ورلڈ بنک کے مطالبے پر ایف بی آر افسران کے کڑے احتساب کا نظام بنانے پر غور

09 ستمبر 2014

اسلام آباد(آن لائن) عالمی بینک اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونیوالے آئندہ مذاکرات میں ایف بی آر کے لئے  جامع ٹیکس ریفامز سٹریٹجی اور ایف بی آر کی سینئر مینجمنٹ کے عہدوں کی معیاد کم ازکم دو سال مقرر کرنے کی عالمی بنک کی تجویز کا جائزہ لیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق عالمی بنک نے پاکستان سے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلیے تیارکی جانیوالی جامع ٹیکس ریفامز سٹریٹجی کی نہ صرف وفاقی سطع پر بلکہ صوبائی سطع پر بھی اسکی منظوری لی جائے تاکہ ملک بھر میں یکسوئی اور پْختہ عزم کے ساتھ اس سٹریٹجی پر عمل درآمد کیا جاسکے۔اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ایڈمنسٹریشن کیلئے اہم کارکردگی کے اشاریئے(کے پی آئیز) بھی متعین کئے جائیں جن اشاریوں کی مدد سے ایف بی آر کی کارکردگی کو جانچا جاسکے اور انہی اشاریوں کی بنیاد پر کارکردگی جانچ کر ایف بی آر کی انتظامیہ و افسران کی ترقیاں و تقرریاں اور جزا و سزا کا عمل شروع کیا جائے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر اور اس کی انتظامیہ کے لئے اصلاحات اور ادارہ جاتی پروسیجرز کا واضع روڈ میپ دیا جائے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اہم انتظامی عہدوں پر تعینات افسران کو کم از کم دو سال کی مدت تک کے لیے ان عہدوں پر قائم رہنے کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ عالمی بینک کی طرف سے حکومت کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ  ان عہدوں پر تعینات رہنے کا تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے احتساب کا سخت ترین نظام بھی متعارف کروایا جائے اور جو بھی اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال یا کرپشن و بدعنوانیوں میں ملوث پایاجائے اسکا کڑا احتساب کیا جائے۔