ڈیتھ وارنٹ جاری سزائے موت پر عمل ہوگا؟

09 ستمبر 2014

 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے تھانہ واہ کینٹ کے مشہور مقدمہ قتل کے سزائے موت کے قیدی شعیب سرور کے باقاعدہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجرم کو 18 ستمبر کو پھانسی دیکر عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔
قانون کی حکمرانی تب ہی قائم ہو سکتی ہے جب مجرم کو اسکے کئے کی سزا ملے۔ اگر مجرموں اور قاتلوں کو انکے جرائم کی فی الفور سزا ملنا شروع ہو جائے تو جرائم کافی حد تک کنٹرول ہو سکتے ہیں لیکن جب کسی قاتل کو سزائے موت کا خوف نہیں ہو گا تو پھر فساد فی الارض بڑھے گا۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ 6 سال 2 ماہ سے سزائے موت کی سزا پر عملدرآمد روک رکھا ہے۔ اب سیشن جج راولپنڈی نے ایک قاتل کو سزائے موت دیکر عدالت میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ اگر ان احکامات پر عمل ہو جاتا ہے تو پھر 480 کے قریب ایسے دہشت گرد جنہیں عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور ہزاروں دیگر سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دینا آسان ہو جائیگی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب ہو پائے گا کیونکہ ہم نے یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کر رکھا ہے؟ اس لئے ان کا بھی پریشر ہو گا جبکہ ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی میدان میں کود پڑیں گی اور اوپر کی طرف سے پھر پریشر آ جائے گا۔ حکومت اگر ملک میں امن قائم کرنا چاہتی ہے تو پھر ملزموں اور مجرموں کو انکے جرائم کی سزا ملنی چاہئے اندرونی اور بیرونی طور پر بہت ساری پریشانیوں میں گھرے پاکستان میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا لیکن عدالت کے حکم کی بجا آوری ضروری ہے۔