے والے مشرف نے بلوچستان کو شدید نقصان پہنچایا، اٹھارویں آئینی ترمیم نے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی حل طلب ہے، لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے دھرنے ہمارے چہرے پر داغ کی طرح ہیں، ماضی میں بلوچستان میں حکومت کو مفلوج رکھا گیا، وفاقی حکومت بامعنی مذاکرات کا آغازکرے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہورہا، مسلسل پسماندگی، غربت کی وجہ سے بلوچستان آتش فشاں بن چکا ہے۔ ہمیشہ اسلام آباد کی جانب سے آپریشن ہی ہوتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں شروع ہونے والی تحریک پہلے اپنے حقوق کیلئے تھی جو بعد میں بے حسی کی وجہ سے علیحدگی کی تحریک بن گئی۔ بلوچ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بامعنی مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔ علاوہ ازیں حزب اسلامی افغانستان کے علماء کے وفد نے سراج الحق سے ملاقات کی۔ وفد نے بتایا کہ افغانستان کو نیٹو افواج نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے، جنازہ، شادی اور نہ مسجد و بازار محفوظ ہیں۔ افغانوں کو آج تک کسی بیرونی قوت نے اسلحے و بارود یا فوجی طاقت کے بل بوتے پر فتح نہیں کیا۔ افغانستان پر غیروں کی حکمرانی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔