فوج کو سیاست میں گھسیٹنے ایسے بیانات سے احتراز کی ضرورت

09 ستمبر 2014

 وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے تسلسل پر غیرمتزلزل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا جنرل راحیل شریف جیسے آرمی چیف کی موجودگی میں پاکستان کے معاشی استحکام ، پارلیمنٹ کے تقدس اور جمہوریت کے مستقبل کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جو اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ یقیناً پیشہ وارانہ اور انکے فرائض کا حصہ ہیں۔ اپنے فرائض کی بجاآوری میں قوم پاک فوج کے ہمقدم ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ جنرل راحیل شریف آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے تسلسل پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کو یہ کہنے کی نہ جانے کیوں ضرورت پیش آئی۔ شاید حالات کے تناظر میں انہوں نے یہ بیان دینا ضروری سمجھا ہو جب اسلام آباد کی حساس عمارات کے سامنے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لوگ دھرنا دئیے ہوئے کوئی واضح اور کوئی ڈھکے چھپے الفاظ میں کہتا ہے کہ دھرنوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ موجود ہے۔ یہ فوج کی طرف اشارہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی تو فوج پر دھرنوں کے حوالے سے کھل کر تنقید کر چکے ہیں۔ آج پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا۔ جمہوریت کو بچانے کیلئے سب یکجہت ہو چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کی پارٹیاں مسلم لیگ ن کی اتحادی ہیں۔ شہباز شریف قوم کو جنرل راحیل شریف کی جمہوریت کے بارے میں عزم راسخ باور کرانے سے قبل اپنے اتحادیوں کو آرمی چیف کی جمہوریت کے تسلسل پر غیر متزلزل یقین کے بارے میں قائل کریں۔ بہتر ہے کہ کوئی بھی سیاستدان فوج اور آرمی چیف کے سیاست کے بارے میں خیالات اور کردار کو مثبت و منفی زیر بحث نہ لائے۔ ایسے بیانات سے فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کا تاثر بہرحال پایا جاتا ہے۔

ایسے ہو تو ایسے ہو

قومیں اپنے ایسے افراد کے بل بوتے پر زندہ رہتی ہیں جو مثبت طرز فکر رکھتے ہوں جو ...